وجود

... loading ...

وجود

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

منگل 24 فروری 2026 آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

جہانِ دیگر
زرّیں اختر

۔۔۔۔۔۔

آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ١٩٧٣ء کے آرٹیکل ٩ کے مطابق:
”صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب اور برخاست کرنا: گورنر وقتاََ فوقتاََـ
(الف)صوبائی اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت اور مقام پر طلب کرسکے گاجسے وہ مناسب خیال کرے اور
(ب) صوبائی اسمبلی کا اجلاس برخاست کرسکے گا۔
تشریح:
(الف ) جس طرح قومی اسمبلی کا اجلاس طلب اور برخاست کرنے کا حق صدر ِ مملکت کو حاصل ہے اسی طرح آئین نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور برخاست کرنے کا حق بھی گورنر کو دیا ہے۔ ہنگامی صورتِ حال کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اگر صوبائی اسمبلی کے ارکان کی ایک چوتھائی اکثریت اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہے تو ان کو تحریری طور پر گورنر کو اس جانب متوجہ کرنا پڑے گا۔
(ب) گورنر کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس برخاست کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ ”
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا آرٹیکل ١٠٩ (ب) کا حکم نامہ جاری کرنے کے بعد اب اور مکمل تیاری کے ساتھ آرٹیکل ١١٠ پر عمل کرنا ہے ۔
”آرٹیکل ١١٠ـگورنر کا صوبائی اسمبلی سے خطاب کرنے کا اختیار: گورنر صوبائی اسمبلی سے خطاب کرسکے گااور اس مقصد کے لیے ارکان کی حاضری کا حکم دے سکے گا۔
تشریح: گورنر کو صوبائی اسمبلی سے خطاب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس ضمن میں گورنر تمام ارکانِ اسمبلی کو خطاب کے دوران میں حاضررہنے کا حکم بھی دے سکتاہے ۔ہنگامی صورتِ حال کے پیشِ نظر بھی گورنر اسمبلی سے خطاب کرسکتاہے۔”
سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئر مین ڈاکٹر قادر مگسی نے وفاقی حکومت سے گورنر سندھ کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیاہے ۔
جماعتِ اسلامی کے پر اتنی جلدی جلتے ہیں،زیرِعتاب تحریک انصاف سے بھی جہاں جہاں کردار ادانہیں کریں گے وہاں وہاں شکایت تو ہوگی۔
کراچی کو الگ صوبہ بنائے جانے کے مطالبے کو انتظامی بنیادوں پر دیکھے جانے کی توقع عبث ہے کہ یہاں اب تک ہر مسئلہ لسانی ہو کہ فرقہ ورانہ سیاست کی گودمیں ہی جاکر بیٹھتاہے۔ کراچی سندھ میں ہے ،اس کا حصہ ہے ، اس کو اٹھا کر خلا میں لے جانے کی بات یا مطالبہ نہیں ،یہ سندھ کا حصہ رہتے ہوئے الگ صوبہ کیوں نہیں بن سکتا؟ اگر انتظامی طور پر نہیں سنبھل رہا ،حالات دگرگوں ہیں ، الگ صوبے کا مطالبہ اگر وزیراعلیٰ سندھ جوکراچی کے بھی وزیراعلیٰ ہیں توانہیں اس کی بہتری و ترقی کیوں منظور نہیں؟ یہ کیوں اسے سندھ کے خلاف سمجھتے ہیں اور پھر ہم کراچی والے ،کراچی میں پیدا ہونے والے ،یہاں پلنے بڑھنے والے ،بچپن سے اس کو ترقی کرتے کے بجائے مستقل تنزل کی طرف جاتا ہوتا دیکھ رہے ہیں،اس مطالبے کو آپ وزیرِ اعلیٰ صاحب ،سندھ کے خلاف ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔
پاکستان تحریک ِ انصاف، جماعت ِ اسلامی ،سندھ ترقی پسند پارٹی ۔۔۔سب کو ملالیں ۔ آئندہ کراچی کا مئیر وہ بنے جو کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ رکھتا ہواور اس سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے ، یہاں وہ ہٹے وہاں کراچی کے عوام اس کا ساتھ چھوڑ دیں ، دوبارہ موقع نہ دیں ۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کو افسوس ہے کہ سندھ کے خلاف باتیں ہورہی ہیں اور میڈیا خاموش ہے ۔ کراچی گرے ،جلے یہ سب منظور اور کراچی کی بہتری کے لیے انتظامی حل نامنظور ۔۔۔ہم سندھ کے خلاف ہیں یا آپ ہمارے خلاف ہیں؟
ہم جمہوریت مخالف، ہم آئین مخالف، ہم تاریخ سے نابلد،ہم سندھ مخالف۔۔۔ہمیں آپ نے اپنا مخالف سمجھا ہے ، ہم کسی کے مخالف نہیں ، ہمارے حقوق کی آوا ز کو آپ کا سیاسی بیانیہ کیا کیا نام دے رہاہے؟ اصل میں تو آپ ہمیں اپنا مخالف سمجھتے ہیں اور بنا رہے ہیں۔نہ آپ سے کچھ بنتاہے ،نہ آپ سے کچھ سنبھلتاہے ( میں عوام کی بات کررہی ہوں ) آپ کا اپنا سب کچھ سنبھلا ہوا ہے اور بن رہاہے ، اپنی حالات کے سدھار کے لیے آپ ہماری آواز کو دبانا اور اس کا گلاگھونٹنا چاہتے ہیں، آپ ہمیں غدار بھی قرار دے سکتے ہیں، اپنے خطبات میں آئین دشمن ، جمہوریت دشمن اور سندھ دشمن کے خطابات سے بھی نواز سکتے ہیں،تو آ پ بھی سوچ لیں کہ آپ ہمیں کس سمت دھکیل رہے ہیں؟
ہم اپنی تاریخی غلطیوں ، سیاسی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ اور ان سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں،لیکن کہیں آپ کی مخالفت کچھ اور رنگ نہ لے آئے ۔ہمارے سیاست دان ہی ہیں جو کہ دوسروں کی نہیں بلکہ اپنے رہنمائوں اور لیڈروں کی غلطیوں سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔نہ ملک دو ٹکڑے ہونا یا کرنا انہیں کچھ سکھا سکا نہ بلوچستان کو ان حالات تک پہنچا کر وہاں اٹھنے والی سیاسی بیداری اور شعور سے انہوں نے کوئی سبق حاصل کیا۔
کراچی کو بلوچستان کامقام ”سوئی” سمجھیں گے تو دوبارہ ٹھوکر کھائیں گے،شیخ مجیب کو مغربی پاکستان کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی تھی ،کسی کو اسلام آبادکی روشنیوں میں کراچی نظر آتاہے جو کبھی خود روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا،بلوچستان میں علاقہ سوئی کی عورتیںاب تک لکڑیاں پھونک رہی ہیں ،آپ کیا سمجھتے ہیں ،عوام کو ان کی زمین سے نکلنے والے سوئی ،سونے سے محروم رکھ کر آپ اپنے محلوں میں پناہ لے سکیں گے؟
عوام کا فنڈ اور بجٹ عوام پر خرچ کرتے ہوئے آپ سب کی جان جاتی ہے ۔ پہلے مرکز سے صوبوں کو ملنا دوبھر تھا ،اب صوبوں سے بلدیاتی اداروں تک پہنچنادشوار ، کھائو ،پر کچھ لگا بھی دو۔ جو ملتاہے پنجاب کی سڑکوں کی حالت کا موازنہ کراچی کی سڑکوں سے کرتاہے، پنجاب کی ترقی کامقابلہ سندھ کے حالات سے کرتاہے ۔
کہیں پڑھا تھا کہ جاگیر دار اور صنعت کار کے طرز عمل میں فرق ہوتاہے ، جاگیر دار پسماندگی کو ختم کرنے کی سوچ نہیں رکھتا ،وہ سمجھتا ہے کہ اس کی حکومت کا استحکام کا عوام کے پسماندہ رہنے میں ہے، صنعت کار ایسا نہیں سوچتا ،وہ سمجھتاہے کہ کاریگر، صنعت کا ملازم خوش ہوگا تو صنعت ترقی کرے گی ، کراچی میں تو صنعتیں بند ہورہی ہیں ، بنگلہ دیش برآمد ہورہی ہیں ۔وزیرِ اعلیٰ صاحب مریم نواز سے کچھ سیکھ لیں ، ان سے تو اندرون سندھ بھی نہیں بنا، ترقی کی پالیسی اپنائیں تو آپ یقین کریں آپ سڑکوں کے اشتہار بنیں ،آپ آٹے کی بوریوں پر چھپیں ،ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر