... loading ...
ریاض احمدچودھری
کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں بھتہ خوری کے متعدد واقعات میں بھارت میں موجود جرائم پیشہ افراد کا نیٹ ورک ملوث ہے۔ ایڈمنٹن پولیس نے انکشاف کیا کہ بھتہ خوری سمیت 27جرائم کی منصوبہ سازی بھارت میں کی گئی اور اسے ایڈمنٹن کے شہریوں نے انجام دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس سلسلے میں6ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم کینیڈا سے فرار ہو چکا ہے۔ بھارتی نژاد متاثرین کو واٹس ایپ پر بھتہ دینے کے پیغامات موصول ہوتے تھے۔ متاثرین میں ساؤتھ ایشین کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کینیڈین بلڈرز اور کاروباری افراد شامل ہیں جن سے بھاری رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ ایک واقعہ میں بھتہ نہ دینے پر زیرِ تعمیر گھروں کو نذرِآتش کر دیا گیا۔ بتایا گیاہے کہ بھتہ خوری کے اسی نوعیت کے ایک معاملے کی تفتیش ٹورنٹو میں بھی ہو رہی ہے۔
آسٹریلوی جریدے اسپیکٹیٹرآسٹریلیا کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث مقامی کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔کینیڈا کے شہر سرے میں رواں سال جنوری سے اب تک بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کے 35 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ صوبہ اونٹاریو میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ کینیڈا میں سرگرم بدنام زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ منظم جرائم اور بھتہ خوری میں ملوث ہے۔ بعض سکھ تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ بھارتی حکومت کی ایما پر کینیڈا میں خالصتان حامی کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں بھی متعدد بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مفادات کے لیے ان جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کر رہی ہے۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ممالک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا استعمال بھارت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے بڑھتے واقعات میزبان ممالک کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔
بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل کے شواہد ایک بار پھر بے نقاب ،کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی کے واضح ثبوت سامنے آگئے۔ کینیڈا کی انٹیلیجنس ایجنسی کے ترجمان کے مطابق بھارت کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کا بڑا مجرم ہے۔کینیڈین جریدے دی پوسٹ کے مطابق کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS) کے ترجمان ایرک بالسام نے بذریعہ ای میل اس موقف کی تصدیق کی۔نیشنل پوسٹ کے مطابق کینیڈا کی سکھ کمیونٹی میں بھارت کے حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے،سابق کینیڈین وزیراعظم نے بھی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کیے،بھارتی حکومت سے منسلک شرپسند عناصر کینیڈا میں قتل ، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ماہرین کے مطابق مودی کی انتہاپسند حکومت ریاستی دہشت گردی سے خالصتان رہنماؤں کو منظم طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے،بھارتی خفیہ ایجنسی”را” کے ذریعے بھارتی ریاستی دہشت گردی شدت اختیار کر چکی ہے ،بھارت کی اقلیتوں، بالخصوص سکھوں اور مسلمانوں، کے خلاف ریاستی دہشت گردی روکنا عالمی ذمہ داری ہے۔
بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے پوری دنیا متاثر، آسٹریلیا سے کینیڈا تک کوئی بھی بھارت کے شر سے محفوظ نہیں،سڈنی حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوچکی۔آسٹریلوی حکام کا تفتیش کیلئے بھارتی خفیہ اداروں سے رابطہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت منظم دہشت گردی میں ملوث ہے،اس سے پہلے کینیڈا اورامریکا میں سکھ رہنماؤں پر ہونے والے حملوں میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث رہے ہیں۔سری لنکامیں دہائیوں تک بھارت تامل دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے،خود بھارتی شہری بھی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں،منی پورمیں مسیحی اقلیتوں کا قتل عام ہو یاپہلگام فالس فلیگ آپریشن، بھارتی فوج کے ہاتھ اپنوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔
کینیڈا بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے متاثرین میں شامل ہے،سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی سفارتی کاروں کے شرپسندعناصر سے رابطوں کو میڈیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا،کینیڈین سرزمین پر خالصتان رہنما ہردیب سنگھ نجر کے قتل پرکئی ماہ تک کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات معطل رہے۔امریکا میں سکھ فارجسٹس کے قتل کی سازش پربھارتی شہری گرفتار ہوچکا ہے جو بھارتی خفیہ اداروں کے کہنے،پر سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کے مشن پر تھا۔سری لنکا میں بھارت تامل دہشت گردوں کو دہائیوں تک سپورٹ کرتا رہا،جس کی وجہ سے سری لنکا کو بدترین خانہ جنگی کا سامنا رہا، بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے خود بھارتی شہری بھی محفوظ نہیں،منی پور میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 260 افراد ہلاک 60 ہزار بے گھر ہوچکے ہیں،بھارت کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں 26 افرد کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
٭٭٭