... loading ...
ب نقاب
۔۔۔۔۔
ایم آر ملک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جنگ سرحدوں پر لڑی جانے والی عام جنگ نہیں ہے۔ یہ صرف میزائلوں، ڈرونز اور جنگی جہازوں کی گھن گرج نہیں، یہ بیانیوں، خوف، مفادات اور تاریخ کی ان دبی ہوئی پرتوں کی جنگ ہے جو صدیوں سے مشرقِ وسطیٰ کی ریت میں دفن ہیں۔ کفر اور اسلام کی جنگ ، حق اور باطل کی جنگ !
آج جب ہم ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہیں تو بظاہر یہ تین نام سامنے آتے ہیں، مگر حقیقت میں اس نقشے کے پیچھے کئی اور سائے حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران مسلم امہ کی جنگ واقعی اکیلا لڑ رہا ہے؟ کیا اس نے مسلم ممالک کی سرزمین پر کارروائیاں کر کے درست ردِ عمل دیا ہے؟ اور کیا یہ تنازع صرف تین ریاستوں تک محدود ہے یا اس کی بازگشت اسلامی دنیا کے ایوانوں تک سنائی دیتی ہے؟
ایران کی کہانی کو سمجھے بغیر اس کشمکش کو سمجھنا ممکن نہیں۔ 1979 کا انقلاب محض حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، وہ پورے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات میں ارتعاش تھا۔ ایک ایسا انقلاب جس نے ایران کو ایک نظریاتی ریاست کے طور پر پیش کیا، ایک ایسی ریاست جو صیہونی مقاصد اور مفادات کے خلاف اپنے بیانیے کو سرحدوں سے آگے لے جانا چاہتی تھی۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا، فلسطین کے مسئلے کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بنانا، اور مغربی بالادستی کے خلاف مزاحمتی لہجہ اختیار کرنا — یہ سب ایران کی شناخت کا حصہ بن گئے۔ اسی لمحے سے اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست نہیں تو بالواسطہ محاذ آرائی کی بنیاد رکھ دی گئی۔
اب سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا ایران اکیلا ہے؟
رسمی اتحادوں کی فہرست شاید مختصر ہو، مگر عملی میدان میں تصویر مختلف ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کی صورت ایک مضبوط عسکری و سیاسی قوت موجود ہے، شام میں ایران کی عسکری موجودگی نے اسے ایک اسٹریٹیجک راہداری فراہم کی، عراق میں سیاسی اثرورسوخ نے اسے زمینی گہرائی دی، اور یمن میں حوثی تحریک کے ساتھ تعلق نے خلیج میں امریکی اور صیہونی مفادات کو متاثر کیا۔ اس تناظر میں ایران مکمل تنہا نہیں دکھائی دیتا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اسے سخت پابندیوں، سفارتی دباؤ اور اقتصادی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جس کا پس منظر صرف یہ تھا کہ ایران نے سر جھکانا گوارا نہ کیا ۔ یوں وہ ایک ایسے دائرے میں کھڑا ہے جہاں اس کے پاس علاقائی اثر تو ہے، مگر امریکی قبولیت نہیں ۔
اسرائیل کی پوزیشن بھی سادہ نہیں۔ ایک چھوٹے رقبے کی ریاست، مگر عسکری اعتبار سے طاقتور، جدید ٹیکنالوجی سے لیس، اور امریکہ کا قریبی اتحادی۔ اسرائیل کے لیے ایران محض ایک دور دراز ملک نہیں بلکہ ایک نظریاتی خطرہ ہے۔وہ اس خوف سے نہیں نکل پارہا کہ اگر ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو اسرائیل کے لیے توازنِ طاقت یکسر بدل جائے گا۔ یہی خوف اسرائیل کی پالیسیوں کو جارحانہ بناتا رہاہے۔ فلسطین میں حماس کا خاتمہ ،شام میں ایرانی اہداف پر حملے، خفیہ کارروائیاں، اور سفارتی دباؤ — یہ سب اسی حکمت ِعملی کا حصہ ہیں۔
امریکہ کا کردار اس پورے منظرنامے میں مرکزی ہے۔ اسرائیل اس کا اسٹریٹیجک ستون ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات تیل، بحری گزرگاہوں اور علاقائی توازن سے جڑے ہیں۔ اگر اسرائیل کمزور پڑتا ہے تو امریکہ کا اثر بھی کمزور ہو سکتا ہے۔ اگر ایران بہت زیادہ مضبوط ہوتا ہے توامریکہ کے خلیجی اتحادیوں میں بے چینی بڑھتی ہے۔ چنانچہ امریکی پالیسی ایک نازک توازن کی کوشش کرتی ہے،اتحادی کو سہارا بھی دیا جائے اور مکمل جنگ سے بھی بچا جائے۔
پراکسی وار کا تصور اسی خوف کی پیداوار ہے۔ براہِ راست جنگ کا مطلب پورے خطے کا شعلہ ور ہونا ہے، اس لیے لڑائی اکثر تیسرے میدانوں میں لڑی جاتی ہے۔ لبنان، شام، عراق، یمن اور غزہ — یہ سب وہ اسٹیج ہیں جہاں بڑے کھلاڑی اپنی چالیں چلتے ہیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا کسی خودمختار ریاست کی سرزمین کو اسٹریٹیجک دباؤ کے لیے استعمال کرنا اخلاقی طور پر درست ہے؟ ایران اسے مزاحمت کہتا ہے، اس کے مخالف اسے مداخلت قرار دیتے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہے، جہاں دفاع اور توسیع پسندی کی لکیر مدھم ہو جاتی ہے۔
کیا ایران نے مسلم ممالک میں کارروائی کر کے درست ردِ عمل دیا؟ یہ سوال جذبات سے زیادہ اصولوں کا متقاضی ہے۔ اگر کسی ملک کی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو کیا پیشگی حملہ جائز ہو جاتا ہے؟ بین الاقوامی قانون اس پر واضح حدود متعین کرتا ہے، مگر عملی سیاست میں طاقت اکثر قانون سے بڑی ہو جاتی ہے۔ کچھ مسلم ممالک ایران کی پالیسیوں کو خطے میں عدم استحکام کا سبب سمجھتے ہیں، کچھ اسے اسرائیلی دباؤ کے خلاف ضروری مزاحمت قرار دیتے ہیں۔ یہی تقسیم مسلم دنیا کی کمزوری بن جاتی ہے۔
خلیجی ممالک کا رویہ خاص طور پر محتاط ہے۔ ان کی معیشت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے جڑی ہے۔ مکمل جنگ ان کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے وہ کھلے عام کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز اںہیں، بلکہ سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حقیقت اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ یہ جنگ صرف تین ممالک کی نہیں بلکہ پورے خطے کی معیشت اور سیاست کو متاثر کرنے والی کشمکش ہے۔
ایٹمی پروگرام اس تنازع کی سب سے حساس کڑی ہے۔ ایران اسے پرامن توانائی کا حق قرار دیتا ہے، مغربی دنیا اسے ممکنہ عسکری خطرہ سمجھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ سرخ لکیر ہے۔ اگر ایران ایٹمی طاقت بن جاتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل جائے گا۔اب نئے امام ملکی اور عوام کی بقا کیلئے ایٹم کو ناگزیر سمجھتے ہیں جسے روکنے کے لیے پیشگی حملے کئے جارہے ہیں ،امریکہ اور اسرائیل نے خطے کیلئے مکمل جنگ کا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی برادری کی سانسیں رک جاتی ہیں۔روس اور چین اس کھیل میں بظاہر خاموش مگر اثر انگیز کردار ادا کرتے ہیں۔ روس شام میں اپنی موجودگی کے ذریعے خطے میں اثر قائم رکھنا چاہتا ہے، جبکہ چین توانائی کی ترسیل اور تجارتی راہداریوں کے لیے استحکام کا خواہاں ہے، مگر ساتھ ہی وہ امریکی بالادستی کو محدود دیکھنا چاہتا ہے۔ اس وقت امریکہ براہِ راست ایران سے ٹکرایا ہے اس تناظر میں روس اور چائنا دونوں طاقتیں سفارتی یا اقتصادی سطح پر ایران کا سہارا بن سکتی ہیں، جس سے تنازع مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں اور اپیلیں اکثر اس شور میں دب جاتی ہیں۔ جب بڑی طاقتیں خود فریق ہوں تو عالمی ادارے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ویٹو پاور انصاف پر سایہ ڈال دیتی ہے اور قراردادیں کاغذی رہ جاتی ہیں۔ یوں میدان میں اصل فیصلہ طاقت کرتی ہے، قانون نہیں۔
تو کیا یہ جنگ صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ کی ہے؟ نہیں۔ یہ جنگ عالمی معیشت کی بھی ہے۔ تیل کی ترسیل متاثر ہو تو پوری دنیا میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ بحری گزرگاہیں بند ہوں تو تجارت رک سکتی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہوں تو منڈیاں لرز سکتی ہیں۔ اس لیے یہ تنازع جغرافیائی حدوں سے آگے بڑھ کر عالمی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
ایران اکیلا نہیں، اس کے پاس علاقائی اتحادی ہیں،ہماری اسمبلی میں اسحاق ڈار جیسے کاسہ لیس امریکہ اور اسرائیل کی زبان بول رہے ہیں اسے امارات میں مرنے والا ایک شخص تو یاد ہے مگر شہر قائد میں امریکی میرین کے ہاتھوں اور ایران میں شہید ہونے والی اسکول کی بچیوں پر اس کی زبان خاموش ہے ۔ اسرائیل ایران کے حریفوں کی نظر میں طاقتورہے، مگر جغرافیائی طور پر محدود اور مسلسل خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ امریکہ اثر رکھتا ہے، مگر طویل جنگوں سے تھکا ہوا۔ مسلم دنیا منقسم اور محتاط ہے۔ امریکہ اوراسرائیل اپنے مفادات کی شطرنج کھیل رہے ہیں۔ اور عام انسان — وہ اب بھی امن کی امید لگائے بیٹھا ہے۔
اب مکمل جنگ چھڑ چکی ہے جس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، عالمی معیشت بحران کا شکار ہو سکتی ہے، اور ایک چھوٹی سی غلطی ایٹمی تصادم کے خطرے کو جنم دے سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں اکثر چھوٹے واقعات سے شروع ہوتی ہیں — ایک غلط اندازہ، ایک جذباتی فیصلہ، ایک غیر متوقع حملہ۔
اصل سوال یہی ہے: کیا اس آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے؟ اس کاجواب ظالم کا ہاتھ روکنے میں پوشیدہ ہے۔ اگر مسلم ممالک مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی اپنائیں، امریکی ا ڈوں سے امریکی قبضہ واگزار کرالیں اگرچائنا ،روس ذمہ داری کو اہمیت دیں، اگر بیانیے کے بجائے حقیقت پسندی کو ترجیح دیں تو شاید یہ کشمکش مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے بچ جائے۔مگر اگر جذبات، خوف اور طاقت کا نشہ غالب آ گیا تو یہ جنگ صرف تین ملکوں کی نہیں رہے گی۔ یہ پوری دنیا کے لیے ایک نیا بحران بن سکتی ہے۔ اور تب تاریخ ایک اور باب لکھے گی ۔۔ایسا باب جس میں فاتح کم اور نقصان اٹھانے والے زیادہ ہوں گے۔
یہ جنگ آخرکار اسی سوال پر آ کر رکتی ہے، کیا طاقت کا توازن امن لا سکتا ہے یا صرف عارضی خاموشی؟ کیا مزاحمت اور دفاع کے بیانیے اصل مسئلے کو حل کرتے ہیں یا اسے طول دیتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر — کیا عام انسان کی زندگی ان نظریاتی جنگوں سے زیادہ قیمتی نہیں؟
جواب شاید سادہ ہے، مگر اس پر عمل پیچیدہ۔ جب تک خطے کی سیاست امریکی اور صیہونی مفادات کے گرد گھومتی رہے گی،ٹرمپ کی مکاری سے جب تک خلیجی ممالک امریکہ کے سہولت کار بنے رہیں گے ،یہ کشمکش کبھی صدام ،کبھی قذافی ،کبھی علی خامنہ ای کو رستے سے ہٹانے کی شکل میں جاری رہے گی۔ مگر امید ہمیشہ باقی رہتی ہے ،امید رکھیئے کہ عقل، جذبات پر غالب آجائے، اور مشرقِ وسطیٰ کی ریت میں بارود کے بجائے امن کے بیج بوئے جائیں۔
٭٭٭