وجود

... loading ...

وجود

بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

پیر 09 مارچ 2026 بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

ریاض احمدچودھری

بھارت کے خلائی عزائم کو اس وقت بڑا دھچکا پہنچا جب اسرو کا پی ایس ایل ویـسی 62 مشن ناکامی سے دوچار ہوا۔ 12 جنوری 2026 کو سری ہری کوٹا سے شاندار لانچ کے باوجود تمام 16 سیٹلائٹ خلا میں ضائع ہو گئیں۔ حکام کے مطابق تیسرے مرحلے کے مشن کنٹرول میں اچانک خاموشی چھا گئی، کیونکہ ٹیلی میٹری کو کوئی تازہ معلومات موصول نہ ہو سکیں۔ اس سے مدار میں سیٹلائٹ داخل کرنے میں ناکامی کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ گزشتہ سال کے پی ایس ایل ویـسی 61 کے سانحے سے مشابہ ہے۔ اس مشن کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اگر اس مشن کو سرکاری طور پر ناکام قرار دیا جاتا ہے تو یہ پی ایس ایل وی کی 64 لانچز میں پانچویں ناکامی ہو گی۔ اپنی 63ویں پرواز تک پی ایس ایل وی چار ناکامیوں کا پہلے ہی سامنا کر چکا ہے۔ اگرچہ 64 لانچز میں پانچ ناکامیاں مجموعی طور پر خراب کارکردگی نہیں سمجھی جاتیں، تاہم اس کے باوجود یہ نتیجہ بھارتی خلائی پروگرام کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔ تاہم یہ دھچکا صرف اسرو تک محدود نہیں رہے گا، کیونکہ اس مشن میں برازیل، نیپال اور برطانیہ سمیت کئی غیر ملکی ممالک کے سیٹلائٹ شامل تھے۔
بھارتی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو) کا قابل اعتماد راکٹ پی ایس ایل وی۔ سی 62 اپنے مشن میں ناکام ہو گیا۔ یہ راکٹ ڈی آر ڈی او کے اہم ترین زمین مشاہداتی سیٹلائٹ ای او ایس۔این ون اور 15 دیگر ملکی و غیر ملکی سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا۔ 22.5 گھنٹے کی الٹی گنتی کے بعد 44.4 میٹر بلند اور 260 ٹن وزنی اس راکٹ نے شاررینج کے پہلے لانچ پیڈ سے پروازکی۔ ابتدائی تین مراحل کی علیحدگی تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا لیکن اس کے بعد راکٹ میں فنی خرابی پیدا ہوئی اور وہ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے مشن کنٹرول سنٹر سے سائنسدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پہلے تین مراحل تک راکٹ کی کارکردگی نارمل تھی۔اس کے بعد فنی خرابی پائی گئی اور فلائٹ اپنے راستے سے ہٹ گئی۔ یہ مشن مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ ہم ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں اور جلد تفصیلات فراہم کریں گے۔
یہ مئی 2025 میں پی ایس ایل وی۔سی 61 کی ناکامی کے بعد اسرو کے لئے دوسرا بڑا جھٹکا ہے۔ 2025 میں ہی جی ایس ایل وی ایف 15 بھی ناکام ہوا تھا۔مئی 2025 میں پی ایس ایل وی۔سی 61 کی ناکامی کے بعد اسرو کے لئے یہ مشن واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا لیکن اس ناکامی نے بھارتی خلائی پروگرام کے لئے نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ماہرین نے کہاکہ یہ گزشتہ آٹھ ماہ میں پی ایس ایل وی کی دوسری ناکامی تھی۔2021 سے اب تک ”اسرو”کوپانچ بڑی ناکامیاں ہوئیں اورجنوری 2025 سے جنوری 2026 تک پی ایس ایل وی کی تین ناکامیاں ریکارڈ ہوئیں۔یہ پرواز 2025 میں ناکامی کے بعد لانچ وہیکل کے لیے ایک نہایت اہم مرحلہ سمجھا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ مجموعی طور پر سولہ سیٹ لائٹس مدار میں پہنچنی تھیں، جن کا اس مرحلے پر کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں پہنچیں اور کس حال میں ہیں۔اس مشن میں برازیل، نیپال اور برطانیہ سمیت کئی غیر ملکی ممالک کے سیٹلائٹ شامل تھے۔پی ایس ایل وی کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد لانچ وہیکل سمجھا جاتا ہے اور یہ بھارت کے تجارتی خلائی عزائم میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم کئی بار یہ اپنے مقصد میں پوری طرح سے ناکام رہا ہے۔ بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلائی مشنز میں بار بار ناکامی نے بھارت کی اسٹرٹیجک ٹیکنالوجی کو مشکوک بنا دیا ہے، کیونکہ پی ایس ایل وی راکٹ میں استعمال ہونے والی کئی ٹیکنالوجیز بھارت کے اگنی میزائل پروگرام سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ بھارت اگنی میزائل کو وارہیڈ صلاحیت سمیت کامیاب قرار دیتا ہے، تاہم اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی کا خلائی راکٹ میں ناکام ہونا ایک تشویشناک اشارہ ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ بھارت میں خلائی راکٹ اور بیلسٹک میزائل بڑی حد تک ایک ہی تکنیکی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں، اس لیے ایک نظام کی ناکامی دوسرے کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جنگی صورتحال میں ایسی ہی تکنیکی خرابی بھارتی اسٹرٹیجک میزائل میں سامنے آ گئی تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق خدشہ یہ بھی ہے کہ اگر اسی ٹیکنالوجی پر مبنی کوئی اگنی میزائل اپنے ہدف کے بجائے کسی اور ملک میں جا گرے تو اس سے عالمی سطح پر خطرناک ردعمل اور تباہ کن جوابی کارروائی جنم لے سکتی ہے۔ یہی پہلو پی ایس ایل وی۔سی62 کی ناکامی کو محض ایک سائنسی یا تکنیکی مسئلہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے عالمی سلامتی سے جڑا ایک حساس معاملہ بنا دیتا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی خلائی لانچ وہیکلز، کروز میزائل براہموس اور اگنی سیریز کے درمیان تکنیکی ربط اتنا گہرا ہے کہ کسی ایک نظام میں کمزوری پورے دفاعی ڈھانچے پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ماہرین کے مطابق پی ایس ایل وی۔سی6 کی ناکامی پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ کسی ایک ملک کی کمزور اور غیر مستحکم ٹیکنالوجی نہ صرف خطے بلکہ عالمی توازنِ سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود اتوار 08 مارچ 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

سب ہارگئے ۔۔۔۔ وجود اتوار 08 مارچ 2026
سب ہارگئے ۔۔۔۔

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی وجود اتوار 08 مارچ 2026
جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر