وجود

... loading ...

وجود

چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

جمعرات 05 مارچ 2026 چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

بے لگام / ستار چوہدری

دنیا کی سیاست میں ہمیشہ دو راستے رہے ہیں۔ ایک راستہ آسانی کا اور ایک راستہ عزت کا۔ آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ طاقت کے سامنے سر جھکا دیا جائے ، سرمایہ کاری کے اعلانات کر دیے جائیں، اربوں ڈالر کے معاہدوں کی تصویریں بن جائیں، تحفوں کے جہاز اڑتے رہیں، سفارتی مسکراہٹیں بکھرتی رہیں۔یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر تخت محفوظ رہتے ہیں، محلات روشن رہتے ہیں۔۔۔ اورعالمی میڈیا تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہے ۔۔۔ دوسرا راستہ مشکل ہوتا ہے ،وہ راستہ جس میں تنہائی ہوتی ہے ، پابندیاں ہوتی ہیں، دباؤ ہوتا ہے ۔۔۔ اور اکثر انجام بھی کٹھن ہوتا ہے ۔سوال یہ نہیں کہ کون سا راستہ فائدہ مند ہے ۔سوال یہ ہے کہ کون سا راستہ تاریخ میں محفوظ رہتا ہے ۔۔۔؟ اگر کوئی حکمران چاہے تو وہ بھی عالمی طاقتوں کے سامنے مفاہمت کی میز سجا سکتا ہے ۔ وہ بھی سرمایہ، تجارت اور سفارتی مصلحتوں کے ذریعے اپنے لیے آسانیاں خرید سکتا ہے ۔ وہ بھی طاقت کے ایوانوں میں پسندیدہ بن سکتا ہے ۔ سیاست میں یہ سب ممکن ہوتا ہے اور اکثر ہوتا ہے ۔ لیکن کچھ لوگ سیاست کو محض اقتدار نہیں سمجھتے ، اسے مؤقف سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جھکنے سے وقتی سکون مل سکتا ہے ، مگر آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں سوال رہ جاتا ہے ۔ تاریخ کا مطالعہ کیجیے وہ صرف کامیاب لوگوں کو یاد نہیں رکھتی، وہ ثابت قدم لوگوں کو یاد رکھتی ہے ۔ کربلا محض ایک واقعہ نہیں، ایک استعارہ ہے ۔ یہ استعارہ ہے اس لمحے کا جب ایک فرد کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ بیعت کر لے اور محفوظ رہے یا انکار کرے اور آزمائش قبول کرے ۔ ہر دور میں کربلا نئے ناموں کے ساتھ زندہ ہوتی ہے ۔۔۔
قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ وہ لوگ جو ڈرے رہے ، خاموش رہے ، کہتے تھے بولیں گے تو مارے جائینگے ، تاریخ کا سب سے بڑا انعام یہی ہے آپ کو فراموش نہ کیا جائے ،اگروہ چاہتا تو وہ بھی عالمی طاقتوں کے دربار میں جا کر مفاہمت کی مہر لگوا لیتا۔ وہ بھی کہہ دیتا کہ سب ٹھیک ہے ، سب قبول ہے ، سب منظور ہے ۔ وہ بھی تحفوں اور معاہدوں کی سیاست میں شامل ہو جاتا۔ اس کے لیے بھی راستے بند نہیں تھے ۔ مگر انکار ہمیشہ تنہا ہوتا ہے ۔ انکار کے ساتھ تالیاں نہیں ہوتیں۔ انکار کے ساتھ پابندیاں ہوتی ہیں، دھمکیاں ہوتی ہیں، تنہائی ہوتی ہے ۔ تاریخ کا سب سے بڑا جرم یہ نہیں کہ کوئی ہار جائے ۔ سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کوئی بغیر لڑے ہتھیار ڈال دے ، آج کی دنیا میں وفاداری طاقت کے ساتھ ہوتی ہے ، حق کے ساتھ نہیں۔ اور جو طاقت کے سامنے کھڑا ہو جائے ، وہ فوراً مجرم بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن وقت کا پہیہ گھومتا ہے ۔ کل کے طاقتور آج مثال بن جاتے ہیں، اور کل کے تنہا لوگ روایت بن جاتے ہیں۔ کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھی، وہ یہ اعلان تھا کہ بیعت ہر قیمت پر لازم نہیں ہوتی۔اقتدار سب کچھ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی شکست بھی فتح سے بڑی ہوتی ہے ۔
یہ زمانہ سودے بازوں کا زمانہ ہے ۔ یہاں اصول نہیں، پیکیج بنتے ہیں۔ یہاں نظریات نہیں، ڈیلز سائن ہوتی ہیں۔ آج اگر کوئی طاقتور دروازہ کھٹکھٹائے تو حکمران دروازہ نہیں کھولتے قالین بچھا دیتے ہیں۔ ملاقات نہیں کرتے ، فرمانبرداری پیش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اقتدار بچ گیا تو سب کچھ بچ گیا۔ مگر اقتدار بچا کر کیا بچتا ہے ۔۔۔۔؟ اگر غیرت ہار جائے ۔ اگر خود مختاری گروی رکھ دی جائے ۔ اگر آنے والی نسلوں کو یہ سبق ملے کہ طاقت کے سامنے جھک جانا ہی عقل مندی ہے ۔ یہ دنیا ہمیشہ سے دو طرح کے لوگوں میں تقسیم رہی ہے ۔ ایک وہ جو وقت کے ساتھ بہتے ہیں۔ دوسرے وہ جو وقت کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہنے والے آرام سے جیتے ہیں، مگر ان کا ذکر صرف سرکاری فائلوں میں رہ جاتا ہے ۔ رخ موڑنے والے تکلیف سے جیتے ہیں، مگر ان کا ذکر تاریخ کے اوراق میں ہوتا ہے ۔
یاد رکھیے ، طاقت کبھی کسی کی مستقل دوست نہیں ہوتی۔ آج جو مسکرا رہی ہے ، کل وہی آنکھیں دکھاتی ہے ۔ آج جو معاہدہ ہے ، کل وہی دباؤ بن جاتا ہے ۔ اصل طاقت معاہدوں میں نہیں، قوم کے حوصلے میں ہوتی ہے ۔ اگر قوم کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کا لیڈر بکا نہیں، جھکا نہیں، تو وہ قوم مشکل برداشت کر لیتی ہے ۔ لیکن اگر اسے لگ جائے کہ اس کے فیصلے بازار میں طے ہو رہے ہیں، تو پھر معاشی خوشحالی بھی دلوں کو مطمئن نہیں کرتی۔یہ لڑائی صرف جغرافیے کی نہیں، ذہنوں کی ہے ۔ یہ سوال صرف سفارت کاری کا نہیں، شناخت کا ہے ۔ کبھی کبھی ایک ”ناں ” پوری نسلوں کو سیدھا کھڑا کر دیتی ہے ۔ اور کبھی ایک ” ہاں” پوری قوم کو جھکا دیتا ہے ۔ مگر ایک بات طے ہے جو ڈر کے جیتے ہیں وہ خاموش مر جاتے ہیں، اور جو ڈٹ کے کھڑے ہوتے ہیں، وہ ہار کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں مقدمے دیر سے چلتے ہیں مگر فیصلے ہمیشہ غیرت کے حق میں آتے ہیں۔
قومیں صرف معیشت سے نہیں جیتیں، قومیں وقار سے جیتیں ہیں۔ ریاستیں صرف سودوں سے نہیں بنتیں، ریاستیں شناخت سے بنتی ہیں۔ آج بھی دنیا اسی سوال کے گرد گھوم رہی ہے ، بیعت یا انکار۔۔۔؟ آسانی یا عزت۔۔۔؟ مصلحت یا مؤقف۔۔۔؟ فیصلہ ہر دور میں مختلف لوگ کرتے ہیں، مگر نتیجہ ہمیشہ آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔ اور شاید اسی لیے تاریخ آخرکار انہی کو زندہ رکھتی ہے جنہوں نے خوف کے موسم میں بھی سچ کا پرچم گرنے نہیں دیا۔
خامنہ ای کو بھی آسان راستے آتے تھے ، وہ بھی سعودی ولی عہد کی طرح امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیتے ۔۔۔ وہ بھی امیر قطر کی طرح اربوں ڈالر کا جہاز ٹرمپ کو تحفے میں دے دیتے ۔۔۔ وہ بھی شاہ اردن کی طرح ٹرمپ کے مدد گار بن جاتے ۔۔۔ وہ بھی شہباز شریف کی طرح ٹرمپ کے سامنے لیٹ جاتے ،وہ بھی چاہتے تو اماراتی حکمرانوں کی طرح نتین یاہو اور ٹرمپ کے ہاتھوں پر بیعت کرلیتے ،وہ بھی چاہتے تو اردگان کی طرح دوغلی پالیسی سے کام چلاتے رہتے ،وہ بھی چاہتے تو سیسی کی طرح انکے غلام بن جاتے لیکن انہوں نے حسین کی طرح بیعت سے انکار کردیا اور شہادت گلے لگا لی ،چون اسلامی ممالک کے حکمران کسی بے بس طوائف کی طرح چوڑیاں پہنے ،پائل باندھے کسی وڈیرے کے سامنے ناچتے ہوئے نظر آئے ، ،سپریم لیڈر شہید ہوئے تو یوں لگا۔۔۔ جیسے چون بہنوں کا اکلوتا بھائی غیرت سے مرگیا ہو۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی وجود جمعرات 05 مارچ 2026
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

Crime and Punishment وجود جمعرات 05 مارچ 2026
Crime and Punishment

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ وجود جمعرات 05 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر