... loading ...
حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم
نہاری : پاکستان کی قومی ڈش
گائے کاگوشت کھانے والی دنیا میں اسٹیوز اور دم پخت سالن میں ہڈ ی کے بغیرپنڈلی کے گوشت کے ٹکڑے استعمال کئے جاتے ہیں جیسا کہ جنوبی ایشیا کی نہاری میں ہوتا ہے۔نہاری دراصل نرم آنچ کا پکا ہوا اسٹیو (شوربہ گوشت )ہے ۔نیو یارک میں بھارتی ریستوران پسیرین کے بڑے باورچی کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر گائے یا بھیڑ کے بچہ کے گوشت کے ٹکڑے ٹھنڈے ہوتے ہوئے تنور کی باقی ماندہ حرارت میں پکائے جاتے ہیں۔یہ ڈش ابتدا میں ناشتے میں فوجیوں کو دی جاتی تھی جو بعد ازاںاتنی مقبول ہو ئی کہ18 ویں صدی کی مغل سلطنت کے حکمران طبقے نے اسے اپنا لیا اور اب یہ پاکستان کی قومی ڈش کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جو کبھی عوام الناس کی غذا تھی ،اب شاہی خاندان کی غذا بن چکی ہے۔
چین: جہاں اڑتی ہوئی کاریں حقیقت ہیں
چین خودکار ڈیلوری ٹرکوں کے بیڑے تیار کر ہاہے،فلائنگ کاروں کے تجربے کر رہاہے۔ایسے ڈرونز بنا رہا ہے جو اسکائی سے لنچ نیچے لاکر ایک کیبل پر ڈیلیور کرتا ہے۔ہیفی میں اسپتال اب شہر بھر سے بلڈسمیت ایمرجنسی سپلائیز حاصل کرنے کیلئے ڈرونز استعمال کرتے ہیں۔ چین نہ صرف سولر پینلز یا بیٹری سے چلنے والی کاریں بلکہ ہر قسم کی کلین انرجیز میں بالادستی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ چین خطرات مول لینے کیلئے تیار رہتا ہے جو دوسرے ممالک لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔سان فرانسسکو میں ایک سیلف ڈرائیونگ ٹیکسی نے ایک بلی کو ہلاک کردیا جس سے انڈسٹری کے امیج کو نقصان پہنچا لیکن چین میں اس قسم کی کاروں کے بیڑے بڑے پیمانے پر کام کر رہے ہیں اور سنسرز حادثات کی خبروں کو حذف کردیتے ہیں ۔نتیجہ کے طور پرکاریں اپنے سافٹ ویئر کو بہتر بنا رہی ہیں اور تجربہ حاصل کررہی ہیں۔
مشکل ترین حالات میں
روہنگیا تشدد،بے دخلی اور ممکنہ نسل کشی کا شکار ہیں۔ وہ کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔پھر بھی روہنگیا کی انسانی حقوق کی ایڈوو کیٹ لکی کریم نے تعلیم حاصل کی اور ترقی کی منازل طے کیں اور اپنی مثال سے والدین کو قائل کیا کہ وہ اپنی بچیوں کو تعلیم دلوائیں۔اس نے ایلن جی ڈینرس کے ٹاک شو کی یو ٹیوب ویڈیوز ڈائون لوڈ کرکے خود انگلش سیکھی۔جب وہ15 سال کی ہوئی،وہ وزٹ پر آنے والے وفود،انسانی حقوق کے سرگرم ارکان اور صحافیوں کی مدد کر نے لگی جنہیں ایک مترجم کی ضرورت تھی۔
ایک سال بعد اس نے بنگلہ دیش کے چتوگرام شہر کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا۔وہ باقاعدہ بس کا6 گھنٹے کا سفر طے کرکے کیمپ میں اپنے والدین سے ملنے آتی اور روہنگیا کے دوسرے والدین کو آمادہ کرتی کہ وہ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجیں۔والدین اکثر مزاحمت کرتے۔ انہیں ڈر تھا کہ ان کی بچیوں کو روہنگیا ہونے کی بناء پر نشانہ بنایا جائے گا یا کیمپوں میں تعلیم بے معنی ہے۔اس نے والدین کو بتایا کہ کس طرح تعلیم نے اس کی اپنی زندگی تبدیل کردی ہے۔بہت سے والدین کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور ان کی لڑکیاں اب پڑھ رہی ہیں۔
2012 میں لکی کریم کی زندگی بالکل بدل گئی جب اس کی فیملی کو بائڈن انتظامیہ کے دوران شروع کئے گئے ایک پروگرام کے تحت امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے کیلئے منتخب کر لیا گیا۔اس سال کے دسمبر میں وہ فیملی شگاگو پہنچی جو اس کی رول ماڈل مشل اوبامہ کا آبائی قصبہ ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔
کراچی میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر مسلسل آمد
قیام پاکستان کے بعد80لاکھ مسلمانوں میں سے تقریباً 4 لاکھ70 ہزار مسلمانوں نے کراچی کا رخ کیا جو پاکستان کا دارالحکومت بنا۔ ان پناہ گزینوں کے پہنچنے سے بڑے پیمانے پرتعمیراتی دور شروع ہوا۔کراچی اس وقت بحیرہ عرب پر ایک چھوٹی سی بندرگاہ تھی۔ شہر کے مرکز میں اور مضافات میں نئی رہائشیں تعمیر کی گئیں۔دفتری عمارات تعمیر کی گئیں تاکہ یہ لوگ شہر کی معیشت کے سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کرسکیں۔ان لوگوں کا تعلق درمیانے طبقے سے تھا۔ان سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ تعمیراتی ورکرز کے طور پر کام کریں گے۔ایسے ورکرز پنجاب،سندھ اور پشتون علاقوں سے لائے گئے۔ نتیجہ بڑھتے ہوئے شہر میں نقل مکانی کی نئی لہر آگئی۔
ان تعمیراتی ورکرز کیلئے مکانات شہر میں نہیں بلکہ مضافاتی علاقوں میںکئے گئے۔ نتیجہ ورکروں کی بستیوں کی صورت میں نکلا۔ان میں ایک بستی سہراب گوٹھ کی تھی جہاں پشتون آباد ہوئے جو شہر میں کام کرنے کیلئے آئے تھے۔ لیکن ان کیلئے علاقے کے طویل عرصے سے بسنے والوں کے ساتھ رہنا مشکل ہو گیا۔ اس طبقے کو نسلی تصادم کا سامنا کرنا پڑا۔مہاجروں کی آمد سے قبل شہر میں سندھیوں اور خوجہ کمیونٹی کی بالادستی تھی۔جناح کا تعلق خوجہ کمیونٹی سے تھا۔پرانی اورنئی آبادیوں کے درمیان شدید تصادم ہوئے ۔اس مستقل شہری بے چینی کے نتیجہ میںایوب خان نے اقتدار میں آکر ملک کا دار الحکومت کراچی سے راولپنڈی کے نزدیک منتقل کردیا۔
٭٭٭