... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
خبروں کی تلاش میں زمین سے ناک لگائے سرگرداں میڈیا کبھی کبھار کچھ اہم واقعات کی جانب سے حیرت انگیز طور پر پوری طرح آنکھیں موند لیتا ہے ۔ اسی طرح کا معاملہ امریکی سرزمین پر سکھ رہنما گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام سازش کا اعتراف کرنے والے ہندوستانی شہری نکھل گپتا کے ساتھ ہوا ۔ اس ہندوستانی باشندے کو بچانے کی خاطر حکومتِ ہند کو اپنی سفارتی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے تھا۔ یمن میں نرس نمیشا پریا پر اپنے تجارتی پارٹنر طلال عبدو مہدی کے قتل کا الزام ثابت ہوگیا تھا اس کے باوجود اسے بچانے کی خاطر کیرالہ کے شیخ ابوبکر کے رسوخ کو استعمال کیا گیا۔ یہی معاملہ قطر میں گرفتار ہونے والے مبینہ سابق فوجیوں کے ساتھ بھی ہوا جن پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا تھا لیکن بیچارے نکھل گپتا کو یکہ و تنہا چھوڑ دیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ نکھل کو کسی عرب ملک میں نہیں بلکہ امریکی ریاست نیویارک کے شہر مین ہٹن میں سزا سنائی گئی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ کوئی نجی تنازع میں ہونے والی قتل کی واردات نہیں ہے بلکہ امریکی اٹارنی ترجمان کے مطابق، اس پر حکومت ہند کی حمایت سے امریکہ میں سکھ علیحدگی پسند کو قتل کرنے کا الزام ہے ۔ ایسے میں سرکار کا اسے بچانے کی کوشش کرنا گویا خود اپنا دفاع کرنے کے مترادف ہے اس لیے جب حکومت نے طوطا چشمی نظریں پھیر لیں تو گودی میڈیا کی کیا مجال کہ اس جانب نظر اٹھا کر دیکھے ؟
نکھل گپتا نے جس طرح تینوں فوجداری الزامات میں اعترافِ جرم کر لیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت سے وہ پوری طرح مایوس ہوچکا ہے اور سرکار بھی اس معاملے کو رفع دفع کرکے دفن کردینا چاہتی ہے، اسی لیے چہار سو پر اسرار سناٹا پسرا ہوا ہے ۔54سالہ نکھل گپتا نے گزشتہ ہفتے کرائے کے قاتل کو بھرتی کرنے ،قتل کی سازش اورمنی لانڈرنگ کی سازش کے تینوں الزامات کو تسلیم کرلیا۔ یہ ایسا اقرارِ جرم ہے کہ اس پر مجموعی طور سے بیش از بیش 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ نکھل گپتا کی پردہ داری کا سبب یہ ہے کہ اس سے ہندوستان کی عالمی شبیہ پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے ۔ عرصۂ دراز کی محنت و مشقت سے حکومتِ ہند نے عالمی سطح پر یہ حقیقت منوانے میں کامیاب ہوگئی کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے ۔ اسی سے آپریشن بالا کوٹ اور آپریشن سیندور کا جواز نکلتا تھا لیکن پھر بھی لشکر یا جیش جیسے گروہوں کی آزاد حیثیت تھی۔ حکومتِ پاکستان پر آئی ایس آئی کے توسط سے ان کو تحفظ و حمایت کا الزام لگتا تھا لیکن نکھل گپتا کو تو سرکار کا آلۂ کار بتا کر مودی سرکار کو گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔یہ برسوں سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے پرامن ملک کی شبیہ کو نیست و نابود کرنے کے مترادف غیر معمولی نقصان ہے ۔
نکھل گپتا کو جون 2024 میں جمہوریہ چیک سے امریکیوں نے گرفتار کرواکر بروکلین کی جیل میں قیدکررکھا ہے ۔ ابتداء میں انہیں شاید مودی جی سے امید رہی ہوگی کہ وہ اسے بچا لیں گے اس لیے انہوں نے صحتِ جرم سے انکار کردیا لیکن اب لگتا ہے وہ مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں ۔ اس لیے امریکی وفاقی عدالت میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا اعتراف کرلیا ۔ امریکی پراسیکیوٹرز کا عدالت میں یہ انکشاف تشویشناک ہے کہ نکھل گپتا کوبراہِ راست ایک ہندوستانی سرکاری اہلکار نے قتل کا ہدف دیا تھا۔پراسیکیوٹر کے مطابق نکھل گپتا ہندوستانی حکومت کے تحت کام کرنے والے اس گروپ کا حصہ تھا جو بیرونِ ملک علیحدگی پسند سکھوں کا نشانہ بناتا ہے ۔ پاکستان کے اندر جب بھی کوئی کشمیری علیٰحدگی پسند رہنما قتل ہوتا تھا تو اس خبر کو حفاظتی صلاح کار کا کارنامہ بتاکر گودی میڈیا میں خوشی منائی جاتی اور وزیر اعظم کی بھی تعریف و توصیف ہوتی ۔ وقت کے ساتھ یہ معاملہ کشمیر سے خالصتان کی جانب مڑا اورا مریکہ و کینیڈا تک پھیل گیا ۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ ہدف بن گئے جو وہاں کی شہریت لے چکے تھے اس سے بات بگڑ گئی۔
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کا نام اس وقت ذرائع ابلاغ پر چھا گیا جب انہوں نے کہا تھا کہ قتل کے حوالے سے ہندوستان کے ملوث ہونے کا ان کا دعویٰ سچا ثابت ہوگیا ہے ۔ وہ بولے جسٹس ٹروڈو کے بیان سے را اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کی سازش دنیا بھر میں بے نقاب ہوگئی۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کو خالصتان کی تحریک سے دستبردار ہونے کیلئے ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ پنوں کی سکھ فار جسٹس نے ہردیپ سنگھ کے قتل میں مطلوب ہندوستانی سفارت کاروں کے وانٹڈ پوسٹر بھی جاری کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نشانے پر آگئے اور نیویارک میں خالصتانی علاحدگی پسند لیڈر گروپتونت سنگھ پنو کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ اب کوئی الزامِ محض نہیں ہے بلکہ ہندوستانی شہری نکھل گپتا کے اعتراف جرم کے بعد حقیقت بن گیا ہے ۔ مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں خالصتان حامی لیڈر کے قتل کی مبینہ سازش کا اعتراف کیا ہوچکاہے ۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق٥٤ سالہ گپتا نے سپاری لے کر قتل، قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ سمیت سنگین الزامات کا اعتراف کیا ہے۔ گپتا کو اب29 مئی کو سزا سنائی جائے گی۔ استغاثہ کے مطابق2023 میں نکھل گپتا نے مبینہ طور پر ایک غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے ملازم وکاس یادو کی ہدایت پر نیویارک میں خالصتان حامی لیڈر گروپتونت سنگھ پنو کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ امریکی تحقیقاتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا تھاجسے وہ جرم میں ساتھی سمجھ رہا تھا لیکن وہ شخص امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے ) کا خفیہ ایجنٹ نکلا۔ قتل کے لیے جس ‘ہٹ مین ‘ کو سپاری دی گئی وہ دراصل ایک خفیہ افسر تھا۔اس طرح مودی سرکار نے ایک غیر تجربہ کار اور نااہل آدمی کے ہاتھ میں اتنی بڑی مہم کی باگ ڈور تھما کر کمال لاپروائی کا ثبوت دیا اور ملک کو بدنام کیا۔
استغاثہ کے مطابق، قتل کیلئے ایک لاکھ ڈالر کی رقم پر اتفاق ہوا تھا جس میں پندرہ ہزار ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے ۔ گپتا نے مبینہ طور پر ہدف کا پتہ، فون نمبر، تصاویر اور نقل و حرکت کی معلومات بھی فراہم کیں۔ ویسے تو مودی سرکار نے نکھل گپتا سے اپنے آپ کو پوری طرح الگ کرلیا ہے مگر یہ کام آسان نہیں ہے ۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق درمیان میں نکھل گپتا نے ہدایت دی تھی کہ یہ قتل ہندوستانی وزیر اعظم کے جون2023 کے امریکی دورے کے موقع پر نہ کیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر نکھل کا سرکار سے کوئی تعلق نہیں تھا تو کس سے تھا اور اس نے معاملے کو کنیڈامیں سکھ لیڈرہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے کیوں جوڑا تھا؟ استغاثہ کے پاس سے بڑا ثبوت تو نجر قتل کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر ٹیکسٹ میسیج ہے ۔ اس میں لکھا تھا کہ ”اب مزید انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمارے پاس متعدد اہداف ہیں۔ ” اس مختصر سے پیغام میں مستقبل کے خطرناک ارادوں کا اشارہ ملتا ہے ۔ اس طرح کے شواہد کی روشنی میں ٹرمپ کا مودی سرکار کو بلیک میل کرنا نہایت سہل ہوجاتا ہے اور تجارتی معاہدے کے پیچھے یہی چیزیں کار فرما ہیں ۔ ورنہ اتنی آسانی سے کسانوں کے حقوق داوں پر نہیں لگاتے ۔
مودی سرکار نے جو کچھ کیا وہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ یہ سب کرتے رہے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ امریکہ سُپر پاور ہے اور اسرائیل اس کی پناہ میں ہونے کے سبب ایسے کرتعت کے باوجود بچ نکلتا ہے ۔ ہندوستان بھی جب سُپر پاور بن جائے گا تو اس کی ان حرکتوں پر کوئی اعتراض نہیں کرسکے گا مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا اس لیے ابھی سے ایسے منصوبوں کو دنیا برداشت نہیں کرے گی اور امریکہ کی سرزمین پر تو یہ کوشش کبھی بھی بار آور نہیں ہوسکے گی۔ مودی سرکار میں فی الحال یہ جرأت نہیں ہے کہ اعلان کرے کہ ہم نے آپریشن بالا کوٹ اور سیندور کی مانند صرف دہشت گردوں کا کانٹا نکالنے کے لیے یہ کیا ہے ۔ اسی لیے نکھل گپتا کو بچانے یا سراہنے کے بجائے اس سے پلہ جھاڑ لیا گیا لیکن اس ایڈونچر نے ہندوستان کی دہشت گردی مخالف شبیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ مستقبل میں کسی بھی عالمی فورم میں جب پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگایا جائے گا تو وہ نکھل گپتا کی مثال دے کر حکومت ہند کو عار دلائے گا ۔ اس لیے مودی سرکار نے عالمی سفارتکاری میں برسوں کی ہندوستانی محنت پر پانی پھیر دیا۔حقیقی وشو گرو بن جانے سے پہلے اس طرح کے کاموں سے اجتناب کرنا لازمی ہے ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں ۔پنوں معاملے میں مودی سرکار کی حالت ظفر کلیمی کے اس شعر کی مانند ہے
وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئے
آسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئے