... loading ...
حاصل مطالعہ
عبد الرحیم
۔۔۔۔۔۔۔۔
سی ایس یس امتحان میں کامیابی کا نسخہ
سینٹرل سپیرئیر سروسز کے امتحان میں کامیابی رات بھر کامیابی کا نتیجہ نہیں ہے۔یہ برسوں کی تعلیم کا نتیجہ ہے جس کی ابتداء اسکول میں ہوتی ہے ،کالج اور یونیورسٹی میں جاری رہتی ہے اور منظم خود تیاری اسے جلا بخشتی ہے۔معقول دلائل پیش کرنے کی اہلیت،نفس مضمون کے سوالات کے ساتھ انصاف کرنا،واضح لکھنا اور تجزیاتی سوچ امتحان کی تیاری کے دوران اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ معیاری تدریس اور درست مطالعہ سے حاصل کئے گئے علم کے ذریعہ بتدریج حاصل ہوتا ہے۔
سی ایس ایس میں وہ لوگ کامیاب ہوئے ہیں جو اپنے تعلیمی کیرئیر کے دوران تعلیمی لحاظ سے مضبوط رہے ہیں۔ اس کے برعکس جو ناکام ہوجاتے ہیں،اس کی وجہ کوشش کی کمی نہیں بلکہ وہ مساوی تعلیمی مواقع سے محروم رہے ہیں۔ اس فرق کا آغاز اسکول کی سطح پر ہوتا ہے اور اعلیٰ تعلیم تک جاری رہتا ہے۔وہ طلبہ جو اعلیٰ نجی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں،او/ اے لیول یا بین الاقوامی نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرتے ہیں،انہیں ابتدائی اسکول کی تعلیم سے تجزیاتی تحریر، مباحثہ اور ناقدانہ منطقی سوچ کے مواقع ملتے ہیں،وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر مراعات یافتہ طلبہ جو سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں جہاں اہل اساتذہ کی شدید قلت،متروک نصابی کتب اور سیکھنے کی جدید سہولتوں مثلاً کمپیوٹرز،انٹرنیٹ تک رسائی اور ریسرچ کے وسائل کی کمی ہے۔
طلبہ کو راغب کرنے کیلئے بہت سی اکیڈیمیاں آن لائن لیکچرز،معیاری نوٹس اور امتحان کیلئے موزوں لائحہ عمل کی پیشکش کرتی ہیں۔ ایسے مٹیریل میں گہرائی نہیں ہے اور تخلیقی سوچ کی کمی ہے۔طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں جبکہ طلبہ کا وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔
بھارت کی اے آئی امپیکٹ سمٹ
اس سمٹ کا ایک تاریک پہلو لیبر کیلئے خطرہ ہے جو سمٹ میں سامنے آیا۔ اکثر بھارتی کمپنیوں کو بھاری فیس ادا کرنا پڑتی ہیں جسے اے آئی حلقوں میں Compute کہا جاتا ہے جو آمیزون اور مائیکرو سافٹ سمیت امریکی کمپنیوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ایک ٹیکنالوجی وکیل اور سرگرم رکن مشی چودھری جو نئی دہلی اور نیو یارک کے درمیان کام کرتی ہے،نے اس کاروباری ماڈل کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اس کاکہنا ہے کہ امریکی کمپنیاں ہم سب کو سانپ کا تیل بیچ رہی ہیں کیونکہ وہ ہماری لیبر کو ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن ہم بھارت میں جابز ختم نہیں کر سکتے۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔
چین نے لیبر کی کمی کا حل ڈھونڈ لیا
چین کو شرح پیدائش کی کمی کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں لیبر کی کمی واقع ہوئی ہے۔سی این این کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ ملک اب دنیا کے صنعتی روبوٹس کے نصف سے زیادہ کا مالک ہے۔ یہ عمداً لائحہ عمل ہے پیداوار کو برقرار رکھنے اور لیبر کی کمی کو پورا کرنے کاجو آبادی میں کمی سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ تجربہ نہیں ہے بلکہ یہ آبادی میں کمی کا بدل ہے۔ اس سے فراہمی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن یہ طلب کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔سرما یہ داری سب میں تقسیم کرنے کا نام ہے۔ اس کا انحصار حقیقی سمت میں پیسے کی گردش ہے۔اجرتیں قوت خرید پیدا کرتی ہیں۔ قوت خرید آمدنی پیدا کرتی ہے۔آمدنی سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔اگر لیبر کی جگہ سلیکون اور اسٹیل لے لیتی ہے تو پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ آمدنی کی تقسیم رک جاتی ہے۔ آٹومیشن رسد کی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔ یہ طلب کو صحیح حالت میں نہیں رکھتی۔ معیشت بہتات پیدا کر سکتی ہے اور اپنے صارفین کو غیر اہم بناتی ہے۔ اجرتیں ختم ہو جائیں تو قوت خرید ختم ہو جاتی ہے۔خریداروں کے بغیر خود کار سلطنت محدود ہوجاتی ہے۔
انگلی کے اشارہ سے فوج کے طاقتور ترین رہنما کو ہٹا نے والے چینی صدر
پیپلز لبریشن آرمی کے ریٹائرڈ کرنل یو ای گانگ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران صدرژی جنپنگ نے سینٹرل ملٹری کمیشن جو چین کا اعلیٰ ترین فوجی ادارہ ہے، کے6 جنرلوں میں سے پانچ کو نکال دیا ہے۔اب صرف دو باقی رہ گئے ہیں۔ایک ژی خود اور دوسرے ایک وائس چیئر مین جو ژی کی تطہیر کے عمل کے نگران ہیں۔ژی کے پیش رو ہو جنٹائو نے فوج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن سینٹرل ملٹری کمیشن کے دو وائس چیئر مینوں نے انہیں مات دے دی۔یو ای گانگ کا کہنا ہے کہ یہ سبق ژی کے سامنے تھا۔ ہو سکتا ہے جنرل ژہانگ نے فوج پر ژی کے کنٹرول کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہو۔ جنرل ژہانگ کی برطرفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ژی جنپنگ کی قیادت کو ہلانا کس قدر ناممکن ہے۔چینی فوج کے ماہرژونگ پنگ کا کہنا ہے کہ بندق ہمیشہ پارٹی کی کمان میں ہونی چاہئے ،نہ کہ اس کے برعکس۔واشنگٹن کے سٹمسن سینٹر میں چائنا پروگرام کے ڈائریکٹر یون سون کا کہنا ہے کہ ثی انگلی کے اشارہ سے فوج کے طاقتور ترین رہنما کو ہٹا سکتے ہیں۔
٭٭٭