... loading ...
حاصل مطالعہ
عبد الرحیم
دنیا ڈالر کے بارے میں خواہ کتنی ہی شکایت کرے لیکن جو ممالک سب سے زیادہ شور کررہے ہیں،وہی اسکی بالادستی کے ذمہ دار ہیں۔ چین بین الاقومی فنانس میں اپنی کرنسی رینمنبی کی بالادستی بڑھانا چاہتا ہے۔لیکن حالیہ داخلی اور بیرونی دبائو کے باوجود چینی اپنی کرنسی رینمنبی کے شرح تبادلہ کے کیپیٹل کنٹرولز کوکم کرنے اور مینجمنٹ میں نرمی پیدا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاررینمنبی کے اثاثوں کو خرید یا فروخت نہیں سکتے یا آزادانہ شرح تبادلہ پر بھروسہ نہیں کرسکتے جس کا تعین سرکاری کنٹرول کی بجائے مارکیٹ فورسز کریں،وہ ان اثاثوں سے دور بھاگیں گے۔چین کا عدالتی نظام اور مرکزی بینک سمیت ادارتی دائرہ کار کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول میں ہیں جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔
یورو زون اقتصادی مستحکم ہے لیکن اس کا مالی نظام انتہائی ٹوٹا ہوا ہے اور عوامی قوم پرستی کا عروج اس کے رکن ممالک کے درمیان تنازعات پیدا کر رہا ہے۔بڑی یورپی معیشتیںاور دوسرے ممالک مثلاً برطانیہ اور جاپان کو ترقی کی سست رفتار ،قرض کی اونچی شرح اور دوسری اقتصادی بے چینیوںکا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنی معیشتوں اور مالی نظام کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر نہیں کیا ہے۔اس لئے جب برآمد کنند ان ،درآمد کنند گان،سرمایہ کار اور مرکزی بینک اپنے فنڈز رکھنے کیلئے محفوظ جگہ کی تلاش میں نکلتے ہیں اور ایسی کرنسی کیلئے جسے وہ آسانی سے ا ور کم رکاوٹوں کے ساتھ استعمال کر سکیں ،وہ اکثر ڈالر کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔اس لئے اصل سوال یہ ہے کہ آیا دوسرے ممالک اپنی اقتصادی اور فنانشل ہائوسز کو صحیح حالت میں رکھیں گے تاکہ اپنے اداروں کو بہتر بنا سکیں۔ اس کے بغیر وہ ڈالر کے ر حم و کرم پر ہونگے جس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔
انتہائی دولت مند سیاح کیا چاہتے ہیں؟
یہ سیاح غیر ضروری آسائشات اور ذاتی توجہ چاہتے ہیں۔وہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے پاس وہ کچھ ہے جو دوسرے حاصل نہیں کرسکتے جس کے نتیجہ میں ایک بڑھتا ہوا صنعتی شعبہ انہیں آسائش فراہم کرتا ہے۔وہ مثالی کار گزاری اوردیہی علاقوں میں ولازکرائے پر گھر لیتے ہیں اورذاتی بٹلر چاہتے ہیں۔وہ کبھی انتظار نہیں کریں گے،لائن میں کھڑا نہیں ہونگے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اکٹھے نہیں رہنا چاہیں گے۔ ان کے انتظام کے سلسلے میں ایک زیادہ جامع سفری انفراسٹرکچروجود میں آگیا ہے جو ٹریول ایڈوائزر،concierge (پہریدار کی)خدمات اور ممبرز کلب پر مشتمل ہے۔یہ لگژری ٹریول مارکیٹ2025 میں1.77ٹرلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور2033 تک 2.1 ٹرلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ ممبران کلب ان کے ضرورت سے زیادہ کے اخراجات کوپورا کرتے ہیں۔ ان کے کلائنٹ کے پاس کم از کم 30 ملین ڈالر کے قابل سرمایہ کاری کے اثاثے ہوتے ہیں۔وہ ایک ہوٹل کا ایک رات کا کرایہ ہزروں ڈالرز اور ایک ولا کیلئے لاکھوں ڈالر ادا کرنے کیلئے تیارہیں۔
وہ کلائنٹ کے دیوانہ وار مطالبات اور توقعات کو پورا کرتے ہیں۔ایک کلائنٹ چاہتا ہے کہ اس کی تعطیلات کے دوران اس کے ٹین ایج بیٹے کیلئے بڑی مسرت کی حامل تقریب کا اہتمام کیا جائے اورسوسر(فٹبال) گیم کا انتظام کیا جائے جس میں اس کا بیٹا اٹلی کے ایک اسٹیڈیم میں بڑے نام کے پروفیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلے ۔ایک کلائنٹ نے ہوٹل کے ایسے کمرہ کے مطالبہ کیا جس کی کھڑکی جہاں سورج خط افق پر غروب ہوتا ہو، درخت یا پہاڑ کے پیچھے نہیں بلکہ براہ راست سمندر پر۔ یہ کلائنٹ کسی اور کے مقابلے میں زیادہ اسپیشل محسوس کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی بات مزاج کے خلاف ہو جائے،مثال کے طور پر کلائنٹ کواپنے کمرے میں چادر کا برانڈ پسند نہیں یا جب وہ باہر نکلیں توان کا ڈرائیور ریستوران کے باہر موجود نہیں تو وہ اس ہوٹل کو خیر آباد کہہ کر کسی کشتی میں پارٹی مناتے ہیں۔وہ فوری حل کیلئے سروس 24/7 کو ٹیکسٹ کرتے ہیں۔
موجودہ جنگ میں یورپ محض تماشائی
امریکی اور اسرائیلی جنگی طیارے ایرانی شہروں پر بمباری کر رہے ہیں،تویوروپی حلیف محض تماشائی ہیں۔صدر ٹرمپ نے انہیں جنگ کیلئے منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیا ہے جس کے براہ راست نتائج ان کی سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ کے متلون مزاج ٹیرف اور ان کی غیرپابند فوجی مہموں کی بنا ء پر انہیں احساس ہورہا ہے کہ یہ ٹرمپ کی دنیا ہے اور وہ اس میں رہ رہے ہیں۔خواہ یہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قتل ہو یا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی رات کے وقت گرفتاری،ٹرمپ نے بین الاقوامی حمایت،اقوام متحدہ کی منظوری یا قانونی جواز حاصل نہیں کیا ہے۔
روس کا یوکرین میں جارحیت کا جواز
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس کے صدر پوٹن ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے ٹرمپ کے نئے جوش وخروش سے یوکرین میں اپنی جارحیت کیلئے جواز فراہم کر سکتے ہیں۔ یہی بات چین کے صدر ژی جن پنگ کیلئے درست ہے جو تائیوان کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جسے چین اپنا صوبہ سمجھتا ہے۔
تیل اور گیس کے عالمی اثرات
گرین توانائی کادور ابھی بہت دور ہے،تیل اور گیس ابھی بھی نہایت اہم ہیں۔چین ،جاپان،جنوبی کوریا،تائیوان، اٹلی اور اسپین،یہ سب فیکٹری میں تیار کردہ اشیاء کے برآمد کنندگان ہیں۔وہ سب صدر ٹرمپ کی تجارتی جنگ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہیں ٹیرف اور خام مال مثلاً اسٹیل کی قیمت میں اضافہ کا سامنا ہے۔اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہی تو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان ہے۔ دنیا کا قدرتی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار ہے۔اگر آبنائے ہرمز میںسے راستہ چند ہفتوں سے زائد کیلئے رک جاتا ہے اور اگر ایرانی میزائلز ریفائنریز کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں پاکستا ن سمیت جنوبی ایشیا میں خورا ک کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور لوگوں کو ناقص تغذیہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
٭٭٭