وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

پیر 23 فروری 2026 مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

ریاض احمدچودھری

کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مودی کی بھارتی حکومت اپنے ہندوتوا آر ایس ایس ایجنڈے کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا ہے کہ بی جے پی اور دیگر ہم خیال رہنمائوں اور جماعتوں کی طرف سے مردم شماری کے نئے فارمیٹ میں کشمیر مخالف اور فرقہ وارانہ ایجنڈوں کی عکاسی کرنے والے کئی نجی، غیر منطقی اور غیر ضروری سوالات شامل کئے گئے ہیں۔ یہ سوالات کشمیری معاشرے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ایک سازش ہے۔
اگست 2019 میں بندوق کی نوک پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو غیر قانونی طور پر تقسیم کرنے کے بعد، بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اب مردم شماری کی مشق کے ذریعے ایک بار پھر مقبوضہ علاقے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مردم شماری میں ایسے سوالات شامل ہیں جیسے: “ایک خاندان کا تعلق کس مسلک سے ہے کشمیر کے اندر اور باہر کون کون سے رشتہ دار موجودہیں خاندان کی کون سی جائیدادیں ہیں، خاص طور پر سسرال والوں کا کسی عسکریت پسند (مجاہد)یا حریت کیمپ سے کوئی تعلق ہے” یہ مشق مردم شماری کی آڑ میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے مترادف ہے۔
مردم شماری کے نام پر اس طرح کے دخل اندازی اور مشکوک سوالات جموں و کشمیر میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی دانستہ کوشش کے اندیشوں کو تقویت دیتی ہیں ، جہاں مسلمان تاریخی طور پردیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھائیوں اور بہنوں کی طرح ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ بی جے پی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ خاص طور پر اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو غیر قانونی طور پر منسوخ کرنے کے بعدمقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔بھارت نے مقبوضہ علاقے میںظلم و جبر اور بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں فوری مداخلت کریں۔بھارتی حکومت نے حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر نظر بند کر رکھا ہے، جو بھارت اور مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں مسلسل قید ہیں۔اس وقت جموں و کشمیر میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ایک منتخب نمائندوں کی اور دوسری افسر شاہی کی جو یونین ٹیریٹری نظام کے تحت کام کررہی ہے۔
بیجبہاڑہ کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر بسیر احمد ویری نے جموں کشمیر اسمبلی میں کہا کہ بیجبہاڑہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں متعدد تاریخی اور مذہبی مقامات موجود ہیں، جنہیں مناسب توجہ اور بنیادی سہولیات فراہم کر کے سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دیا جا سکتا ہے۔ مذہبی مقامات تک سڑکوں کی بہتری، قیام و طعام کی سہولیات، صفائی ستھرائی اور تشہیری مہمات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت کو فروغ ملے۔
بی جے پی نے جموں و کشمیر اور لداخ کو تقسیم کر کے خطے کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ایک منتخب نمائندوں کی اور دوسری افسر شاہی کی جو یونین ٹیریٹری نظام کے تحت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی مکمل منتقلی منتخب نمائندوں کو ہونی چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا حل ممکن ہو اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے اور وہ اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں سے ان کے گھروں، زمینوں اور دیگر املاک سمیت ہر چیز ہتھیانا چاہتی ہے۔ مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی مکمل طور پر سلب کی گئی ہے اور جو بھی بھارتی جبر کے خلاف بولنے کی کوشش کرتا ہے اسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت فوری طور پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ پورا مقبوضہ علاقہ ایک فوجی چھاؤنی کامنظر پیش کررہا ہے، جس نے کشمیریوں کو اپنے ہی مادر وطن میں انتہائی مشکلات اور مصائب برداشت کرنے پر مجبور کردیاہے۔
حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے حل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔متاثرہ اضلاع میں ڈوڈہ، اودھم پور، کشتواڑ، کٹھوعہ، کپواڑہ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت رہائشیوں کو ہراساں اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور تباہ کیا جا رہا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری وجود پیر 23 فروری 2026
مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

نا شکرے عوام وجود پیر 23 فروری 2026
نا شکرے عوام

زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر