... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی ایک زمانے میں اپنی فقرے بازی کے لیے مشہور تھے مثلاً”دو مئی دیدی گئی” جیسے بے شمار نعرے خوب چلا کرتے تھے لیکن اب وہ خودفقرے بازی کا شکار ہورہے ہیں ۔ آئے دن ان پر کسے جانے والے طعنوں تشنوں کا طوفان آیا ہوا ہے ۔ اے آئی (جعلی ذہانت) کی مدد سے ان کا مذاق اڑانے والے ویڈیوز سے سماجی ذرائع ابلاغ اٹا پڑا ہے ۔ آپریشن سیندور کے بعدجب ٹرمپ نے جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کردیا اور مودی سرکار نے اس کو بلا چوں چرا تسلیم بھی کرلیا تو نعرہ لگا ‘نریندر سرینڈر’ اور پھر وہ موقع بموقع دوہرایا جاتا رہا۔ مثلاً جب ہندوستان سے کہا گیا روس سے تیل نہ خریدو اور سرکار نے اس حکم کی تعمیل میں سرِ تسلیم کر لیا تو پھر ایک بار ‘نریندر سرینڈر’کے نعرے کی گونج سنائی دی۔ امریکہ نے جب فرمان جاری کیا کہ چابہار بندرگا ہ سے نکل جاو ٔاور ہم لوگ بوریا بستر گول کر کے چلے آئے تو پھر یہ نعرے کی بازگشت ہوئی ۔ حکومت ہندجب امریکی ٹیرف کی تمام نامعقول شرائط کو قبول کرلیا تب بھی سرینڈرہونے کاالزام لگا مگر جب سے ایندھن کا بحران پیدا ہوا ہے اس فقرے میں تبدیلی آگئی ہے ۔ اب کہا جارہا ہے ‘نریندر ، سلنڈر غائب’۔ یعنی جب عوام کے چولہے پر مشکل آئی تو مودی جی پھونک مار کر چھو منتر ہوگئے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر فی الحال ایک اہم ترین عالمی فورم برکس کے صدارت کی ذمہ داری ہے اس لیے انہیں مشرق وسطیٰ کی جنگ پر تمام اہم ارکان کو اعتماد میں لے کر ایک بیان جاری کرنا چاہیے تھا لیکن وہاں تو چین اور روس نے ایران کی حمایت کردی ہے ۔ اس لیے برکس کا بیان بھی لامحالہ امریکہ کے خلاف ہوتا اس لیے وہ اپنی اس ذمہ داری کو بھول گئے یعنی عالمی منظر نامہ سے غائب ہوگئے ۔ قومی سطح پر ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ایندھن کا مسئلہ حل کرنے کی خاطر انہیں دہلی میں بیٹھ کر کام کرنا چاہیے مگر وہ بی جے پی کے پرچار منتری کی حیثیت سے مغربی بنگال میں انتخابی مہم چلارہے ہیں اور عالمی و قومی دونوں منظر ناموں سے اپنے جڑواں بھائی نیتن یاہو کی طرح غائب ہیں۔ ان دونوں کا مجازی باپ امریکہ تو اپنے بڑے بیٹے اسرائیل کو سنبھالنے کے لیے باپ میدان میں آگیا مگر جنگ سے ایک دن قبل بلند بانگ دعویٰ کرنے والے چھوٹے بھائی نے مشکل کی گھڑی میں طوطا چشمی آنکھیں پھیر لیں۔ ایران نے جب اسرائیل کا مار مار کر برا حال کردیا تو ہندوستان نے اس کی کوئی مدد نہیں کی ۔
فی الحال سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر نیتن یاہو کے موت کی خبریں گردش کررہی ہیں لیکن اگر وہ غلط ہیں نیز موصوف کسی نامعلوم بنکر میں روپوش ہے تب بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا ؟ یہ صاحب بڑے جوش و خروش سے آئے ۔ اسرائیل کی ایوان میں ایک نہایت اہم اعزاز وصول کیا ۔ خوب چکنی چپڑی باتیں کیں ۔ جنگ و امن میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور واپس جاکر ان سب کو پوری طرح فراموش کردیا ۔ وہ ضرور سوچے گا کہ ایران نے تو حماس سے دوستی کوخوب نبھایا ۔ نہ صرف خود اس کی مدد کرتا رہا بلکہ اپنے حلیف حوثی اور حزب اللہ کے توسط سے بھی ان کی پشت پناہی کی اور بلا خوف وخطر تمام خطرات سے کھیل گیا جبکہ اس کا نام نہاد بھائی بالکل نکماّ نکلا۔ ویسے مستقبل میں بھی اسرائیل ایک گاہک کے طور پر تو ہندوستان کے ساتھ تعلق رکھے گا مگر کبھی بھی اسے اپنا بھائی نہیں سمجھے گا کیونکہ ایسا بھائی کس کام کاجو نازک حالات میں دُم دبا کر بیٹھ جائے ۔
پاسداران انقلاب نے امریکہ کوخبر دار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب حملہ آوروں سے تعلق رکھنے والے کسی جہاز کو گزرنے کا حق نہیں، اگر تمہیں کوئی شک ہے تو قریب آ کر دیکھ لو۔ اس کے بعد انشورنس کمپنیوں نے اپنا پریمیم بہت بڑھا دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بحری دستے سے ان جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کہا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ اس کا کام نہیں ہے ۔ امریکہ اگر ہندوستان کی طرف آنے والے جہازوں کی حفاظت کرنے کا اہل ہوتا تو مودی ایران سے بات نہیں کرتے ۔ ٹرمپ کی بے بسی کے بعد مجبورا ً وزیر اعظم نریندر مودی کا صدر مسعود پزشکیان کو فون کرکے بات کرنا ایک بے معنیٰ مشق ہے ۔ مودی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ”وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب جناب ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی”۔ اس گفتگو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بجائے صدر پزشکیان نے وزیر اعظم کو ایران کی موجودہ صورتحال اور خطے کی حالیہ پیش رفت کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
اس پر وزیر اعظم مودی نے اپنا گھسا پٹا پروچن سناتے ہوئے خطہ میں سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان کے اس مستقل موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ”۔ سوال یہ ہے کہ گفتگو تو جاری تھی اس کے دوران حملہ کرکے اس میں رکاوٹ کرنے کا کام نیتن یاہو نے کیوں کیا اور کیا مودی اس کی مذمت کریں گے اگر نہیں تو یہ مشورہ کھوکھلا ہے ۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے ایران سمیت خطے میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور بہبود کے بارے میں ہندوستان کی ترجیح کو اجاگر کیا اور توانائی اور سامان کی بلا روک ٹوک ٹرانزٹ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا لیکن ایسا کرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ اس بے نتیجہ گفتگو کے آخر میں دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ مودی کی یہ رسوائی ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ اب انہیں تیل کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے پاسداران اور پزشکیان کی شرائط کے آگے بھی سرینڈر ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔انہیں قبول کرنے کے بعد پہلا آئل ٹینکرہر مز سے ہوکر ممبئی آچکا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک مرتبہ جو کمر جھکتی ہے پھر وہ جھکتی ہی چلی جاتی ہے ۔ اسی لیے راہل گاندھی بار بار وزیر اعظم کو ایک کومپرومائزڈ بلیک میل ہونے والا رہنما کہتے ہیں اور ان الزامات کی تردید کرنا بی جے پی کے لیے ممکن نہیں ہے ۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ہم سایہ چین بھی تو ہماری طرح کثیر آبادی والا ملک ہے ۔ وہ بھی ہماری طرح تیل کی دولت سے محروم ہے مگر وہاں کے سربراہِ مملکت پر مودی جیسا برا وقت کیوں نہیں آیا؟ اس کی دووجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ کہ اس نے روس اور ایران جیسے صحیح دوست چُنے اور وہاں سے تیل کی برآمد کا پختہ انتظام کیا جس پر موجودہ بحران اثر انداز نہیں ہوسکا ۔ یہ ممالک ہندوستان کے بھی قریبی دوست رہے ہیں لیکن مودی نے امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی کے لیے دونوں کو چھوڑ دیا۔ اب حالت یہ ہے کہ اسرائیل تو خود تیل کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اس لیے ہندوستان کو کہاں سے دے گا ؟ ویسے امریکہ کی داداگیری جس طرح ہندوستان پر چلتی اتنی چین پر نہیں چل سکتی۔امریکہ نے وینزویلا سے تیل لوٹ کر ہندوستان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کے لیے وہ مکیش امبانی کے ساتھ مل کر امریکہ کے اندر ریفائنری تعمیر کرنا چاہتا ہے ۔ ہندوستان کے بھگت خوش ہورہے ہیں کہ اس طرح ملک کا نام روشن ہورہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سے ہندوستان کی عوام کا کیا فائدہ ہوگا؟
ماضی میں روس مجبوری کے اندر ہندوستان کو سستا تیل بیچتا تھا ۔ اس کی صفائی ہندوستان میں ہوتی تھی اس سے ہمارے ملک کے لوگوں کو روزگار اور ٹرانسپورٹ کرنے والوں کو کام ملتا تھا ۔ سرکار ی خزانے میں ٹیکس آجاتا تھا ۔ اب امبانی کی امریکی ریفائنری وہاں کے لوگ کام کریں گے ۔ اس سے وہ تیل خاصا مہنگا ہوکر اگر ہندوستان آئے گا تو یہاں کے لوگوں کو اس کی اونچی قیمت چکانی پڑے گی لیکن مودی جی کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ ان کو تو امبانی سے ملنے والا چندہ بڑھ جائے گا۔ اس کا استعمال میڈیا پر خرچ کرکے ہوا سازی کے لیے کیا جائے گا اور اس طرح وہ انتخابی جیت درج کرواتے رہیں گے ۔ گودی میڈیا میں ہندو مسلم کھیل کر عوام کو ورغلانے کا کھیل زور و شور سے جاری رہے گا۔ سرکاری خزانے سے لوگوں کا روپیہ انہیں کو ریوڑی کی مانند بانٹ کر ان کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جائے گا۔ اس کے باوجود جو کسر رہ جائے گی اس کو پورا کرنے کی خاطر الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹ چرا لیے جائیں گے ۔ بی جے پی کی سرکار میں عوام قطار میں کھڑی ہوکر گیس خریدتی رہے گی ۔ ان حقائق کا انکار کرکے اسے حزب اختلاف کی چال بتایا جاتا رہے گا ۔ مودی سرکار کی اقتدار میں رہنے کی چانکیہ نیتی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ نیپال جیسا انقلاب ہندوستان میں برپا نہیں ہوجاتا۔
٭٭٭