... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
دنیا کی سیاست میں ہمیشہ دو راستے رہے ہیں۔ ایک راستہ آسانی کا اور ایک راستہ عزت کا۔ آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ طاقت کے سامنے سر جھکا دیا جائے ، سرمایہ کاری کے اعلانات کر دیے جائیں، اربوں ڈالر کے معاہدوں کی تصویریں بن جائیں، تحفوں کے جہاز اڑتے رہیں، سفارتی مسکراہٹیں بکھرتی رہیں۔یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر تخت محفوظ رہتے ہیں، محلات روشن رہتے ہیں۔۔۔ اورعالمی میڈیا تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہے ۔۔۔ دوسرا راستہ مشکل ہوتا ہے ،وہ راستہ جس میں تنہائی ہوتی ہے ، پابندیاں ہوتی ہیں، دباؤ ہوتا ہے ۔۔۔ اور اکثر انجام بھی کٹھن ہوتا ہے ۔سوال یہ نہیں کہ کون سا راستہ فائدہ مند ہے ۔سوال یہ ہے کہ کون سا راستہ تاریخ میں محفوظ رہتا ہے ۔۔۔؟ اگر کوئی حکمران چاہے تو وہ بھی عالمی طاقتوں کے سامنے مفاہمت کی میز سجا سکتا ہے ۔ وہ بھی سرمایہ، تجارت اور سفارتی مصلحتوں کے ذریعے اپنے لیے آسانیاں خرید سکتا ہے ۔ وہ بھی طاقت کے ایوانوں میں پسندیدہ بن سکتا ہے ۔ سیاست میں یہ سب ممکن ہوتا ہے اور اکثر ہوتا ہے ۔ لیکن کچھ لوگ سیاست کو محض اقتدار نہیں سمجھتے ، اسے مؤقف سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جھکنے سے وقتی سکون مل سکتا ہے ، مگر آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں سوال رہ جاتا ہے ۔ تاریخ کا مطالعہ کیجیے وہ صرف کامیاب لوگوں کو یاد نہیں رکھتی، وہ ثابت قدم لوگوں کو یاد رکھتی ہے ۔ کربلا محض ایک واقعہ نہیں، ایک استعارہ ہے ۔ یہ استعارہ ہے اس لمحے کا جب ایک فرد کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ بیعت کر لے اور محفوظ رہے یا انکار کرے اور آزمائش قبول کرے ۔ ہر دور میں کربلا نئے ناموں کے ساتھ زندہ ہوتی ہے ۔۔۔
قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ وہ لوگ جو ڈرے رہے ، خاموش رہے ، کہتے تھے بولیں گے تو مارے جائینگے ، تاریخ کا سب سے بڑا انعام یہی ہے آپ کو فراموش نہ کیا جائے ،اگروہ چاہتا تو وہ بھی عالمی طاقتوں کے دربار میں جا کر مفاہمت کی مہر لگوا لیتا۔ وہ بھی کہہ دیتا کہ سب ٹھیک ہے ، سب قبول ہے ، سب منظور ہے ۔ وہ بھی تحفوں اور معاہدوں کی سیاست میں شامل ہو جاتا۔ اس کے لیے بھی راستے بند نہیں تھے ۔ مگر انکار ہمیشہ تنہا ہوتا ہے ۔ انکار کے ساتھ تالیاں نہیں ہوتیں۔ انکار کے ساتھ پابندیاں ہوتی ہیں، دھمکیاں ہوتی ہیں، تنہائی ہوتی ہے ۔ تاریخ کا سب سے بڑا جرم یہ نہیں کہ کوئی ہار جائے ۔ سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کوئی بغیر لڑے ہتھیار ڈال دے ، آج کی دنیا میں وفاداری طاقت کے ساتھ ہوتی ہے ، حق کے ساتھ نہیں۔ اور جو طاقت کے سامنے کھڑا ہو جائے ، وہ فوراً مجرم بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن وقت کا پہیہ گھومتا ہے ۔ کل کے طاقتور آج مثال بن جاتے ہیں، اور کل کے تنہا لوگ روایت بن جاتے ہیں۔ کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھی، وہ یہ اعلان تھا کہ بیعت ہر قیمت پر لازم نہیں ہوتی۔اقتدار سب کچھ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی شکست بھی فتح سے بڑی ہوتی ہے ۔
یہ زمانہ سودے بازوں کا زمانہ ہے ۔ یہاں اصول نہیں، پیکیج بنتے ہیں۔ یہاں نظریات نہیں، ڈیلز سائن ہوتی ہیں۔ آج اگر کوئی طاقتور دروازہ کھٹکھٹائے تو حکمران دروازہ نہیں کھولتے قالین بچھا دیتے ہیں۔ ملاقات نہیں کرتے ، فرمانبرداری پیش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اقتدار بچ گیا تو سب کچھ بچ گیا۔ مگر اقتدار بچا کر کیا بچتا ہے ۔۔۔۔؟ اگر غیرت ہار جائے ۔ اگر خود مختاری گروی رکھ دی جائے ۔ اگر آنے والی نسلوں کو یہ سبق ملے کہ طاقت کے سامنے جھک جانا ہی عقل مندی ہے ۔ یہ دنیا ہمیشہ سے دو طرح کے لوگوں میں تقسیم رہی ہے ۔ ایک وہ جو وقت کے ساتھ بہتے ہیں۔ دوسرے وہ جو وقت کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہنے والے آرام سے جیتے ہیں، مگر ان کا ذکر صرف سرکاری فائلوں میں رہ جاتا ہے ۔ رخ موڑنے والے تکلیف سے جیتے ہیں، مگر ان کا ذکر تاریخ کے اوراق میں ہوتا ہے ۔
یاد رکھیے ، طاقت کبھی کسی کی مستقل دوست نہیں ہوتی۔ آج جو مسکرا رہی ہے ، کل وہی آنکھیں دکھاتی ہے ۔ آج جو معاہدہ ہے ، کل وہی دباؤ بن جاتا ہے ۔ اصل طاقت معاہدوں میں نہیں، قوم کے حوصلے میں ہوتی ہے ۔ اگر قوم کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کا لیڈر بکا نہیں، جھکا نہیں، تو وہ قوم مشکل برداشت کر لیتی ہے ۔ لیکن اگر اسے لگ جائے کہ اس کے فیصلے بازار میں طے ہو رہے ہیں، تو پھر معاشی خوشحالی بھی دلوں کو مطمئن نہیں کرتی۔یہ لڑائی صرف جغرافیے کی نہیں، ذہنوں کی ہے ۔ یہ سوال صرف سفارت کاری کا نہیں، شناخت کا ہے ۔ کبھی کبھی ایک ”ناں ” پوری نسلوں کو سیدھا کھڑا کر دیتی ہے ۔ اور کبھی ایک ” ہاں” پوری قوم کو جھکا دیتا ہے ۔ مگر ایک بات طے ہے جو ڈر کے جیتے ہیں وہ خاموش مر جاتے ہیں، اور جو ڈٹ کے کھڑے ہوتے ہیں، وہ ہار کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں مقدمے دیر سے چلتے ہیں مگر فیصلے ہمیشہ غیرت کے حق میں آتے ہیں۔
قومیں صرف معیشت سے نہیں جیتیں، قومیں وقار سے جیتیں ہیں۔ ریاستیں صرف سودوں سے نہیں بنتیں، ریاستیں شناخت سے بنتی ہیں۔ آج بھی دنیا اسی سوال کے گرد گھوم رہی ہے ، بیعت یا انکار۔۔۔؟ آسانی یا عزت۔۔۔؟ مصلحت یا مؤقف۔۔۔؟ فیصلہ ہر دور میں مختلف لوگ کرتے ہیں، مگر نتیجہ ہمیشہ آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔ اور شاید اسی لیے تاریخ آخرکار انہی کو زندہ رکھتی ہے جنہوں نے خوف کے موسم میں بھی سچ کا پرچم گرنے نہیں دیا۔
خامنہ ای کو بھی آسان راستے آتے تھے ، وہ بھی سعودی ولی عہد کی طرح امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیتے ۔۔۔ وہ بھی امیر قطر کی طرح اربوں ڈالر کا جہاز ٹرمپ کو تحفے میں دے دیتے ۔۔۔ وہ بھی شاہ اردن کی طرح ٹرمپ کے مدد گار بن جاتے ۔۔۔ وہ بھی شہباز شریف کی طرح ٹرمپ کے سامنے لیٹ جاتے ،وہ بھی چاہتے تو اماراتی حکمرانوں کی طرح نتین یاہو اور ٹرمپ کے ہاتھوں پر بیعت کرلیتے ،وہ بھی چاہتے تو اردگان کی طرح دوغلی پالیسی سے کام چلاتے رہتے ،وہ بھی چاہتے تو سیسی کی طرح انکے غلام بن جاتے لیکن انہوں نے حسین کی طرح بیعت سے انکار کردیا اور شہادت گلے لگا لی ،چون اسلامی ممالک کے حکمران کسی بے بس طوائف کی طرح چوڑیاں پہنے ،پائل باندھے کسی وڈیرے کے سامنے ناچتے ہوئے نظر آئے ، ،سپریم لیڈر شہید ہوئے تو یوں لگا۔۔۔ جیسے چون بہنوں کا اکلوتا بھائی غیرت سے مرگیا ہو۔۔۔
٭٭٭