وجود

... loading ...

وجود

بھارت کی عالمی دہشت گردی

جمعه 06 مارچ 2026 بھارت کی عالمی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں بھتہ خوری کے متعدد واقعات میں بھارت میں موجود جرائم پیشہ افراد کا نیٹ ورک ملوث ہے۔ ایڈمنٹن پولیس نے انکشاف کیا کہ بھتہ خوری سمیت 27جرائم کی منصوبہ سازی بھارت میں کی گئی اور اسے ایڈمنٹن کے شہریوں نے انجام دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس سلسلے میں6ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم کینیڈا سے فرار ہو چکا ہے۔ بھارتی نژاد متاثرین کو واٹس ایپ پر بھتہ دینے کے پیغامات موصول ہوتے تھے۔ متاثرین میں ساؤتھ ایشین کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کینیڈین بلڈرز اور کاروباری افراد شامل ہیں جن سے بھاری رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ ایک واقعہ میں بھتہ نہ دینے پر زیرِ تعمیر گھروں کو نذرِآتش کر دیا گیا۔ بتایا گیاہے کہ بھتہ خوری کے اسی نوعیت کے ایک معاملے کی تفتیش ٹورنٹو میں بھی ہو رہی ہے۔
آسٹریلوی جریدے اسپیکٹیٹرآسٹریلیا کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث مقامی کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔کینیڈا کے شہر سرے میں رواں سال جنوری سے اب تک بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کے 35 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ صوبہ اونٹاریو میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ کینیڈا میں سرگرم بدنام زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ منظم جرائم اور بھتہ خوری میں ملوث ہے۔ بعض سکھ تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ بھارتی حکومت کی ایما پر کینیڈا میں خالصتان حامی کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں بھی متعدد بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مفادات کے لیے ان جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کر رہی ہے۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ممالک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا استعمال بھارت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے بڑھتے واقعات میزبان ممالک کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔
بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل کے شواہد ایک بار پھر بے نقاب ،کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی کے واضح ثبوت سامنے آگئے۔ کینیڈا کی انٹیلیجنس ایجنسی کے ترجمان کے مطابق بھارت کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کا بڑا مجرم ہے۔کینیڈین جریدے دی پوسٹ کے مطابق کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS) کے ترجمان ایرک بالسام نے بذریعہ ای میل اس موقف کی تصدیق کی۔نیشنل پوسٹ کے مطابق کینیڈا کی سکھ کمیونٹی میں بھارت کے حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے،سابق کینیڈین وزیراعظم نے بھی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کیے،بھارتی حکومت سے منسلک شرپسند عناصر کینیڈا میں قتل ، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ماہرین کے مطابق مودی کی انتہاپسند حکومت ریاستی دہشت گردی سے خالصتان رہنماؤں کو منظم طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے،بھارتی خفیہ ایجنسی”را” کے ذریعے بھارتی ریاستی دہشت گردی شدت اختیار کر چکی ہے ،بھارت کی اقلیتوں، بالخصوص سکھوں اور مسلمانوں، کے خلاف ریاستی دہشت گردی روکنا عالمی ذمہ داری ہے۔
بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے پوری دنیا متاثر، آسٹریلیا سے کینیڈا تک کوئی بھی بھارت کے شر سے محفوظ نہیں،سڈنی حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوچکی۔آسٹریلوی حکام کا تفتیش کیلئے بھارتی خفیہ اداروں سے رابطہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت منظم دہشت گردی میں ملوث ہے،اس سے پہلے کینیڈا اورامریکا میں سکھ رہنماؤں پر ہونے والے حملوں میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث رہے ہیں۔سری لنکامیں دہائیوں تک بھارت تامل دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے،خود بھارتی شہری بھی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں،منی پورمیں مسیحی اقلیتوں کا قتل عام ہو یاپہلگام فالس فلیگ آپریشن، بھارتی فوج کے ہاتھ اپنوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔
کینیڈا بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے متاثرین میں شامل ہے،سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی سفارتی کاروں کے شرپسندعناصر سے رابطوں کو میڈیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا،کینیڈین سرزمین پر خالصتان رہنما ہردیب سنگھ نجر کے قتل پرکئی ماہ تک کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات معطل رہے۔امریکا میں سکھ فارجسٹس کے قتل کی سازش پربھارتی شہری گرفتار ہوچکا ہے جو بھارتی خفیہ اداروں کے کہنے،پر سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کے مشن پر تھا۔سری لنکا میں بھارت تامل دہشت گردوں کو دہائیوں تک سپورٹ کرتا رہا،جس کی وجہ سے سری لنکا کو بدترین خانہ جنگی کا سامنا رہا، بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے خود بھارتی شہری بھی محفوظ نہیں،منی پور میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 260 افراد ہلاک 60 ہزار بے گھر ہوچکے ہیں،بھارت کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں 26 افرد کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ! وجود جمعه 06 مارچ 2026
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں !

مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا؟ وجود جمعه 06 مارچ 2026
مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا؟

پریشان مت ہوں،ڈالر نہیں مر رہا! وجود جمعه 06 مارچ 2026
پریشان مت ہوں،ڈالر نہیں مر رہا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر