... loading ...
ریاض احمدچودھری
امریکی کمیشن کی رپورٹ میں پہلی مرتبہ بعض بھارتی تنظیموں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ آر ایس ایس اور را جیسے اداروں کے خلاف پابندیوں پر غور کیا جائے، جن میں اثاثے منجمد کرنے اور امریکا میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ان تنظیموں کے کردار کے حوالے سے بھی بین الاقوامی سطح پر مختلف خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ بھارت میں مذہبی اقلیتیں بعض علاقوں میں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کمیشن کے مطابق بعض واقعات میں ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان معاملات میں مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 2023 اور 2024 کی رپورٹس میں بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان رپورٹس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات اور امتیازی قوانین کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا تھا۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ یہ مسئلہ عالمی سفارتی سطح پر بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اپنی رپورٹس میں اس صورتحال پر توجہ دلائی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی پالیسیوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔اسی طرح فریڈم ہاؤس اور اقوام متحدہ کے بعض ماہرین نے بھی مختلف مواقع پر بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس حوالے سے عالمی سطح پر بحث اور سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کو اجاگرکیاگیاجن میں مختلف ریاستوں میں ہجومی تشدد اور فسادات کے ساتھ ساتھ تارکین وطن اور اقلیتوںکو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ حکام نے روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتارکیا اور انہیں زبردستی بین الاقوامی پانیوں میں چھوڑدیا، جبکہ آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”درانداز”قراردیکر بے دخل کر دیا گیا۔
امریکی کمیشن نے مذہبی اداروں پر ریاستی کنٹرول کومزید سخت کرنے پر تشویش کا اظہار کیا جس میںمسلم اوقاف اور دیگر مذاہب کے تعلیمی اداروں کو متاثر کرنے والی قانون سازی شامل ہے۔ کمیشن نے سفارش کی کہ امریکی حکومت ”آر ایس ایس” اور ”را ”جیسے اداروں کے اثاثے منجمدکرے اوران پر ویزا پابندیاں عائد کرے اور دو طرفہ تعلقات کو مذہبی آزادی میں بہتری سے منسلک کرے۔کمیشن نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ملک میں مذہبی آزادی کی صورتحال کے آزادانہ جائزے کی اجازت دے۔ کمیشن نے بھارت کوخصوصی تشویش والا ملک قراردینے کی اپنی پرانی سفارش کا بھی اعادہ کیا۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں ایک اہم اور چونکا دینے والی پیش رفت کے طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را (RAW) اور حکمران جماعت کے نظریاتی مرکز راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) پر ہدفی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ بھارت سے متعلق سفارشات میں کمیشن نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ”افراد اور اداروں پر ہدفی پابندیاں عائد کرے، جن میں بھارت کی را اور آر ایس ایس شامل ہیں”، کیونکہ یہ ادارے مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں یا انہیں برداشت کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ بھارت کے ساتھ مستقبل کی سکیورٹی امداد اور دوطرفہ تجارتی پالیسیوں کو مذہبی آزادی میں بہتری سے مشروط کرے اور آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت بھارت کو اسلحے کی فروخت روکنے پر غور کرے۔ ان پابندیوں میں ان افراد یا اداروں کے اثاثے منجمد کرنا اور انہیں امریکا میں داخلے سے روکنا شامل ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید خراب ہوئی کیونکہ حکومت نے ایسی نئی قانون سازی متعارف کرائی اور نافذ کی جو مذہبی اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتی ہے۔ کئی ریاستوں نے مذہب تبدیل کرنے سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کی کوشش کی اور ان میں زیادہ سخت قید کی سزائیں شامل کی گئیں۔ملک میں مذہبی آزادی تیزی سے زوال کا شکار ہے اور مختلف ریاستی پالیسیوں کے باعث اقلیتوں کے لیے ماحول مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ بعض قوانین اور پالیسیوں کو ناقدین اقلیتوں کے لیے امتیازی قرار دیتے ہیں۔ایسے اقدامات کے باعث مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال تشویش ناک حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
کمیشن نے اپنی سفارشات میں بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث ‘انتہائی تشویش کا حامل ملک’ قرار دینے کی تجویز بھی دی ہے۔ حالیہ برسوں میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی اور امتیازی قوانین کے حوالے سے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔
٭٭٭