وجود

... loading ...

وجود

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

بدھ 18 فروری 2026 وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

ریاض احمدچودھری

بھارت میں انتہاء پسند ہندو تنظیمیں متنازع ترانے وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت ایجنڈے اور ہندوتوا غلبے کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس ترانے کو سیاسی اور نظریاتی مقاصد کیلئے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔غیر ہندو آبادی کو بھی وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں بعض شدت پسند عناصر اقلیتوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ وندے ماترم کی مخالفت کرنے والوں کو بھارت میں رہنے کا حق نہیں۔ وندے ماترم کے مخالفین کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دینا چاہیے۔ چند روز قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت کے تصور سے جوڑنا بھارت میں مذہبی و سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ہندوتوا بیانیہ کو سیاسی طور پر استعمال کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس کے اثرات معاشرتی ہم آہنگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے قومی گیت وندے ماترم کے تمام چھ بندوں کو سرکاری تقریبات، اسکولوں اور دیگر رسمی پروگراموں میں لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس حکم کو غیر آئینی، یکطرفہ اور من مانی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی کے آرٹیکل 25 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں وندے ماترم گانے پر اعتراض نہیں مگر اس کے آخری بندوں میں ہندو دیویوں درگا، لکشمی، سرسوتی کا ذکر مسلمانوں کیلئے شرک کی صورت میں ہے۔ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور کسی کو مذہبی عقیدے کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری اْس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض درج کیا ہے جس کے تحت سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے جن گن من سے قبل ”وندے ماترم” کے تمام اشعار پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر دستوری، مذہبی آزادی کے منافی اور سیکولر اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ ان کے بقول ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی پس منظر رکھنے والی نظم یا عقیدے کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر جبراً مسلط نہیں کرسکتی۔مولانا مجددی نے وضاحت کی کہ آزادی کے بعد دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور مشاورت کے نتیجے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ”وندے ماترم” کے صرف ابتدائی دو بند ہی قابل قبول ہوں گے۔ اس نظم کے دیگر اشعار میں دیوی دیوتاؤں کی مدح و ثنا اور پوجا کا ذکر آتا ہے، جو مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے متصادم ہے۔ اسلام میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت بنیادی عقیدہ ہے اور کسی بھی نوع کی شرک کی گنجائش نہیں۔ملکی عدالتوں نے بھی ماضی میں اس کے بعض حصوں کو لازمی قرار دینے کے خلاف رائے دی ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عدالتی نظائر اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے۔ بصورت دیگر بورڈ اس نوٹیفیکیشن کو عدالت میں چیلنج کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس طرح کے فیصلے ملک کی مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام طبقات کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جو آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم ہو۔
بھارت میں انتہاپسند ہندؤں کی مودی حکومت ہندوتوا کے نظریے کے فروغ کے لیے رات دن کوشاں ہے،اس سلسلے میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر ظلم،تشدد ، قتل و غارت ،کاروبار سے روکنا معمول بنتا جارہا ہے۔تازہ حکم نامے میں مودی سرکار نے ہندوتوا کے پرچار کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اسکولوں میں ‘وندے ماترم’ گانے کو لازمی قراردے دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں محکمہ ثقافت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکمنامے میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وندے ماترم کے 150 برس مکمل ہونے کے موقع پر تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں میں ثقافتی اور موسیقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں اس ترانے کی اجتماعی پیشکش کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکمنامے کے مطابق جموں اور کشمیر کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹرز کو ان تقریبات کی نگرانی کے لیے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ سامنے آتے ہی مختلف مذہبی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے، جن کا کہنا ہے کہ طلبا کو اس طرح کے پروگراموں میں زبردستی شریک کرنا مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔اس معاملے پر وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ،اگر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل ہوتا، تو اس طرح کا حکمنامہ جاری کرنے کی کوئی جرآت نہیں کرتا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس اب ریاست نہیں بلکہ یونین ٹریٹری ہے۔ اس فیصلے میں میرا کوئی رول نہیں ہے، فائل میرے پاس نہیں پہنچی اور میں اس فیصلے سے خوش نہیں ہوں۔وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ یہ آرڈر باہر سے جاری کیا گیا ہے اور وہ خود اس سے بے خبر تھیں۔اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ کی سطح پر نہیں لیا گیا۔ یہ فیصلہ وزیرِ تعلیم نے نہیں لیا، نہ ہی کابینہ نے اس پر کوئی بحث کی۔ ہمیں اپنے اسکولوں کے معاملات خود طے کرنے چاہئیں، باہر سے ہدایات نہیں آنی چاہئیں۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار وجود بدھ 18 فروری 2026
وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر