وجود

... loading ...

وجود

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

پیر 23 فروری 2026 کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اونچ نیچ
۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو انسان سے جواب نہیں مانگتے بلکہ اس کی روح سے دستخط لیتے ہیں۔ نطشے کا تصورِ ابدی واپسی بھی ایسا ہی سوال ہے۔ یہ کوئی کاسمولوجیکل مفروضہ نہیں بلکہ ضمیر پر لکھی گئی وہ دستاویز ہے جس پر انسان کو اپنی پوری زندگی کے ساتھ ہاں یا نہیں لکھنا ہوتا ہے۔ نطشے زرتشت کے ذریعے انسان کو آئینے کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے اور کہتا ہے فرض کرو ایک دیو تمہارے سامنے آ کر کہے کہ تمہاری یہ زندگی ہو بہو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوبارہ آتی رہے گی، ہر جھوٹ ہر بزدلی ہر خاموش سمجھوتا ہر خوف ہر ادھورا خواب ہر رکا ہوا لفظ ابدی ہو جائے گا تو کیا تم اس زندگی کو ابدیت کے نام پر قبول کرو گے یا اسے لعنت کہہ کر رد کر دو گے ۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں سقراط کا قول کانوں میں گونجتا ہے کہ ایک غیر جانچی ہوئی زندگی جینے کے قابل نہیں مگر نطشے اس قول کو ابدیت کی تلوار دے کر انسان سے کہتا ہے اب صرف جانچ کافی نہیں اب دستخط بھی کرنے ہیں کیونکہ جو زندگی تم آج جی رہے ہو وہی تمہارا ابدی چہرہ بننے والی ہے۔
ہیگل نے کہا تھا کہ تاریخ آزادی کے شعور کی ترقی ہے، مگر نطشے نے انسان کے اندر کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس نے کہا اصل تاریخ وہ ہے جو تم ہر لمحے اپنے اندر لکھ رہے ہو اور اگر تم اس تاریخ کو بدلنے کی جرأت نہیں رکھتے تو تم ابدی قیدی ہو کیونکہ ابدی واپسی انسان کو یہ بتاتی ہے کہ کوئی لمحہ معمولی نہیں رہتا ۔ہر لمحہ قبر پر لکھی جانے والی تحریر بن جاتا ہے۔ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ انسان سزا یافتہ آزادی ہے لیکن نطشے نے دکھایا کہ زیادہ تر انسان اپنی آزادی سے بھاگتا ہے ۔اس لیے وہ ایسی زندگی جیتا ہے جسے وہ دوبارہ نہیں چاہتا اور یہی وہ مقام ہے جہاں ابدی واپسی جہنم بن جاتی ہے کیونکہ دوزخ کوئی اور دنیا نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جسے تم ابدی طور پر دہرانے پر مجبور ہو جاؤ ۔مارکس آرلیئس نے لکھا تھا کہ جو کچھ تمہارے حصے میں آیا ہے وہ تمہارے لیے ہی آیا ہے لیکن نطشے نے اس قبولیت کو بغاوت میں بدل دیا۔ اس نے کہا صرف قبول نہ کرو بلکہ اس پر عاشق بنو، Amor Fati یعنی اپنی تقدیر سے عشق کرو ۔اپنی شکستوں سے بھی اپنی رسوائیوں سے بھی کیونکہ جب تک تم اپنی پوری زندگی کو ہاں نہیں کہتے تم اپنے وجود کے مالک نہیں بنتے ۔اسی لیے وہ طاقت کی خواہش کو زندگی کی اصل دھڑکن قرار دیتا ہے مگر یہ طاقت دوسروں کو کچلنے کی نہیں بلکہ اپنے آپ کو تراشنے کی طاقت ہے۔
اسپینوزا نے کہا تھا انسان کی آزادی خود پر قابو پانے میں ہے اور نطشے نے اس بات کو تلوار بنا دیا کیونکہ اصل غلامی معاشرے کی نہیں بلکہ اپنے نفس کی ہوتی ہے جو شخص اپنے خوف اپنی سستی اور اپنی خود فریبی پر قابو پا لیتا ہے وہی آزاد ہے ،وہی اپنی زندگی کو خود لکھتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی خود لکھتا ہے تو ابدی واپسی اس کے لیے لعنت نہیں رہتی بلکہ جشن بن جاتی ہے کیونکہ اب وہ کہہ سکتا ہے ہاں یہ میری زندگی ہے۔ یہ ایسے ہی دوبارہ ہو کیونکہ یہ میری تخلیق ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض زندہ نہیں رہتا بلکہ اپنے وجود پر دستخط کر دیتا ہے۔ فرض کرو نطشے کا وہ دیو کسی پاکستانی کے سامنے آ کھڑا ہو اور کہے کہ تمہاری یہ زندگی اسی ملک میں اسی نظام کے ساتھ اسی خاموشی کے ساتھ اسی خوف کے ساتھ ابدی طور پر دوبارہ آئے گی، تم صبح اسی مہنگائی میں آنکھ کھولو گے ،اسی لاچار اسپتال میں مریض لے کر جاؤ گے، اسی تھانے میں ذلت کے کاغذ پر دستخط کرو گے، اسی دفتر میں سفارش کی دیوار سے سر ٹکراؤ گے، اسی اخبار میں لاشوں کی سرخیاں پڑھو گے اور اسی ٹی وی پر جھوٹے نعرے سنو گے، تمہارا بچہ اسی اسکول میں رٹے رٹائے خواب دفن کرے گا ،تمہاری بیٹی اسی معاشرے میں غیر محفوظ ہوگی، تمہاری ماں اسی اسپتال کے فرش پر دم توڑے گی اور تم اسی ملک میں ایک بار پھر یہ سب دیکھو گے پھر دیو پوچھے گا کیا تم اس زندگی پر ہاں کہو گے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کا ہر ذی شعور انسان خاموش ہو جاتا ہے۔ کیونکہ سقراط نے کہا تھا کہ ایک غیر جانچی ہوئی زندگی جینے کے قابل نہیں مگر یہاں زندگی جانچی ہوئی ہے اور پھر بھی ناقابل برداشت ہے۔ نطشے کی ابدی واپسی یہاں جہنم بن جاتی ہے کیونکہ یہ وہ زندگی ہے جسے کوئی دوبارہ نہیں چاہتا ۔
ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ انسان آزادی کی سزا کاٹ رہا ہے مگر پاکستانی انسان کو آزادی کی نہیں بے بسی کی سزا ملی ہے۔ یہاں انسان آزاد نہیں بلکہ مجبور ہے یہاں زندگی لکھی نہیں جاتی بلکہ کاپی کی جاتی ہے۔ یہاں خواب پیدا نہیں ہوتے بلکہ دبائے جاتے ہیں۔ یہاں ضمیر خاموش کر دیے جاتے ہیں ۔یہاں سوال کرنے والے کو غدار کہا جاتا ہے اور یہی وہ معاشرہ ہے جہاں ابدی واپسی سب سے خوفناک سزا بن جاتی ہے کیونکہ یہ وہ زندگی ہے جسے دہرانا خود اپنے وجود پر ظلم کرنا ہے۔ مارکس آریلیئس نے کہا تھا کہ اگر تم کسی چیز کو بدل نہیں سکتے تو اسے قبول کرو مگر نطشے یہاں کھڑا ہو کر کہتا ہے۔ اگر تم صرف قبول کر رہے ہو اور بدل نہیں رہے تو تم زندہ نہیں، تم محض سانس لے رہے ہو پاکستان میں سانس تو بہت لوگ لے رہے ہیں مگر جینے والے بہت کم ہیں ۔یہاں غربت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ یہاں تعلیم امیروں کی جاگیر ہے ،یہاں قانون طاقتور کا محافظ اور کمزور کا جلاد ہے، یہاں سچ بولنے والا اکیلا ہوتا ہے اور جھوٹ بولنے والا محفوظ اور یہی وہ معاشرہ ہے جہاں ابدی واپس کا سوال انسان کے ضمیر کو چیر کر رکھ دیتا ہے کیونکہ اگر یہ سب دوبارہ ہونا ہے تو پھر زندگی محض سزا رہ جاتی ہے۔ نطشے نے کہا تھا Amor Fati اپنی تقدیر سے محبت کرو ،مگر پاکستان میں تقدیر محبت کے قابل نہیں بلکہ مزاحمت کے قابل ہے۔ یہاں تقدیر لکھی نہیں جاتی بلکہ مسلط کی جاتی ہے اور طاقت کی خواہش جو نطشے کے نزدیک زندگی کی اصل قوت ہے یہاں دبائی جاتی ہے۔ یہاں انسان کو اپنے آپ پر قابو پانے کا موقع نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں یہاں اصل طاقت دوسروں کو کچلنے والوں کے پاس ہے اور اپنے آپ کو بنانے والے دیواروں سے سر ٹکراتے رہ جاتے ہیں ۔اسی لیے اس سرزمین پر ابدی واپسی کا سوال سب سے خطرناک بن جاتا ہے کیونکہ یہ صرف فلسفہ نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر پر فرد جرم ہے اور جب کوئی پاکستانی اس سوال کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اندر سے ایک ہی جواب نکلتا ہے، نہیں میں یہ زندگی دوبارہ نہیں چاہتا کیونکہ میں یہاں صرف جیا نہیں بلکہ روز مرتا رہا اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک قوم کے زخم بولنے لگتے ہیں اور نطشے کا دیو خاموش ہو جاتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری وجود پیر 23 فروری 2026
مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

نا شکرے عوام وجود پیر 23 فروری 2026
نا شکرے عوام

زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر