وجود

... loading ...

وجود

ہم خود قیامت تھے

بدھ 25 فروری 2026 ہم خود قیامت تھے

بے لگام / ستار چوہدری

دواہم باتیں،میں تو سوچتا ہوں ،آپ بھی سوچیں، کیوں ۔۔۔ ؟خاموش معاشرے زوال پزیر ہوجاتے ہیں،زندہ رہنے کی آوازیں دب جاتی ہیں،خاموشی توڑنے والا فرد ہی معاشرے کو زندہ رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔مصری مصنف نووال السعداوی کہتی ہیں انسان کو شرمندہ ہونا چاہیے جب اس کا معاشرہ ناکام ہو اوروہ اسے تبدیل کرنے کیلئے کچھ پیش نہ کر سکے ۔
پہلی بات۔۔۔۔!!
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں، کیا ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی یا انگریزوں نے ہم سے آزادی حاصل کی تھی ۔۔۔ ؟ کیونکہ۔۔۔ قومیں جب آزاد ہوتی ہیں تو ان کے رویے بدلتے ہیں،سوچ میں وسعت آتی ہے ، کردار میں مضبوطی آتی ہے ، اداروں میں وقار آتا ہے ۔ مگر ہم نے کیا حاصل کیا۔۔۔۔؟ ہم نے انگریز کی وردی بدل دی مگر ذہنیت نہیں بدلی، ہم نے گوروں کی کرسی پر اپنوں کو بٹھا دیا مگر رعایا والا نظام برقرار رکھا۔ ہم آج بھی طاقت کے سامنے جھکتے ہیں، آج بھی قانون کمزور کیلئے ہے اور طاقتور کے لیے راستہ، آج بھی سفارش، چاپلوسی اور مفاد پرستی ترقی کا زینہ ہیں۔ پھر سوال تو بنتا ہے ، اگر یہ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا غلامی کے دور میں تھا، تو پھر آزادی کہاں آئی۔۔۔۔؟ کبھی کبھی لگتا ہے انگریزوں نے سوچا ہوگا۔۔۔ یہ قوم خود ہی اپنے اوپر حکومت کر کے وہ سب کرے گی جو ہم کرتے تھے تو بہتر ہے ہم واپس چلے جائیں۔۔۔۔ آزادی جھنڈا لہرانے کا نام نہیں، آزادی سوچ آزاد کرنے کا نام ہے ۔۔۔ اور شاید ہم نے جھنڈا تو حاصل کر لیا مگر ذہن کی زنجیریں نہیں توڑ سکے ۔
دوسری بات۔۔۔!!
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں،جس قیامت پر ہمارا ایمان ہے ،کہیں ایسا تو نہیں،وہ بہت پہلے آچکی ہو اور ہم دوزخ میں رہ رہے ہوں۔۔۔۔؟ کبھی کبھی دل کانپ اٹھتا ہے ، یہ کیسا زمانہ ہے ۔۔۔؟ یہاں خون ہے ، ایسا خون جو زمین پر گرتا ہے او خبر بھی نہیں بنتا۔ یہاں آگ ہے ، ایسی آگ جو گھروں میں نہیں، دلوں میں جل رہی ہے ۔یہاں اندھیرے ہیں ،ایسے اندھیرے جو صرف رات کے نہیں، نظام کے ہیں۔ یہاں تشدد ہے ،لفظوں میں بھی، رویوں میں بھی، فیصلوں میں بھی۔ یہاں قید و بند ہے ، جسموں کی بھی، آوازوں کی بھی،سوچوں کی بھی۔ یہاں سزائیں ہیں، کبھی جرم سے پہلے ، کبھی بغیر جرم کے ۔ یہاں نفسا نفسی کا عالم ہے ، ہر شخص اپنی جان بچانے میں مصروف، کسی کو کسی کا درد سننے کی فرصت نہیں۔ ہم نے دوزخ کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں آگ ہوگی، چیخیں ہوں گی، رحم نہیں ہوگا، نجات کا راستہ بند ہوگا۔ تو پھر یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔۔۔۔؟ یہ منظر کسی جنت کا تو نہیں۔۔۔۔؟
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں ۔۔ مجھے لگتا ہے ہم آزادی کے قابل تھے مگر ذمہ داری کے قابل نہیں تھے ۔ہم نے حق مانگا مگر فرض بھول گئے ، ہم نے نعرے سیکھے مگر اصول نہیں سیکھے ۔ ہم نے جذبات کو سیاست بنا لیا اور شعور کو مذاق۔ہم نے لیڈر کو مسیحا بنا دیا اور خود کو بے بس ہجوم۔ ہم نے ووٹ کو ہتھیار سمجھا مگر امانت نہیں سمجھا۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا لیا اور مکالمے کو کمزوری۔ ہم نے قانون کو کتابوں تک محدود رکھا اور طاقت کو عملی آئین بنا لیا۔ ہم نے سچ کو خطرہ سمجھا اور جھوٹ کو حکمتِ عملی۔ ہم نے دیانتدار کو بے وقوف کہا اور چالاک کو ذہین۔ ہم نے تعلیم کو ڈگری سمجھا اور کردار کو غیر ضروری۔ ہم نے نوجوانوں کو نعروں میں الجھا دیا اور ان کے سوالوں سے خوف کھایا۔ ہم نے مذہب کو ہتھیار بنایا اور اخلاق کو پس پشت ڈال دیا۔ ہم نے ہر شکست کا الزام دوسروں پر رکھا اور ہر غلطی پر خود کو معاف کر دیا۔ ہم نے اداروں سے دیانت مانگی مگر خود دیانت دینے کو تیار نہ ہوئے ۔ ہم نے تبدیلی کا انتظار کیا مگر خود بدلنے کا ارادہ نہ کیا۔ ہم نے آزادی کا جشن منایا مگر غلام ذہنیت پر ماتم نہ کیا۔ ہم نے تاریخ پر فخر کیا مگر حال پر شرمندگی محسوس نہ کی۔ ہم نے آئین کو مقدس کہا مگر عمل کو اختیاری سمجھا۔ ہم نے قوم ہونے کا دعویٰ کیا مگر ہجوم سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ ہم نے خواب بڑے دیکھے مگر نیت چھوٹی رکھی۔ ہم نے طاقت کو معیار بنایا اور انصاف کو تقریر تک محدود رکھا۔ ہم نے سچ بولنے والوں کو تنہا چھوڑ دیا اور تالیاں بجانے والوں کو آگے کر دیا۔ ہم نے ہر بار یہی کہا کہ وقت بدل جائے گا مگر وقت کو بدلنے کی کوشش نہ کی۔
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں، اگر آج انگریز واپس آ جائیں تو کیا ہوگا۔۔۔؟ شاید وہ ہمیں دیکھ کر حیران ہوں۔ کہ ہم نے ان کے بغیر بھی وہی نظام زندہ رکھا ہے ۔ وہی فاصلے ، وہی ناانصافیاں، وہی تکبر، وہی غلام ذہنیت۔
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں، اگر قیامت واقعی آ جائے اور ہمیں صف ِحساب میں کھڑا کر دیا جائے ، تو ہم کیا کہیں گے ۔۔۔۔؟ کہ ہمیں موقع نہیں ملا۔۔۔؟ کہ حالات خراب تھے ۔۔۔؟ کہ سازشیں تھیں۔۔۔؟ یا یہ کہیں گے کہ ہم نے سچ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کی۔۔۔؟ ہم نے غلط کو غلط کہنے سے ڈر محسوس کیا۔۔۔؟ ہم نے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔۔۔؟ قیامت شاید زمین کے پھٹنے کا نام نہیں قیامت شاید اس دن کا نام ہے جب ضمیر مر جائے ۔ اور اگر ضمیر زندہ ہو تو پھر امید بھی زندہ ہے ۔ آزادی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ قیامت ابھی آئی نہیں۔ مگر وقت کم ضرور ہو رہا ہے ۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے ہم تاریخ کا ماتم بننا چاہتے ہیں یا تاریخ کا موڑ۔۔؟ ہم غلام ذہن رہنا چاہتے ہیں یا آزاد کردار بننا چاہتے ہیں۔۔۔؟ ہم دوزخ جیسی زندگی کا رونا روتے رہیں گے یا اسے بدلنے کی ضد کریں گے ۔۔۔۔؟
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں،آپ بھی سوچیں، قیامت کی گھنٹی بج چکی ہے ۔۔۔ اور اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو شاید کل تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ ہم پر قیامت آئی تھی تاریخ یہ لکھے گی کہ ہم خود قیامت تھے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم وجود بدھ 25 فروری 2026
نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر