وجود

... loading ...

وجود

موضوع کی تلاش

منگل 17 فروری 2026 موضوع کی تلاش

بے لگام / ستار چوہدری

کبھی کبھی خالی کاغذ سب سے بھاری چیز بن جاتا ہے ۔ لفظ ہوتے ہیں درد بھی ہوتا ہے لیکن عنوان نہیں ہوتا۔۔۔۔ اورعنوان کے بغیر قلم یوں رک جاتا ہے جیسے کسی قبر پر کھڑا ہو اور نام یاد نہ آ رہا ہو۔ میں سوچتا ہوں کیا میں آج کسی مظلوم پر لکھوں یا خود اپنے اس الجھے ہوئے ذہن پر۔۔۔؟ یہ شہر درحقیقت ایک کتاب ہے جس کے ہرصفحے پر کسی کا زخم لکھا ہے ۔ ایک صفحے پر عدالت میں کھڑا بوڑھا، دوسرے پرفیکٹری سے نکالا گیا مزدور، تیسرے پرتعلیمی اسناد لیے بے روزگار نوجوان۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کہانیاں نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ چیخیں اتنی زیادہ ہیں کہ میں کسی ایک کو سن نہیں پا رہا۔ کیا میں اس نوجوان پر لکھوں جس نے اپنی زندگی پنکھے کے ساتھ باندھ دی۔۔۔؟ جس نے خواب دیکھے تھے مگر تنخواہ نہیں ملی، عزت مانگی تھی مگر دھتکار ملی، امید چاہی تھی مگر خاموشی ملی، وہ مرا نہیں تھا وہ تھک گیا تھا۔ مگر اخبار نے لکھا ”ایک اور خودکشی” ۔۔۔ بس ۔۔ اتنا ہی۔۔۔ یا میں اس ماں پرلکھوں جو روز دروازہ کھولتی ہے بغیرکسی دستک کے ۔۔۔؟ جس کے لیے وقت رک گیا ہے اور دعائیں چل رہی ہیں۔ وہ بیٹے کے لوٹنے کا نہیں بس خبر آنے کا انتظار کرتی ہے ۔ کیونکہ اس ملک میں واپسی کم اور لاشیں زیادہ آتی ہیں۔۔۔۔ یا میں اس باپ پر لکھوں جو بچوں کے سامنے کمزور نہیں پڑتا۔۔۔؟ جو ہررات اپنے بٹوے کو دیکھ کر اپنی مردانگی تولتا ہے اورپھر چپ چاپ سو جاتا ہے کیونکہ آنسوؤں کا بھی کوئی بجٹ نہیں ہوتا۔ اس کی خاموشی کسی تقریر سے زیادہ چیختی ہے ۔
پھرمیں سمجھتا ہوں کہ شاید اصل موضوع یہ سب نہیں اصل موضوع یہ ہے کہ اتنے درد کے باوجود ہم اب بھی پوچھتے ہیں کس پر لکھوں ۔۔ ۔؟ جبکہ یہاں تو ہردروازہ ایک نیا زخم ہے میں ایک ایک در کھولتا ہوں اور ہر کمرے میں ایک الگ چیخ میرا انتظار کر رہی ہوتی ہے ۔تعلیم پر لکھوں، اس دروازے کے پیچھے بچوں کی آنکھوں میں خواب ہیں مگر تعلیمی اداروں میں کرسیوں سے زیادہ مایوسی رکھی ہے ۔ کتابیں کہتی ہیں ”تم کچھ بن سکتے ہو”۔۔۔اور نظام کہتا ہے ”تم کچھ نہیں ہو”۔۔۔ہسپتالوں پرلکھوں ، اگلے دروازے پر سانسیں بکتی ہیں اور بستر کم پڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر تھکا ہوا ہے مریض مجبور اور غریب نسخے کو دیکھ کر زندگی کا حساب لگاتا ہے ۔ یہ علاج نہیں یہ انتخاب ہے کہ کون جیے اور کون فہرست میں رہ جائے ۔۔۔۔مہنگائی پر لکھوں، یہ زخم روز گہرا ہوتا ہے ۔ روٹی چھوٹی ہو رہی ہے ، بل بڑھ رہا ہے اور تنخواہ شرم سے جھک گئی ہے ۔ میں دیکھتا ہوں ایک مزدور پانچ روٹیاں خرید کر چھ بچوں کو دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے آج کون بھوکا سوئے گا۔۔۔؟ مذہب پر لکھوں، یہ وہ دروازہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی انسان خاموش اور لیبل بولنے لگتے ہیں۔ یہاں ایمان تولا جاتا ہے اور رحم ناپا جاتا ہے ۔ خدا دلوں سے نکل کر نعروں میں قید ہو گیا ہے اور ہم اس کے نام پر اپنی نفرتوں کو مقدس بنا رہے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عبادت کم اور فیصلے زیادہ ہوتے ہیں کہ کون جنتی ہے ،کون جہنمی۔۔اور میں سوچتا ہوں اگر خدا خود آ جائے تو کیا ہم اسے بھی کسی فرقے میں بانٹ دیں گے ۔۔۔؟ سیاست پر لکھوں، یہ دروازہ سب سے شور والا ہے مگر اندر سب سے زیادہ خاموشی ہے ۔یہاں ووٹ گنا جاتا ہے مگر آدمی نہیں۔ وعدے بڑے ہیں اور قبریں ان سے بھی بڑی۔۔۔میڈیا پر لکھوں، اور آخر میں میرا اپنا دروازہ جہاں سچ آتا ہے اور ریٹنگ میں بدل جاتا ہے ۔ جہاں خون بریکنگ نیوز بنتا ہے اور درد اشتہاروں کے بیچ دب جاتا ہے ۔ میں اسی کمرے میں کھڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا میں خبر لکھ رہا ہوں یا کسی کی زندگی مٹا رہا ہوں۔۔۔؟۔۔۔ اور یوں ہر دروازہ بند کرنے کے بعد میرا سوال اور بھاری ہو جاتا ہے اس ملک میں آخر کس پرلکھوں۔۔۔؟شاید ہم اتنے ٹوٹ چکے ہیں کہ دکھ بھی ہمیں الجھا دیتا ہے ۔۔۔اور یہی الجھن میرا کالم ہے ۔۔۔
اس ملک میں شور بہت ہے مگر آواز نہیں۔ ٹی وی چیختا ہے لیڈر بولتے ہیں مگر بھوک خاموش ہے ، بے روزگاری گونگی ہے اور خودکشی سرکاری فائلوں میں صرف ایک نمبر ہے ۔ میں لکھنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ میری تحریر بھی کسی فائل میں بند نہ ہو جائے ۔قلم بھی کبھی کبھی وزن بن جاتا ہے ۔ جب سچ لکھنے لگو تو انگلیاں کانپتی ہیں اور جب جھوٹ لکھو تو روح۔ میں سوچتا ہوں کیا میں سچ لکھ رہا ہوں یا صرف دکھ کو خوبصورت بنا رہا ہوں۔۔۔؟ یہ سوال ہر لکھنے والے کا اصل امتحان ہے ۔ میں قاری کو دیکھتا ہوں جو یہ سب پڑھ کر سر ہلاتا ہے اور پھر چائے کا کپ اٹھا لیتا ہے ۔ درد پڑھا جاتا ہے ، پی لیا جاتا ہے ، بھلا دیا جاتا ہے ۔ شاید ہم سب ایک دوسرے کے دکھ صرف اس لیے پڑھتے ہیں کہ اپنے دکھ کچھ دیر کو بھول جائیں۔ریاست کہتی ہے ”سب ٹھیک ہے ” ۔۔۔اور شہری زندہ رہنے کی کوشش میں مر رہا ہوتا ہے ان دونوں کے بیچ ایک خلیج ہے جس میں انصاف ڈوب چکا ہے اور امید تیر رہی ہے ۔ میں اسی خلیج پر لکھ رہا ہوں مگر نام ابھی تک نہیں ملا۔۔۔اب مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ کالم کبھی مکمل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں درد روز پیدا ہوتا ہو وہاں موضوع کبھی ختم نہیں ہوتے ۔۔۔ اور شاید میری زندگی کا سب سے سچا کالم یہی ہے ۔۔ ” موضوع کی تلاش ” ۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

موضوع کی تلاش وجود منگل 17 فروری 2026
موضوع کی تلاش

جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر