وجود

... loading ...

وجود

پاک افغان بگڑتے تعلقات

بدھ 18 مارچ 2026 پاک افغان بگڑتے تعلقات

ریاض احمدچودھری

ہم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف سرحدی جھڑپوں، مہاجرین اور ٹی ٹی پی تک محدود سمجھ رہے ہیں لیکن یہ محض مسائل کی بالائی سطح ہے۔ آئی سی جی کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا، ”طالبان اعلانیہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلق سے انکار کرتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے وہ خود مانتے ہیں کہ نظریاتی اور قبائلی روابط کی وجہ سے وہ ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کر سکتے۔”اور اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے، ” اگر طالبان نے ٹی ٹی پی پر سختی کی تو اس کے ارکان داعش خراسان میں شامل ہو جائیں گے، جو کہیں زیادہ خطرناک اور عالمگیر تنظیم ہے۔”
لووی انسٹی ٹیوٹ (سڈنی) کے مطابق افغانستان افیون سے میتھ ایمفیٹامین کی طرف منتقل ہو کر ”عالمی منشیات کا مرکز” بننے کی راہ پر ہے، جبکہ روس نے چند روز پہلے ہی افغانستان میں ہزاروں غیرملکی جہادیوں کی موجودگی کی خبر دی ہے۔ یعنی افغانستان میں ہر وہ چیز موجود ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے اس پورے خطے کو غیرمستحکم کیا جا سکتا ہے۔ایسٹ ایشیا فورم (آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی) کے مطابق پاک افغان سرحد پر امن کے لیے، ”محض فوجی حکمت عملی کام نہیں دے گی۔ پشتون سرحدی علاقوں میں سیاسی مشغولیت ضروری ہے۔ بغیر پائیدار سکیورٹی تعاون کے یہ دونوں ممالک طویل عرصے تک تصادم کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔”
پاکستان کے پڑوس افغانستان میں امن قائم ہوجائے یہ دلی سرکار کو پسند نہیں۔ پڑوسی سے دشمنی اور پڑوسی کے پڑوس میں بیٹھ کر سازشیں کرنا چانکیہ کا پرانا نسخہ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہرافغانستان سے اٹھ رہی ہے۔ دہشت گردی کی تربیت کے بھارتی مراکز افغانستان سے پاکستان میں کارروائی کرتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے بھارت نے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں، تربیت گاہیں ہیں۔ یہ تربیت گاہیں بھارت کے قونصل خانے ہیں۔ بھارت کے یہ قونصل خانے کالعدم تحریک طالبان کے خفیہ ٹھکانے ہیں۔ بھارت کے یہ خفیہ ٹھکانے مختلف دہشت گرد گروہوں کیلئے پناہ گاہیں ہیں۔نئی دہلی افغانستان کی طرف سے پاکستان کا گھیراؤ کرنا چاہتا ہے۔پاک افغان کشیدگی کی بنیادی وجہ وہ دہشت گرد گروپس ہیں، جنہیں طالبان حکومت نے نہ صرف پناہ دے رکھی ہے، بلکہ اْنہیں یہ چْھوٹ بھی حاصل ہے کہ جب چاہیں، پاکستان میں داخل ہوکر دہشت گردی کی وارداتیں کریں، جن میں فوجی جوان و افسران کے ساتھ، معصوم شہری بھی شہید ہو رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی سفارتی رابطہ ہو، جس کے ذریعے پاکستان نے طالبان حکومت کو وارننگ نہ دی ہو کہ اپنی سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال روکنا اْس کی ذمّے داری ہے۔
بھارت کی جانب سے افغانستان کو ہتھیاروں کی بالواسطہ فراہمی کے اس معاہدے پر پاکستان برہمی ظاہر کرسکتا ہے کیونکہ یہ اسلحہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں میں تقسیم کر کے بھارت اور افغانستان پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان فوجی تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا اور بھارت نے رواں سال اپنی سرزمین پر تربیت پانے والے افغان فوجی اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر 1100 کردی۔
بھارت تیزی سے افغانستان میں قدم جما رہا ہے، چین کی نظریں افغانستان کی تین ٹریلین ڈالر کی معدنیات پر ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی نایاب دھاتوں کی تلاش میں ہیں، جبکہ روس خاموشی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں فی الحال پاکستان اور طالبان ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔
افغانستان میں امریکی فوج کی جگہ بھارتی فوج کو دی جا رہی ہے ۔ بھارت افغانستان کی سرحد پر بیٹھ کر علیحدگی کی تحریکیں منظم کر رہا ہے ۔پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ افغانستان میں ہندوستانی فوج کی موجودگی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کا انڈیا کو خطے کی سپر پاور بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ اگرمودی سرکار نے اپنے انتخابی منشور پر عمل کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی بند نہ کی تودوقومی نظریہ پھر سے بھرپور انداز میں زندہ ہو گا اور ہندوستان کے پچیس کروڑ مسلمان متحدو بیدار ہوجائیں گے جس سے کشمیر سمیت پورے بھار ت کے مظلوم مسلمانوں کا آزادیاں ملیں گی۔ امت مسلمہ کا وجود زخمی ہے، اللہ کے دشمنوں نے ہر جگہ جنگیں برپا کر رکھی ہیں،وہ سازشوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں بداعتمادی پیدا کر رہے ہیں اور اس خطہ کو خاص طور پرامریکہ اورا س کے اتحادیوںنے نشانہ بنا رکھاہے۔ افغانستان میں 7لاکھ افغانی اور ڈرون حملوںکے نتیجے میں ہزاروں قبائلی مسلمان شہید ہوئے ہیں۔ ان کی سازشوں کی وجہ سے پاکستان میدان جنگ بنا، یہاں تشدد کو ابھارا گیا۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میںیہاں خودکش حملے ہوئے جس میں مسلمان ہی لقمہ اجل بنے۔خطے میں دشمن کی حکمت عملی ناکام بنانے کیلئے پاکستان میںچلتی ہوئی گولی کو روکنا اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو کم کرنابہت ضروری ہے۔بعض نام نہاد تجزیہ نگار پاکستانی عوام کی صحیح رہنمائی نہیں کر رہے’ قوم کے مور ال کو گرا یاجارہا ہے۔ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان محفوظ نہیں رہے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں درست نہیں ہیں۔ اتحادیوں کی افغانستان میں شکست مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔اب تو امریکی جرنیل بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے فوجیوں کے پاس اپنی عزتوں و حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے مسلمانوں کے مقابلہ کی تربیت نہیں ہے۔
روس کی طرح امریکہ بھی افغانستان میں بری طرح شکست سے دوچار ہوا ہے۔اتحادی ممالک اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستانی فوج کو سمجھتے ہیں اورشکست کا بدلہ لینے کیلئے وطن عزیز پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں۔علیحدگی کی تحریکوں کو منظم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر