وجود

... loading ...

وجود

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

بدھ 04 مارچ 2026 بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

ریاض احمدچودھری

بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے غیرقانونی طورپر گزشتہ ماہ فروری میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے 6 کشمیریوں کو شہید کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہید ہونے والوںمیں سے چار کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیاگیا۔ اس دوران بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز ،پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ ایجنسیوں کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) اور ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے علاقے میں 29 شہریوں کو گرفتار کیا جن میں زیادہ تر سیاسی کارکن اور نوجوان تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں کوغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کے تحت نظربند کیا گیاتاکہ اختلاف رائے کو دبایاجائے اوران کی غیر قانونی نظربندی کو طول دیا جاسکے۔
شہادتیں اور گرفتاریاں پورے علاقے میں بھارتی فورسزکی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی183 کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران کی گئیں۔ ایک ماہ کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت انتہائی فرقہ پرست اور بدعنوان انتظامیہ نے جو بھارتی وزیر داخلہ کے براہِ راست کنٹرول میں ہے، نوآبادیاتی طرز کے مظالم کو تیز کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں لوگوںکے گھروں اور زمینوں سمیت15 جائیدادوں ضبط کیں۔ یہ غیر قانونی ضبطیاں کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور ان کے سیاسی موقف اورجذبہ آزادی کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔حریت رہنماؤں، کارکنوں، نوجوانوں، طلبائ اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت 3ہزار سے زائد کشمیری مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیںجن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، شاہدالاسلام، فاروق احمدڈار، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال احمد صدیقی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد حیات بٹ، نور محمد فیاض، ڈاکٹر حمید فیاض، رفیق احمد گنائی اور انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز کے ساتھ ساتھ تین درجن سے زائدخواتین شامل ہیں ، انہیں تحریک آزادی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔بھارتی فوج کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر رہی ہے۔ یہ ضبطی کالے قوانین کے تحت پولیس سٹیشن سوپور میں درج ایک کیس کے سلسلے میں کی گئی۔ ضبط کی گئی جائیدادیں لٹھ شاٹ تجر کے بشیر احمد میر اور ہارون کے اعجاز احمد بٹ کی ملکیت ہیں۔ قابض حکام نے دعویٰ کیا کہ دونوں برسوں سے گرفتاری سے بچنے کے لئے فرار ہیں اور بعد ازاں ایک عدالت نے انہیں اشتہاری مجرم قرار دیاہے۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ دونوں آزاد کشمیر چلے گئے ہیں اوروہ بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ عدالتی احکامات کے بعد ضبطی کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ دہائیوں پرانے کیسز اورکالے قوانین کے تحت ا س طرح کی کارروائیاں کشمیریوں خاص طور پر سیاسی یا مزاحمتی سرگرمیوں میں ملوث افراد کومعاشی اور سماجی طور پر کمزورکرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔
مقبوضہ علاقے میںجائیداد کی ضبطی اور طویل قانونی کارروائیوں کو دباؤ ڈالنے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔بھارتی حکومت ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر کے مظلوم عوام کے جذبہ حریت کوکمزوراور کالے قوانین اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے اختلاف رائے کو دبانا چاہتی ہے۔ ان پرتشدد کارروائیوں میں خاص طور پر کشمیری نوجوانوں اور آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور بیرون ملک مقیم حریت رہنماؤں کے اہلخانہ کو نشانہ بنایا جارہاہے، جو کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے لیے اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک1500 سے زائد کشمیریوں کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے وادی کشمیر کے تمام حصوں میں بیک وقت کارروائیاں شروع کی ہیں اور ان کارروائیوں کا بنیادی اہداف آزادی پسند کارکن، ان کے ہمدرد، اوور گرانڈ ورکرز اور وہ لوگ ہیں جن کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے مقدمات درج ہیں، تاہم وہ فی الحال ضمانت پر ہیں۔ گھروں پر چھاپوں کے دوران مکان اور بینک کے دستاویزات، ڈیجیٹل آلات، کتابیں اور دیگر اشیا ضبط کی جاتی ہیں۔ بارہمولہ میں 16حریت کارکنوں کے گھروں کی تلاشی لیکر10افراد کوکالے قوانین کے تحت گرفتارکیا گیا ہے۔اسکے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی 32کارروائیاں کی گئی ہیں، جنوبی کشمیر کے اضلاع اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں پولیس نے متعدد مقامات پربڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں حال ہی میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں اور ان کے ساتھیوں کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔
گھروں پر چھاپوں کے دوران مکان اور بینک کے دستاویزات، ڈیجیٹل آلات، کتابیں اور دیگر اشیا ضبط کی جاتی ہیں۔ بارہمولہ میں 16حریت کارکنوں کے گھروں کی تلاشی لیکر10افراد کوکالے قوانین کے تحت گرفتارکیا گیا ہے۔اسکے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی 32کارروائیاں کی گئی ہیں، جنوبی کشمیر کے اضلاع اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں پولیس نے متعدد مقامات پربڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں حال ہی میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں اور ان کے ساتھیوں کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔ضلع بڈگام میں بھی پولیس نے آزادی پسند کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون کیا، گاندربل میں بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 39 کشمیریوں کو گرفتار کر کے گاندربل کی دگنی بل جیل میں قیدکر دیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر