وجود

... loading ...

وجود

آئی ہے عید ہر سال کی طرح

پیر 23 مارچ 2026 آئی ہے عید ہر سال کی طرح

ب نقاب /ایم آر ملک

ماہِ صیام کی با برکت ساعتیںہم پر سایہ فگن رہنے کے بعد رخصت ہوچکی ہیں۔بندہ ِ مومن کے حق میں نیکیوں کے موسم ِ بہار کی فیصلہ کن رات بھی گزر چکی ہے۔رب العالمین اپنے بندوں کی مغفرت و بخشش کرتے ہوئے عید کی صبح انعام بھی دے چکے ہیں ایسے حسین ماحول میں وطن عزیز میںوحشتوں کی الم ناک داستانیں۔۔۔پگھلتی ساعتوں کو موم کی جلتی بوند کی صورت وجود کو دہکا رہی ہیں۔۔۔روم روم کو آبلے کی صورت دے رہی ہیں،سانحہ گل پلازہ جہاں زندگیاں راکھ ہوگئیں ،لواحقین کیلئے ہمیشہ کیلئے الم ناکیاں چھوڑ گیا ،پہلی عید زخم تازہ لئے وارد ہوئی ۔ہر گام پر اُجڑی بستیوں کے نوحے ہیں۔۔۔لہولہو روحیں جو ہر ٹیس پر کراہنے کے بعد سانس لے رہی ہیں۔
نارنگ منڈی کی سیماب کاباپ اپنے ادھورے پن کو کس کے نام سے منسوب کرے وہ دکھی ہے ۔۔۔؟ اُس کی جواں سا ل بیٹی نے اسلام پورہ کے ایک کالج کے ہاسٹل کی چھ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگائی اور موت کی تاریک تہوں میں گم ہو گئی گھر کا واحد کفیل بوڑھا باپ جب بیماری کی لپیٹ میں آیاتو گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال دیئے، سیماب نے روز گار کی خاطر بادل نخواستہ دہلیز پار کی تو زندہ دلوں کے شہر میں ایک اخبار میں جاب کرلی ،دو ماہ سے جب تنخواہ نہ ملی تو بیمار باپ کی دوائی کا کوٹہ ختم ہو گیا اورگھر میں نوبت ایک بار پھر فاقوں تک پہنچ گئی ۔گھر سے بار بار فون آرہے تھے اور اخبار والوں سے بار بار تقاضے کے باوجود تنخواہ ملنے کی امید دم توڑ گئی تو سیماب نے انتہائی قدم اٹھایااور زندہ دلوں کے شہر کو ہمیشہ کیلئے خدا حافظ کہہ دیا،جواں بیٹی کی لاش گھر آئی تو بوڑھا باپ ذہنی توازن کھو بیٹھا ۔لاش پر کھڑاوہ بار بارکہہ رہا تھا یہ میری سیماب نہیںاُسے آج تک اپنی بیٹی کے زندہ بچ جانے کی اُمید ہے ۔۔۔ لاشوں کی بستی میں اُسے اُس کے آنے کا انتظار ہے۔۔۔ اُس کی آنکھیں پتھرا چکی ہیں ۔۔۔۔ اُس کے خزاں رسیدہ چہرے کو کون سکون دینے کی کوشش کرے گا۔۔۔ ؟ کون اُس کے ضعیف کندھوں کا سہارا بنے گا۔۔۔؟ کون اُس کے زخموں کو محسوس کرے گا۔۔۔؟
بستی بصیرہ کی پچیس سالہ کنزہ ہے کہ سیلاب کی صورت آنیوالی قیامت نے اُس کے دو بچوں اور خاوند کو تہہ آب سُلا دیا ۔۔۔؟ اُس کے کان پھاڑ دینے والے بینوں کی گونج ابھی تک باقی ہے۔۔۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں ہیں کس طرح اندھیری راہوں کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔ہر سوویرانی ہے ،لاشیں ہیں،بوجھل سانسیں ہیں ،کرچی کرچی وجود ہے، ان ویرانیوں نے اُس کا دامن تھامنا ہے ،اُس نے اُن کا سہار ا بننا ہے ، بھلا روشنیاں کب اُس کی ہیں،اُس کی مانگ کے لئے کہکشاں بنی ہی نہیں۔۔۔ خوشیوں کے لئے تو صدیاں چاہئیں۔۔۔اُس کے پاس تو لمحے ہیں جو ریت کی مانند گرتے جا رہے ہیں ،وہ بہت تہی دست ہے، اُس کے پاس تو اپنی روح بھی نہیں رہی، اُس کے تو آنسوبھی اُس کے اپنے لیے نہیں، اک دکھوں کی ویرانیوں کی باز گشت ہے جو رہ رہ کر دل کی وادیوں سے ٹکراتی ہے، خوشیاں کیا ہیں کچھ یاد نہیں رہا، کتنے دردو الم ہیں جو اُس کی راہ کی رکاوٹ بنے کھڑے ہیں پتا نہیں جینے کا ہنر کہاں ہے۔۔۔؟
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میںپڑے مغیث اور سویرا شاید اب کبھی نہ جان سکیں کہ ماں کی گود کی گرمی کیا ہوتی ہے ، ماں کے سینے سے چمٹ کر کتنا سکون ملتا ہے ،اُنھیں تو یہ بھی علم نہیں کہ بن ممتا کے سگے خون کے رشتے فقیروں جیسا سلوک کرتے ہیں ، کچھ دیتے بھی ہیں تو خیرات سمجھ کر ، کس قدر حقیر ہوجاتا ہے وجود ماں باپ کی چھائوں کے بغیر ، پھر یتیموں کے آنسو اتنے رُخساروں پر نہیں گرتے جتنے دل پر گرتے ہیںاور منہ سے تھپڑوں کے نشان تو مٹ سکتے ہیں مگر روح پر لگے زخم مندمل نہیں ہو سکتے ۔اس عید پر مغیث اور سویرا جیسے کہہ رہے ہوں۔۔۔ ہم جیسے بچوں کا سڑکیں مذاق اُڑاتی ہیں ،رستے طعنے دیتے ہیں،موسم ترس کھا کر دیکھتا ہے، نفرت ہے ہمیں محرومیوں سے، بے چارگی سے ، بے مائیگی سے ۔۔۔ شاید اس لیے کہ یہ سب طوق بن کر ہمارے گلے میں جھول رہے ہیں بُری طرح ہمیں قید کیے ہوئے ہیں۔
والدین کی شفقتوں کے بغیر تو ہر بچہ غلام ہو جاتا ہے ، نہ چاہتے ہوئے بھی جب بغاوت کا احساس جنم لیتا ہے۔۔۔ توہر شب آزادی آزادی پکارتے ہوئے غلامی کی زنجیریں توڑنے کی کوشش کرتے ہیںلیکن ہر طلوع ہوتی ہوئی صبح کے ماتھے پر شکست تحریر ہوتی ہے اور شکست میں قید جھانکتی ہے ۔۔۔ قید میں تو زندگی سسکتی ہے، سلگتی ہے۔۔۔چیختی کرلاتی ہے بالآخر چپ ہو جاتی ہے مگر دل دھڑکتا ہے کہ ہمارے دل کو تو پاپا اور مما کا انتظار ہے۔۔۔جنہیں خبر نہیں کہ ہم ایسے ہو گئے ہیں جیسے آسمان پر پہنچنے سے پہلے لوٹ آنیوالی دعا۔۔۔ماں ہم بکھر رہے ہیں ۔۔۔ بھٹک رہے ہیں ہمیں بھٹکنے سے بچا لو۔۔۔بستی کے ملبے کے ڈھیر پر بیٹھی یہ جواں سال بیوہ روٹی کو ترستے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ، فاقہ زدہ چہرے اَن کہی داستانیں سنارہے ہیں۔پچھلے برس عید کی خوشیاں ان کا مقدر تھیں لیکن آج عید کہاں اور کیسے منائیں۔ ۔ ۔
ننھا اشفاق ماں سے پوچھ رہا ہے امی جان سب لوگ کہہ رہے ہیں آج عید ہے ۔۔۔ ابو تو اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں وہ کیسے عید
منائیں گے؟ ہمیں کپڑے کون لے کر دے گا۔۔۔؟ ہم کس کے ساتھ عید نماز پڑھنے جائیں گے اور پھر ایک درد ناک چیخ ۔۔۔ دل میں
ٹیسیں اُٹھتی ہیں تو زباں سے آہ نکلتی ہے۔۔۔ یہ باپ کے ساتھ بیٹھاخاموش نوجوان دو بھائی روشنیوں کے شہر گئے کہ قیامت آگئی، لڑکھڑاتے قدموں سے گھر پہنچا تو باپ کا آنسوئوں سے بھرا چہرہ سامنے تھا،بھائیوں کو موت کے خونی جبڑوں نے باپ کے سامنے نگل لیا۔ دومعصوم بچوں کی ماں چار دنوں سے فاقوں میں ہے ،ایسے میں کیا چہرے اُداس نہ ہوں۔۔۔؟
وہ پابند سلاسل10ہزار ورکرز ہیں جن کو اپنے جرم بے گناہی کا علم نہیں ،کینسر سے لڑتی ڈاکٹر یاسمین راشد ہے ،25کروڑ عوام کا مسیحا عمران خان جو اندھوں کے شہر میں شیشے بانٹتا رہا اور اس کی بینائی چھین لی گئی ، کیا ہمارے جذبات احساسات اور خواب اس قدر حقیر ہیں کہ تعبیر کے حق سے محروم ہیں ؟اِک جنونی کیفیت پوری قوم کے اندر محروم سوچوں کا لاوا اُگل رہی ہے ایسی سوچوں سے اس قوم کو چھٹکارا کب ملے گا ؟آج جو زخم زخم لوگوں کے چاروں طرف دکھوں کے پہاڑ پھیلے ہیں جنہیں عبور کرنا اور ان کے پیچھے چھپی مسرتیں پانا جن کے لیے ناممکن ہے ان میں سے اکثر حالات کے بھنور میں پھنسے دل کی کرچیوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے ارد گرد بکھرے کانٹوں سے یہ پو چھتے ہوئے جیون ہار رہے ہیں کہ کیا ان کی زندگی کا سرمایہ اشکو ں کی برسات تھی دکھوں کو سسکیوں کے تابوت میں بند کر کے آخر کب تک رکھا جا سکے گا ؟ لاوا تو اُبلتا ہے صبر کے بند ٹوٹ جائیں تو بغاوت کے سیلاب میں سب کچھ فناہوجاتاہے پھر اُن کی عید کیسی ہوتی ہے ؟ کیا ایسی قیامتوں پر کسی دھرتی پر مسرتوں کے گلاب مہک سکتے ہیں ۔۔۔۔؟
غمگین لمحوں کی کہانیاں۔۔۔۔
ہر دل پر دکھ ، غم کی سل رکھ دی گئی ہو تو بہتے جھرنوں کی بات کروں ،بہاروںکی داستانیں سنائوں ،حسین شاموں اور رنگین لمحوں کے قصے سنائوں تو کس طرح۔۔؟
جب چہرے لہو لہو ہوں ، آنکھیں اشک بہا بہا کر تھک گئی ہوں۔۔۔ہچکیوں اور سسکیوں پر قابو نہ ہو۔۔۔۔ عدم تحفظ ،خوف ، بے اطمینانی ،
لاوارث بچوں کو سیاہ ہیولے کی طرح اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہوں۔۔۔ جب دل آنے والے دنوں سے خوف زدہ ہوکر دہل جاتاہو،
چہرے دھواں دھواں ہوںتو وہاں بھی کیا عید خوشیاں لے کر آتی ہے۔۔۔؟
نام نہاد دانشورو !آنکھیں کھولو تمہاری سفلی سانچو ں میں ڈھلی ہوئی دیرینہ سفاکیوں نے کتنی مائوں کی آغوش سے گلاب چھین ڈالے اُن
میں روح تک اُتر جانے والے کانٹے بھر دیئے کتنی بہنیں آنسوئوں میں بھیگے ہوئے آنچل آہوں کی دھوپ میں سکھا رہی ہیں مگر آنچل ہیں کہ
بھیگتے چلے جارہے ہیں۔لاکھوں متاثرہ جسموں کے سر د خانوں میں جینے کی تمنائیں منجمد ہوتی جارہی ہیں ۔ چہروں کی سر خ رنگتوںمیں
زردیوں کے مہیب سائے تسلسل کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں ۔ اس کے شعلہ انتقام میں تمہاری دانشوری ہمیشہ کے لیے جل کر راکھ
ہونے والی ہے!
سلام اُن دلوں کو جن کے درد نے عید پر مصیبت زدگان کو یا درکھا،اُن کے غم اور محرومی کو اپنا دکھ سمجھا ،سلام ہے اُن چہروں پر جنہوں نے عید پر گھروں میں نہ میٹھا پکایا نہ خوبصورت لباس پہنا اور نہ ہی اُن پر مسکراہٹ سجائی،یہ چند لوگوںکی کہانی نہیں وطنِ عزیز کے اٹھانوے
فیصد لوگوںکی یہی کہانیاں ہیں۔۔۔ جو زندہ ہیں مگر زندگی کے لیے ترس رہے ہیں،بھوک فاقوں ،غربت ،بیروزگاری جیسی بیماری سے جن
کے قدم پَل پَل موت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر