... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارتی ریاست آسام کے ضلع ازارا میں انتظامیہ کی مسماری مہم نے تقریباً 500 مسلمان خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے جہاں ایک مخصوص قبائلی پٹی میں ان کے گھروں کو مسمار کیاگیاہے۔حکام کا دعویٰ ہے کہ جو غیر قبائلی افراد سرکاری اعلان سے قبل علاقے میں آباد ہوئے تھے، صرف وہی علاقے میں رہ سکتے ہیں، لیکن متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ وہاں تقریباً دو دہائیوں سے آباد ہیں اورسیلاب اور زمین کے کٹاؤ سے بے گھر ہونے کے بعد سرکاری مراعات بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس مہم میں صرف اقلیتوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔
آگرہ کے گاؤں سیمرہ میں مسلم کش فسادات کے باعث شدید تناؤ اور کشیدگی برقرار ہے، مشتعل اور جنونی ہندئووں نے مسلمانوں کی دکانوں اور املاک کو نذر آتش کردیا جب کہ ایک نوجوان کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا ہے۔گاؤں کے مسلمان مکینوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ خود کو محفوظ تصور نہیں کر ر ہے اس کے باوجود تاحال پولیس نے حملہ آوروں کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کی اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔فسادات کا آغاز دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نو عمر لڑکے اور لڑکی کے گھر سے فرار ہونے کے بعد ہوا، پولیس نے پسند کی شادی کے خواہاں جوڑے کو دہلی سے برآمد کر کے لڑکے کو لڑکی کے اغوا اور اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لے لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پہلی ترجیح نوعمر لڑکے کوعدالت میں پیش کرنا ہے جس کے بعد اگرکسی شہری نے درخواست دی تو ایف آئی آر درج کرلی جائے گی تاہم علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ 25 افراد ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس اسٹیشن گئے تھے لیکن پولیس نے ٹال دیا تھا۔
بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک انتہا پسند مشتعل گروہ نے ہندو خاتون کے اغوا کا الزام لگا کر دو مسلمان گھروں کو آگ لگا دی۔ اترپردیش کے شہر آگرا میں ایک جم کے مالک ساجد نامی شخص پر ایک 22 سالہ لڑکی کے اغوا کا الزام لگایا گیا اوراس کے بعد دونوں گھروں کو لگا دی گئی۔تاحال اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ساجد اور لڑکی کے درمیان گہری دوستی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ بالغ ہے اور مسلمان شخص کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی ہوں۔بھارت میں گزشتہ کئی دہائیوں نے مسلمانوں اور ان کی املاک پر شرپسند ہندوؤں کی متصبانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے، حالیہ حملے بھارتی ریاست تریپورہ میں کیے گئے جہاں بنگلادیش میں ہندوؤں پر تشدد کے خلاف احتجاج ہورہا تھا۔بھارت کے شرپسند ہندوؤں نے ریاست کی ایک اور مسجد کی حرمت کو پامال کیا اور مسجد میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور مسلمانوں کے مکانات اور دکانوں کو نذر آتش کیا جب کہ خواتین کے ساتھی بدسلوکی کی۔بھارتی پولیس نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے، مسجد کی حرمت پامال کرنے اور خواتین سے بدتمیزی کرنے کی شکایات موصول ہونے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ احتجاجی ریلی میں 30 ہزار کے قریب افراد شریک تھے جنہوں نے مسجد میں توڑپھوڑ کی، تین گھروں اور 20 دکانوں کو نذر آتش کیا اور یہ تمام املاک مسلمانوں کی ملکیت تھی۔
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں آر ایس ایس، بھارتیہ جنتا پارٹی اور بجرنگ دل کے غنڈوں نے مسلم آبادی پر دھاوا بول دیا۔دہشت گردی کی یہ واردات مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں کی گئی جس میں ایک درجن سے زائد مسلمان بزرگ، بچے اور خواتین زخمی ہوگئے۔ہندوتوا کے غنڈوں نے ”لَو جہاد” کے نام پر مسلم بستی پر اْس وقت حملہ کیا جب گھر کے مرد اپنے اپنے کاموں پر گئے ہوئے تھے۔مودی سرکار کی آشیرباد سے مسلمانوں کی بستی کو آگ لگائی گئی۔ مشتعل ہجوم گھنٹوں تک گھروں اور املاک میں توڑ پھوڑ کرتا رہا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔مسل بستی پر یہ حملے اْس وقت شروع ہوئے جب وہاں کے ایک لڑکے کی سوشل میڈیا پر ہندو لڑکی کے ساتھ ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔اس ویڈیو کو ہندوتوا کے جنونی غندوں نے لو جہاد کا نام دیا اور مسلم نوجوان کو ڈھونڈتے ہوئے بستی پہنچے تھے۔پولیس کے تحفظ میں ہندوتوا کے مسلح غنڈے آزادانہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں جس سے مسلمان کمیونیٹی شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
بھارتی ریاست آسام کے ضلع گوالپاڑہ میں مودی سرکار نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ ریاست آسام میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن میں صرف مسلمانوں کی املاک کو مسمار کیا گیا۔مودی سرکار نے ریاست آسام کے صرف ایک ضلع گوالپاڑہ کے اْس علاقے میں 700 سے زائد گھر مسمار کیے جہاں مسلمان آباد ہیں۔مودی سرکار کے اس امتیازی سلوک کے باعث ہزاروں مسلمان اپنے بال بچوں اور مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ شدید گرمی، حبس اور مون سون کی بارشوں نے بے گھر مسلمانوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا۔ بچے اور مویشی بیمار پڑ گئے۔ایک افسوسناک واقعے میں 60 سالہ زیتون نشاء شدید گرمی اور بیماری کے باعث انتقال کر گئیں، جو حکومتی بے حسی اور متاثرین کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ آبادی کئی دہائیوں سے یہی رہ رہی ہے، ہمارے پاس گھر کے کاغذات اور شہریت کے قانونی دستاویزات بھی ہیں لیکن اب اچانک کہا جانے لگا ہے کہ ہم لوگ بھارتی نہیں بلکہ بنگلادیشی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق حکومتی حکام ہمیں گھروں سے جبری طور پر بیدخل کرکے زبردستی بنگلادیش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چار بچوں کی ماں متاثرہ خاتون فاطمہ بیگم نے بتایا کہ ایک دن میں ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا ہمارا گھر، ہمارا سامان اور اب میرے بچے گرمی اور بارش میں سسک رہے ہیں۔ ہم صرف عزت اور تحفظ چاہتے ہیں۔ یہ صرف املاک پر حملہ نہیں بلکہ ہماری شناخت پر حملہ ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سنے، ورنہ مزید نقصان ہوگا۔ جن لوگوں کو بیدخل کیا جا رہا ہے اْن کے نام ووٹر لسٹس میں موجود ہیں جبکہ حکومت انہیں باہر سے آیا ہوا قرار دے رہی ہے جبکہ یہ نسلاً اور قانوناً بھارتی شہری ہیں۔انھوں نے حکومت کی طرف سے کسی قسم کی ریلیف نہ دیے جانے پر خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں اور بزرگوں کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک اور حکومتی رویے پر ایک اور تشویشناک مثال ہے۔
٭٭٭