... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے کہتا ہے ”جانوروں کی طرح زندگی گذارنا ،صرف پیٹ بھرنے اور نفسانی ہوس پوری کرنے کو زندگی کا نصب العین بنا لینا اور زندگی کے مقصد کے بارے میں کسی قسم کا سوچنے سے قاصر رہنا واقعی ایک سخت ترین عذاب ہے سوچنے کی صلاحیت سے عاری جانور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بس دیوانہ وار آنکھیں بند کرکے جیسے تیسے بس جینے کی خاطر زندگی سے چمٹے رہنا ، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے یہاں کسی کو سزا دی جارہی ہو اور اس کو احساس ہی نہ ہو کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہاہے ؟ اور اس سزا بھری زندگی کے ساتھ خوفناک ہوس کی حد تک بے وقوفی کے ساتھ چمٹے رہنا جیسے یہ زندگی جینا باعث خوشی ہو”۔ اخلاقیات جسے اخلاقی فلسفہ بھی کہا جاتاہے ۔ فلسفے کی وہ قسم ہے جس کا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی شخص کو اس معاملے میں کیسا بر تائو کر نا چاہیے، جسے اخلاقی طورپر درست یا اچھا سمجھا جاتا ہے ۔ یہ ایک سادہ خیال لگتاہے کہ اچھا کیسے بننا ہے اور اچھا ہونا کیوں ضروری ہے ۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جس نے اخلاقی فلسفیوں کو 2,000 سال سے زیادہ عرصے سے متوجہ اور اذیت میں مبتلا کررکھا ہے۔ اخلاقیات وہ فلسفہ ہے جو روز مرہ کی زندگی پر آسانی سے لاگو ہوتاہے ۔
فلسفہ بڑے سوالات پوچھتا ہے جیسے ” کیا خدا حقیقی ہے ؟” یا” ہم یہاں کیوں ہیں ” لیکن وہ بڑے سوالات براہ راست اس بات پر
توجہ نہیں دیتے کہ کسی کی زندگی کیسے گذاری جائے ۔ اخلاقیات کائنات کی لامحدود یت کو حل کرنے اور اسے زمین پر زندگی کے روز مرہ
کے وجود سے ہم آہنگ کرنے کے درمیان ایک گمشدہ مرحلہ ہے ۔اگر فلسفہ بڑے ” کیوں” سوالات پوچھ کر اخلاقی روئیے کی حوصلہ
افزائی کرتا ہے تو اخلاقیات اس اخلاقی روئیے کی ایک کھو ج ہے اور یہ فلسفہ کے سامنے آنے والے سوالات کے ٹھوس ” کیا ” اور ”کیسے” جوابات وضع کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اخلاقیات واضح طورپر تہذیب کی اہم تعمیرا ت ہیں جو دنیا کو سمجھنے کی بنیادی انسانی
ضرورت سے پیدا ہوتی ہیں ۔ سقراط کہا کرتا تھا ” حقیقی حکمت ہم سے ہر ایک کو آتی ہے ۔ جب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم زندگی ، اپنے
آپ اور اپنے اردگر د کی دنیا کے بارے میں کتنا کم سمجھتے ہیں”۔ قدیم یونانیوں کو علم تھا کہ انسانوں کی شروعات انتہائی نچلی بلکہ وحشیانہ سطح
سے ہوئی ہے۔ پروٹا گورس نے انسانوں کی خطرات پر کامیابی کو دیو تا کی جانب سے طے کردہ طریقوں پر متنج قرار دیا تھا ۔ زیوس نے ہرمس کو زمین پر اس حکم کے ساتھ روانہ کیا تھا ” میری جانب سے (انہیں )عطا کرو اور بیماریوں کی مانند ان انسانوں کو نابو د کردو جو کہ شرافت ، سلیقہ مندی اور عدل کو اپنا نہیں سکتے ”۔ تصور یہ تھا کہ انسانوں کی تعلیم اور ان کی ترقی قوانین کے ذریعے ہوتی ہے اور تہذیب کا دارو مدار اسی پر ہے کیونکہ اس کے ذریعے اخلاقی اور سماجی خوبیاں عام ہوتی ہیں۔افلاطون اور ارسطو دونوں نے شہری ریاست کو سماجی ارتقاء کا منطقی نتیجہ بتایا ہے۔ یادرہے سماجی ارتقاء اخلاقی ارتقاء کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہومر کے نزدیک اچھائی کاتصور چار بنیادی خصوصیاں پر منحصر تھا ” شجاعت ، عفت، عدل اور دانش ”۔انسان تمام جانوروں میں و ہ واحد جانور ہے جو کیا ہورہاہے اور کیا ہونا چاہیے کہ فرق کو سمجھتا ہے ۔ جو سماج اخلاق سے عاری ہوجاتا ہے وہ تباہ ہو جاتاہے ۔ انسانی تاریخ کی ساری ناکامیاں اخلاقی ناکامیاں تھیں۔جب تک ہم یہ بات نہیں سمجھیں گے تباہی ہمارا مقدر بنی رہے گی ۔ڈیمو قریطس نے کہا تھا کسی شے کی حقیقت کو جاننا ایرانیوں کی سلطنت حاصل کرنے سے زیادہ قیمتی ہے ۔
ہیرا کلا ئی ٹس کہتا ہے ۔ فکر کرنا عظیم ترین خیر ہے اور دانش مندی اس امر میںہے کہ سچ بولا جائے اور فطرت کے مطابق عمل کیاجائے ۔ صرف اخلاقیات پہ کھڑے سماج ہی میں اچھے انسانوں کا ظہور ممکن ہے ۔ دوسری صورت میں ذہنی و جسمانی بیمارانسانوں کے ہجوم ہی سماج میں دکھائی دیںگے۔ جیساکہ ہم آج پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ ہر آدمی کسی نہ کسی شکل میں ذہنی و جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوچکاہے سب سے وحشت ناک منظر اس وقت بنتا ہے جب حکمران ذہنی بیماریوں کے نرغے میں آجائیں ۔ اس صورت میں سماج میں اچھے انسان ملنے کاتصور نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس طرح جسمانی بیماریوں کے جراثیم پورے ماحول کو جراثیم سے آلودہ کردیتے ہیں بالکل اسی طرح ذہنی بیمار ہر صحت مند ذہنوں کو بیمار کرتے چلے جاتے ہیں۔ پھر پورا سماج نہ ختم ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ہر مریض اپنے آپ کو سب سے زیادہ صحت مند قرار دینے کے مرض میں مبتلا ہوجاتاہے ۔اسی لیے پاکستان میں دن بدن صورتحال وحشت ناک ہوتی ہی چلی جارہی ہے ۔ اس لیے پاکستان کو بیمارستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔خوش لباس جھوٹ سے ننگا سچ ہمیشہ بہتر ہوتاہے اور ننگا سچ یہ ہے کہ ہم ایک مختلف اور تبدیل شدہ پاکستان کے خواہش مند ہیں ایسا پاکستان جہاں ہماری عزت ہو جہاں سچ کی پوجا کی جارہی ہو۔ لیکن دوسر اننگا سچ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یہ سب ناممکن کو دکھائی دے رہا ہے۔عظیم امریکی شاعر Walt Whitman جو 1819 میں پیدا ہوا ۔ کہتا ہے ” میں بیٹھا دیکھتا ہوں ، میں دنیا کے تمام دکھوں اور تمام ظلم اور شرمناکی کو بیٹھتا دیکھا ہوں ، میں ان نوجوانوں کو جو اپنے کیے پر پچھتا تے ہوئے خود اپنے آپ سے دکھی ہیں ، چوری چھپے تلملاتے ہوئے سسکیاں لیتے سنتا ہوں ، میں دیکھتا ہوں کہ نیچ لوگوں میں اولاد اپنی ماں سے بدسلوکی کررہی ہے جو کسمپر سی کے عالم میں سوکھ کے کانٹا ہو چکی ہے ۔ میں میاں کوبیوی سے بدسلوکی کرتے دیکھتاہوں ، میں ان غریب سازوں کو دیکھتا ہوں ، جو نوجوان عورتوں کو ورغلا کر خراب کرتے ہیں ، میں حسد کی چنگاریوں اور ارکات جانے والی محبت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کو دیکھتاہوں۔ میں دنیا میں یہ سب کچھ دیکھتاہوں ، میں جنگ، وبااور استبداد کی کارستانی دیکھتا ہوں ، میں شہیدوں اور زندانیوں کو دیکھتاہوں ، میں دیکھتا ہوں کہ سمندر پر کال پڑا ہے میں ملا حوں کو اس بات کے لیے قرعہ اندازی کرتے دیکھتاہوں ، کہ باقیوں کی جان بچانے کے لیے کسے مارا جا ئے ، میں دیکھتاہوں کہ اہل تکبر مزدوروں ، غریبوں ، حبشیو ں اور ان ہی جیسوں کو کس طرح ذلیل اور رسوا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ، یہ تمام کمینگی اور کر ب جس کا کوئی انت نہیں ، بیٹھا دیکھتا ہو ں۔ دیکھتاہوں ، سنتا ہوں اور چپ رہتاہوں ۔
٭٭٭