... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
اے مسلم حکمرانو!!
جب کسی تباہ شدہ اسکول کے ملبے سے ایک ننھا سا جوتا نکلتا ہے تو وہ صرف ایک بچے کا نہیں ہوتا، وہ تمہاری قیادت کا جنازہ ہوتا ہے ۔۔۔ آنے والی نسلیں تمہیں حکمران نہیں کہیں گی، وہ تمہیں تماشائی لکھیں گی، یاد رکھنا خاموشی بھی جرم ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور تاریخ خاموش لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔۔۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے مسلمانوں کی تعداد تو ایک ارب سے زیادہ ہے مگر قیادت ایک بھی نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ قومیں دشمن سے کم، اپنے حکمرانوں کی کمزوری سے زیادہ ہارتی ہیں۔۔۔۔اور آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے ،اقتدار کی ہوس نے قیادت کو قید کر لیا ہے ۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اپنے عوام سے زیادہ اپنی کرسی عزیز ہے ۔ انہیں ایران اور غزہ کے ملبے تلے دبے بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں، انہیں واشنگٹن کے دروازے بند ہونے کا ڈر سنائی دیتا ہے ۔وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں امریکا ناراض نہ ہو جائے ، کہیں ان کی حکومت کا تخت الٹ نہ دیا جائے ، کہیں ان کے اثاثے منجمد نہ ہو جائیں ،کہیں ان کی شاہانہ زندگی پر سوال نہ اٹھ جائے ، یہ خوف یہی خوف انہیں خاموش رکھتا ہے ۔
کہتے ہیں جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ جنگیں سب سے پہلے بچوں کے خوابوں پر گرتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی فضا بارود
سے بھری ہوئی ہے ،ایرانی شہر مناب کا سکول، صبح کی اسمبلی شاید مکمل نہ ہو سکی ہو۔ کسی ماں نے بیٹے کو یہ کہہ کر رخصت کیا ہو کہ جلدی آنا، اور وہ
واپسی کبھی نہ ہوگی۔ اسکول صرف عمارت نہیں ہوتا۔ وہ مستقبل ہوتا ہے ۔۔۔ اور جب مستقبل پر بم گرتے ہیں، تو صرف اینٹیں نہیں گرتیں، امیدیں دفن ہوتی ہیں،سوال یہ نہیں مرنے والے کس ملک کے تھے سوال یہ ہے کہ وہ بچے تھے ۔ایران کے بعد نگاہ فلسطین کی طرف جاتی ہے ۔ وہ سرزمین جہاں بچپن اکثر شناختی کارڈ سے پہلے قبرستان میں درج ہو جاتا ہے ۔ سالہا سال سے غزہ اور مغربی کنارے کی گلیوں میں بچوں کی آنکھوں نے کھلونوں سے زیادہ ڈرون دیکھے ہیں۔ ان کے کھیل کے میدان ملبے میں بدل چکے ہیں۔ اسپتال محفوظ نہیں، اسکول محفوظ نہیں، گھر محفوظ نہیں۔دنیا مذمت کرتی ہے ۔ قراردادیں پاس ہوتی ہیں۔ اجلاس ہوتے ہیں۔ مگر بچوں کے کفن سفید ہی رہتے سیاست کا رنگ ان تک نہیں پہنچتا۔
امریکا عالمی سیاست کا سب سے طاقتور کھلاڑی ہے ۔ اس کے فیصلے حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں۔ جس ملک کو اتحادی قرار دے ، وہ محفوظ۔ جسے مخالف کہہ دے ، وہ پابندیوں، حملوں یا تنہائی کا شکار۔ عراق کی مثال سامنے ہے تباہی کے وہ ہتھیار کبھی نہ ملے جن کے نام پر جنگ لڑی گئی۔ افغانستان بیس سال تک جنگ کی آگ میں جلتا رہا۔ لیبیا کی حکومت گری، مگر استحکام نہ آ سکا۔ شام آج بھی تقسیم اور تباہی کی داستان ہے ۔سوال یہ نہیں کہ ان ممالک کی اندرونی کمزوریاں نہیں تھیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی مداخلت نے زخم بھرے یا اور گہرے کیے ۔۔۔۔؟
مسلم حکمرانوں کواپنے بچوں کی نہیں،اپنے ایوانوں کی فکر ہے ،دنیا کا کون سا مذہب بچوں کے قتل کی اجازت دیتا ہے ۔۔۔؟ کون سا قانون، کون سا آئین معصوموں کے لہو کو جائز قرار دیتا ہے ۔۔۔؟ اخلاقیات کا کون سا باب کہتا ہے کہ اسکولوں پر بم گراؤ۔۔۔؟ یہ سوال صرف امریکا یا اسرائیل سے نہیں، یہ سوال ان چون اسلامی ممالک سے بھی ہے ، جن کے پاس ایٹم بم ہیں، جدید میزائل ہیں، کھربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ ہیں، لاکھوں کی افواج ہیں،دولت کے انبار ہیں،معدنی وسائل ہیں،بندرگاہیں ہیں۔۔۔۔ مگر جرات نہیں۔طاقت صرف اسلحے کا نام نہیں ہوتی۔ طاقت موقف کا نام ہوتی ہے ۔ طاقت سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہوتی ہے ۔ افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے طاقت کو اسلحے میں تول لیا اور وقار کو معاہدوں میں بیچ دیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی انہیں محفوظ رکھے گی۔ مگر تاریخ کہتی ہے جو ظلم پر خاموش رہتا ہے ، وہ اگلا نشانہ خود بنتا ہے ۔
یہ کالم کسی جنگ کی دعوت نہیں۔ یہ کالم انتقام کا اعلان نہیں۔ یہ صرف ایک سوال ہے کیا مسلم دنیا میں کوئی ایسا حکمران ہے ، جو کم از کم اتنا کہہ سکے ” ہمارے بچوں کو مت مارو”اتنا کہنے کے لیے ایٹم بم کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف ضمیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور شاید مسلم دنیا کا سب سے بڑا بحران یہی ہے اسلحہ بہت ہے ، ضمیر کم ہے ۔ کاش کبھی کسی کانفرنس ہال میں کسی شاہی محل کے اندر کوئی حکمران اپنی تقریر روک کر یہ کہہ دے ہم خاموش نہیں رہیں گے ، ہم انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ چاہے قیمت کچھ بھی ہو، اس دن شاید امت پھر سے امت بن جائے ۔ورنہ ہم اسی طرح بیانات دیتے رہیں گے ، اور تاریخ ہمارے بچوں کے خون سے سوال لکھتی رہے گی۔
اے مسلم حکمرانو!!
جب کسی تباہ شدہ اسکول کے ملبے سے ایک ننھا سا جوتا نکلتا ہے تو وہ صرف ایک بچے کا نہیں ہوتا وہ تمہاری قیادت کا جنازہ ہوتا ہے ۔ جب کوئی ماں اپنے بیٹے کا بستہ سینے سے لگا کر چیختی ہے تو اس کی آواز آسمان تک جاتی ہے ، مگر تمہارے ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔ تم کہتے ہو حالات پیچیدہ ہیں۔ تم کہتے ہو سفارت کاری ضروری ہے ۔ تم کہتے ہو وقت مناسب نہیں۔ مگر بچوں کی موت کبھی مناسب وقت دیکھ کر نہیں آتی۔ تمہارے پاس افواج ہیں، تمہارے پاس دولت ہے ، تمہارے پاس ہتھیار ہیں، مگر شاید تمہارے پاس وہ ایک چیز نہیں جسے غیرت کہتے ہیں۔ تمہیں ڈر ہے کہ کہیں تمہاری کرسی نہ چلی جائے ۔ مگر سوچو جب تمہارے اپنے بچے تاریخ پڑھیں گے اور پوچھیں گے کہ ابو! جب دوسرے بچوں پر بم گر رہے تھے ، آپ کیا کر رہے تھے ۔۔۔؟ تو کیا جواب دو گے ۔۔۔۔؟ کہا کہو گے کہ ہم نے ایک سخت مذمتی بیان جاری کیا تھا۔۔؟ یاد رکھو، کرسی عارضی ہوتی ہے کفن مستقل۔ طاقت ہمیشہ نہیں رہتی مگر کردار رہ جاتا ہے ۔ اگر تم آج بھی صرف مفادات کی زبان بولتے رہے تو آنے والی نسلیں تمہیں حکمران نہیں کہیں گی وہ تمہیں تماشائی لکھیں گی۔ اور سب سے دردناک بات یہ ہوگی کہ تمہارے پاس سب کچھ تھا سوائے ہمت کے ۔یاد رکھنا خاموشی بھی جرم ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور تاریخ خاموش لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔
٭٭٭