... loading ...
محمد آصف
رسولِ اکرم ۖ کی سیرتِ طیبہ صرف عالمِ اسلام کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع اور روشن نمونۂ حیات ہے ۔ آپ ۖ کی زندگی کا ہر پہلو اخلاق، رحمت، نرمی اور انسان دوستی کا عملی مظہر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ۖ کو خُلقِ عظیم کے اعلیٰ مرتبے پر فائز فرمایا اور حسنِ اخلاق کی تمام خوبیاں آپ ۖ کی فطرت میں ودیعت کر دیں۔ آپ ۖ کی رحمت کسی ایک قوم یا طبقے تک محدود نہ تھی بلکہ پوری کائنات پر محیط تھی، جس سے ہر دور میں انسانیت فیض یاب ہوتی رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔
رسول اللہ ۖ کے چہرۂ مبارک پر ہمیشہ بشاشت اور مسکراہٹ رہتی تھی۔ آپ ۖ نرم خو اور خوش مزاج تھے ، نہ سخت دل تھے اور نہ سخت کلام۔ آپ ۖ کبھی بلند آواز سے بات نہ کرتے اور نہ کسی کی عیب جوئی فرماتے ۔ سخاوت، فراخ دلی اور پردہ پوشی آپ ۖ کی نمایاں صفات تھیں۔ آپ ۖ انتہائی باحیا تھے ، یہاں تک کہ ایک پردہ دار کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا رکھتے تھے ۔ جب بھی کسی نے سوال کیا، آپ ۖ نے حسبِ استطاعت عطا فرمایا۔ بچوں، عورتوں اور کمزور افراد کے ساتھ آپ ۖ کا برتاؤ نہایت شفقت اور نرمی پر مبنی ہوتا تھا۔
آپ ۖ کی سادگی اور ایثار بھی بے مثال تھا۔ آپ ۖ اگلے دن کے لیے سامان ذخیرہ نہ کرتے اور صحابہ کرام کو بھی قناعت اور توکل کی تعلیم دیتے ۔ کھانا تناول فرماتے وقت اپنے سامنے سے کھاتے ، تحفہ قبول کرتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے ۔ مریضوں کی عیادت کرنا اور ان کی صحت کے لیے دعا فرمانا آپ ۖ کا معمول تھا۔ آپ ۖ نرمی کو پسند فرماتے اور اس کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے ، اور جسے نرمی کا حصہ عطا کیا گیا اسے بھلائی کا بڑا حصہ نصیب ہوا۔
رسول اللہ ۖ نے انسان کو اخلاقی بلندیوں تک پہنچنے کی تعلیم دی۔ آپ ۖ نے والدین سے حسنِ سلوک، صلہ رحمی اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ اس سے زندگی میں برکت، آسانی اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے ۔ بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والوں کے لیے جنت کی خوش خبری سنائی۔ آپ ۖ یتیموں کے سرپرست، بیواؤں اور مساکین کے مددگار تھے اور فرمایا کہ یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں آپ ۖ کے قریب ہوگا۔ آپ ۖ نے قیدیوں، بیماروں اور محتاجوں پر رحم و شفقت کی تعلیم دی اور ان کی خدمت کو عظیم نیکی قرار دیا۔
سماجی تعلقات کے حوالے سے بھی آپ ۖ کی تعلیمات بے مثال ہیں۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ کسی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنا باعثِ اجر ہے ، مسکرا کر ملنا صدقہ ہے ، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے ۔ آپ ۖ نے لوگوں کے عیب چھپانے ، تعلق توڑنے والوں سے تعلق جوڑنے ، محروم کرنے والوں کو دینے اور بدسلوکی کرنے والوں کو معاف کرنے کی تلقین فرمائی۔ یہ تعلیمات ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں جو محبت، برداشت اور باہمی احترام پر قائم ہو۔
رسول اللہ ۖ حسنِ صورت اور حسنِ سیرت دونوں کے اعتبار سے کامل تھے ۔ صحابہ کرام نے آپ ۖ کے چہرۂ انور کو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی ہے ۔ آپ ۖ کی شخصیت ایسی پرکشش تھی کہ ہر شخص کو محسوس ہوتا کہ آپ ۖ اسی سے مخاطب ہیں۔ آپ ۖ کو کلام کی
جامعیت عطا کی گئی تھی اور آپ ۖ کے ارشادات مختصر مگر معنی خیز ہوتے تھے ۔ آپ ۖ نے سکھایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو دوسروں کو خوشی پہنچائے اور سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اللہ کے بندوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔
آپ ۖ نے انسانیت کی خدمت کو اعلیٰ ترین عبادت قرار دیا۔ کسی مومن کی تکلیف دور کرنا،لوگوں کے درمیان صلح کرانا، اور جہالت کے جواب میں بردباری اختیار کرنا وہ اعمال ہیں جو انسان کو اللہ کے نزدیک بلند مقام عطا کرتے ہیں۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کو وہ شخص سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کے کنبے کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ مختصراً، سیرتِ نبوی ۖ رحمت، اخلاق، خدمت اور محبت کا ایسا جامع درس ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ اگر انسان آپ ۖ کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنالے تو ایک پُرامن، عادل اور ہمدرد معاشرہ قائم ہو سکتا ہے ۔ سیرتِ رسول ۖ دراصل انسانیت کے لیے ایک ایسا روشن مینار ہے جو قیامت تک راہِ ہدایت دکھاتا رہے گا۔
٭٭٭