... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو انسان سے جواب نہیں مانگتے بلکہ اس کی روح سے دستخط لیتے ہیں۔ نطشے کا تصورِ ابدی واپسی بھی ایسا ہی سوال ہے۔ یہ کوئی کاسمولوجیکل مفروضہ نہیں بلکہ ضمیر پر لکھی گئی وہ دستاویز ہے جس پر انسان کو اپنی پوری زندگی کے ساتھ ہاں یا نہیں لکھنا ہوتا ہے۔ نطشے زرتشت کے ذریعے انسان کو آئینے کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے اور کہتا ہے فرض کرو ایک دیو تمہارے سامنے آ کر کہے کہ تمہاری یہ زندگی ہو بہو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوبارہ آتی رہے گی، ہر جھوٹ ہر بزدلی ہر خاموش سمجھوتا ہر خوف ہر ادھورا خواب ہر رکا ہوا لفظ ابدی ہو جائے گا تو کیا تم اس زندگی کو ابدیت کے نام پر قبول کرو گے یا اسے لعنت کہہ کر رد کر دو گے ۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں سقراط کا قول کانوں میں گونجتا ہے کہ ایک غیر جانچی ہوئی زندگی جینے کے قابل نہیں مگر نطشے اس قول کو ابدیت کی تلوار دے کر انسان سے کہتا ہے اب صرف جانچ کافی نہیں اب دستخط بھی کرنے ہیں کیونکہ جو زندگی تم آج جی رہے ہو وہی تمہارا ابدی چہرہ بننے والی ہے۔
ہیگل نے کہا تھا کہ تاریخ آزادی کے شعور کی ترقی ہے، مگر نطشے نے انسان کے اندر کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس نے کہا اصل تاریخ وہ ہے جو تم ہر لمحے اپنے اندر لکھ رہے ہو اور اگر تم اس تاریخ کو بدلنے کی جرأت نہیں رکھتے تو تم ابدی قیدی ہو کیونکہ ابدی واپسی انسان کو یہ بتاتی ہے کہ کوئی لمحہ معمولی نہیں رہتا ۔ہر لمحہ قبر پر لکھی جانے والی تحریر بن جاتا ہے۔ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ انسان سزا یافتہ آزادی ہے لیکن نطشے نے دکھایا کہ زیادہ تر انسان اپنی آزادی سے بھاگتا ہے ۔اس لیے وہ ایسی زندگی جیتا ہے جسے وہ دوبارہ نہیں چاہتا اور یہی وہ مقام ہے جہاں ابدی واپسی جہنم بن جاتی ہے کیونکہ دوزخ کوئی اور دنیا نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جسے تم ابدی طور پر دہرانے پر مجبور ہو جاؤ ۔مارکس آرلیئس نے لکھا تھا کہ جو کچھ تمہارے حصے میں آیا ہے وہ تمہارے لیے ہی آیا ہے لیکن نطشے نے اس قبولیت کو بغاوت میں بدل دیا۔ اس نے کہا صرف قبول نہ کرو بلکہ اس پر عاشق بنو، Amor Fati یعنی اپنی تقدیر سے عشق کرو ۔اپنی شکستوں سے بھی اپنی رسوائیوں سے بھی کیونکہ جب تک تم اپنی پوری زندگی کو ہاں نہیں کہتے تم اپنے وجود کے مالک نہیں بنتے ۔اسی لیے وہ طاقت کی خواہش کو زندگی کی اصل دھڑکن قرار دیتا ہے مگر یہ طاقت دوسروں کو کچلنے کی نہیں بلکہ اپنے آپ کو تراشنے کی طاقت ہے۔
اسپینوزا نے کہا تھا انسان کی آزادی خود پر قابو پانے میں ہے اور نطشے نے اس بات کو تلوار بنا دیا کیونکہ اصل غلامی معاشرے کی نہیں بلکہ اپنے نفس کی ہوتی ہے جو شخص اپنے خوف اپنی سستی اور اپنی خود فریبی پر قابو پا لیتا ہے وہی آزاد ہے ،وہی اپنی زندگی کو خود لکھتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی خود لکھتا ہے تو ابدی واپسی اس کے لیے لعنت نہیں رہتی بلکہ جشن بن جاتی ہے کیونکہ اب وہ کہہ سکتا ہے ہاں یہ میری زندگی ہے۔ یہ ایسے ہی دوبارہ ہو کیونکہ یہ میری تخلیق ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض زندہ نہیں رہتا بلکہ اپنے وجود پر دستخط کر دیتا ہے۔ فرض کرو نطشے کا وہ دیو کسی پاکستانی کے سامنے آ کھڑا ہو اور کہے کہ تمہاری یہ زندگی اسی ملک میں اسی نظام کے ساتھ اسی خاموشی کے ساتھ اسی خوف کے ساتھ ابدی طور پر دوبارہ آئے گی، تم صبح اسی مہنگائی میں آنکھ کھولو گے ،اسی لاچار اسپتال میں مریض لے کر جاؤ گے، اسی تھانے میں ذلت کے کاغذ پر دستخط کرو گے، اسی دفتر میں سفارش کی دیوار سے سر ٹکراؤ گے، اسی اخبار میں لاشوں کی سرخیاں پڑھو گے اور اسی ٹی وی پر جھوٹے نعرے سنو گے، تمہارا بچہ اسی اسکول میں رٹے رٹائے خواب دفن کرے گا ،تمہاری بیٹی اسی معاشرے میں غیر محفوظ ہوگی، تمہاری ماں اسی اسپتال کے فرش پر دم توڑے گی اور تم اسی ملک میں ایک بار پھر یہ سب دیکھو گے پھر دیو پوچھے گا کیا تم اس زندگی پر ہاں کہو گے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کا ہر ذی شعور انسان خاموش ہو جاتا ہے۔ کیونکہ سقراط نے کہا تھا کہ ایک غیر جانچی ہوئی زندگی جینے کے قابل نہیں مگر یہاں زندگی جانچی ہوئی ہے اور پھر بھی ناقابل برداشت ہے۔ نطشے کی ابدی واپسی یہاں جہنم بن جاتی ہے کیونکہ یہ وہ زندگی ہے جسے کوئی دوبارہ نہیں چاہتا ۔
ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ انسان آزادی کی سزا کاٹ رہا ہے مگر پاکستانی انسان کو آزادی کی نہیں بے بسی کی سزا ملی ہے۔ یہاں انسان آزاد نہیں بلکہ مجبور ہے یہاں زندگی لکھی نہیں جاتی بلکہ کاپی کی جاتی ہے۔ یہاں خواب پیدا نہیں ہوتے بلکہ دبائے جاتے ہیں۔ یہاں ضمیر خاموش کر دیے جاتے ہیں ۔یہاں سوال کرنے والے کو غدار کہا جاتا ہے اور یہی وہ معاشرہ ہے جہاں ابدی واپسی سب سے خوفناک سزا بن جاتی ہے کیونکہ یہ وہ زندگی ہے جسے دہرانا خود اپنے وجود پر ظلم کرنا ہے۔ مارکس آریلیئس نے کہا تھا کہ اگر تم کسی چیز کو بدل نہیں سکتے تو اسے قبول کرو مگر نطشے یہاں کھڑا ہو کر کہتا ہے۔ اگر تم صرف قبول کر رہے ہو اور بدل نہیں رہے تو تم زندہ نہیں، تم محض سانس لے رہے ہو پاکستان میں سانس تو بہت لوگ لے رہے ہیں مگر جینے والے بہت کم ہیں ۔یہاں غربت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ یہاں تعلیم امیروں کی جاگیر ہے ،یہاں قانون طاقتور کا محافظ اور کمزور کا جلاد ہے، یہاں سچ بولنے والا اکیلا ہوتا ہے اور جھوٹ بولنے والا محفوظ اور یہی وہ معاشرہ ہے جہاں ابدی واپس کا سوال انسان کے ضمیر کو چیر کر رکھ دیتا ہے کیونکہ اگر یہ سب دوبارہ ہونا ہے تو پھر زندگی محض سزا رہ جاتی ہے۔ نطشے نے کہا تھا Amor Fati اپنی تقدیر سے محبت کرو ،مگر پاکستان میں تقدیر محبت کے قابل نہیں بلکہ مزاحمت کے قابل ہے۔ یہاں تقدیر لکھی نہیں جاتی بلکہ مسلط کی جاتی ہے اور طاقت کی خواہش جو نطشے کے نزدیک زندگی کی اصل قوت ہے یہاں دبائی جاتی ہے۔ یہاں انسان کو اپنے آپ پر قابو پانے کا موقع نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں یہاں اصل طاقت دوسروں کو کچلنے والوں کے پاس ہے اور اپنے آپ کو بنانے والے دیواروں سے سر ٹکراتے رہ جاتے ہیں ۔اسی لیے اس سرزمین پر ابدی واپسی کا سوال سب سے خطرناک بن جاتا ہے کیونکہ یہ صرف فلسفہ نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر پر فرد جرم ہے اور جب کوئی پاکستانی اس سوال کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اندر سے ایک ہی جواب نکلتا ہے، نہیں میں یہ زندگی دوبارہ نہیں چاہتا کیونکہ میں یہاں صرف جیا نہیں بلکہ روز مرتا رہا اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک قوم کے زخم بولنے لگتے ہیں اور نطشے کا دیو خاموش ہو جاتا ہے۔
٭٭٭