وجود

... loading ...

وجود

بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

هفته 07 مارچ 2026 بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

ریاض احمدچودھری

سفاک مودی کے دور میں بھارت پر ہندوتوا راج مسلط ہے جس سے تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔فاشسٹ مودی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی آزادیِ رائے کو جرم بنا دیا، آر ایس ایس کے ہاتھوں غاصب مودی نے تعلیمی اداروں کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا۔جنسی ہراسانی کے ملزم پروفیسروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے طلبا سراپا احتجاج بن گئے، پونڈیچری یونیورسٹی میں ایس ایف آئی کے طلبا پر پولیس نے حملہ کر دیا، متعدد طلبہ گرفتارکر لئے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے بے رحمانہ تشدد کیا اور خواتین سے بدسلوکی کی، یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہراسانی کے الزامات کے باوجود ملوث اساتذہ تاحال عہدوں پر برقرار ہیں۔
طلبہ تنظیم کے مطابق ڈاکٹر مدھوائیہ اور ڈاکٹر شیلندر سنگھ پر 16 سے زائد طلبا کے سنگین الزامات عائد ہیں، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضابطے کے باوجود ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے پر بھی سماعت نا مکمل ہے۔ دوسری طرف دہلی یونیورسٹی میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبا بھی بھارتی انتہا پسندی کا شکار ہو گئے، دہلی یونیورسٹی کے طلبا پر بھارتی انتہا پسند تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ارکان نے حملہ کیا۔پنجاب یونیورسٹی کے نائب صدر اشمیت سنگھ کے مطابق پروفیسر سے لے کر وائس چانسلر تک ہر تقرری آر ایس ایس کی منظوری سے ہوتی ہے، اقتدار پر قابض مودی کے دور میں انتہا پسند آر ایس ایس اور بی جے پی نے بھارت کے ہر ادارے پر قبضہ جما لیا ہے۔طلبا پر پولیس تشدد مودی حکومت کے فاشسٹ چہرے اور اقلیت دشمنی کا واضح ثبوت ہے،نااہل مودی اور انتہا پسند تنظیموں نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب کردیا۔
بھارت کی مودی سرکار کی جانب سے یونیورسٹی طلبہ کے لیے مولانا آزاد فیلو شپ ختم کیے جانے کے بعد مسلم طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور حکومت میں قائم کی گئی سچر کمیٹی کی تجویز کردہ سفارشات کی روشنی میں 2009 میں مولانا آزاد فیلو شپ متعارف کرائی گئی تھی جو بھارت کی اقلیت مسلم، بودھ مت، عیسائی، جین مت، پارسی اور سکھ مذاہب سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کو فراہم کی جاتی تھی۔ اس فیلو شپ کو مودی کی متعصب حکومت نے بیک جنبش قلم ختم کردیا ہے۔یہ فیلو شپ اگرچہ تمام اقلیتی برادریوں کے طالب علموں کے لیے دستیاب تھی تاہم اس سے زیادہ تر مسلمان طلبہ ہی مستفید ہوئے۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق سن 2018،2019 میں یہ فیلوشپ حاصل کرنے والے 70 فیصد سے زائد طالب علم مسلمان تھے۔بھارت میں مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے نیشنل سکریٹری، فواد شاہین کے مطابق، ”کئی برسوں کے دوران اس فیلو شپ سے ہزاروں ایسے پسماندہ مسلمان طالب علم مستفید ہوئے جو دوسری صورت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہی رہتے۔اس حوالے سے وزیر برائے اقلیتی امورکا گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ ”حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے جاری کئی دیگر فیلوشپ اسکیموں کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے اور اقلیتی طالب علموں کو پہلے ہی اس طرح کی کئی اسکیموں سے مدد مل رہی ہے۔حکومت کی جانب سے اس گرانٹ کی منسوخی کے پیچھے دی جانے والی یہ وجہ کہ یہ فیلو شپ دیگر اسکیموں سے مماثلت رکھتی ہے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔بھارتی وزیر خزانہ کے مطابق 31 مارچ 2022 سے قبل فیلو شپ کے لیے کوالیفائی کرنے والے طالب علم اس اسکیم سے اپنی باقی ماندہ تعلیمی مدت تک مستفید ہوتے رہیں گے تاہم اس کے باوجود اچانک اس گرانٹ کے خاتمے کے فیصلے نے بھارتی مسلمانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نافذ پالیسیوں پر ایک بار پھر تنقید کی لہر اٹھ رہی ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا نظریے کے فروغ کے ساتھ ساتھ اختلافِ رائے، تنقیدی سوچ اور اقلیتی شناخت کے اظہار پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف سماجی و سیاسی کشیدگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ ملک کے تعلیمی اداروں کی خودمختاری کو بھی متاثر کر رہا ہے۔حال ہی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نئی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سنسرشپ اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے، جہاں ذات پات، اقلیتوں کے حقوق، قوم پرستی یا ریاستی تشدد جیسے موضوعات پر تنقیدی مکالمے کو ”سیاسی طور پر متحرک” قرار دے کر محدود کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ جیسے عوامی فنڈنگ کے ادارے بھی حکومتی بیانیے سے ہٹ کر تحقیق کی سرپرستی کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق تحقیقی گرانٹس اور علمی منصوبوں کی منظوری میں نظریاتی ہم آہنگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جامعات میں آزادی رائے پر قدغنیں جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ان کے مطابق اگر علمی ادارے آزادانہ تحقیق اور مباحثے کی روایت برقرار نہ رکھ سکیں تو یہ صورت حال طویل المدتی طور پر علمی معیار اور سماجی ہم آہنگی دونوں کو متاثر کرے گی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے متنوع معاشرے میں مکالمے اور اختلافِ رائے کی گنجائش جمہوریت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں اقلیتوں، سماجی کارکنوں اور اب تعلیمی حلقوں کی آوازوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے داخلی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف یہ رہا ہے کہ قومی مفاد، یکجہتی اور ترقیاتی ایجنڈے کے تحت بعض اقدامات ناگزیر ہیں۔ تاہم ناقدین کا اصرار ہے کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تعلیمی ادارے آزاد، خودمختار اور سیاسی دباؤ سے مبرا ہوں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
نئے حاکم ۔۔۔ وجود هفته 07 مارچ 2026
نئے حاکم ۔۔۔

ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے! وجود هفته 07 مارچ 2026
ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک وجود هفته 07 مارچ 2026
بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر