وجود

... loading ...

وجود

قوموں کا زوال

اتوار 15 فروری 2026 قوموں کا زوال

بے لگام/ ستارچوہدری

سوال صرف یہ نہیں کہ ملک کیوں نہیں چل رہا،سوال یہ ہے کیا ہم اسے چلنے دیں گے ۔۔۔؟ سب سے خطرناک بات۔۔۔؟ ملک کا نظام اب عوام کو بھی تھکا چکا ، جب لوگ احتجاج چھوڑ دیں، سوال پوچھنا چھوڑ دیں، تو پھر ملک نہیں مرتا، قوم مرجاتی ہے ۔ریاست نے خوف کو حکمرانی کا ہتھیار بنا لیا ،اسی خوف نے قوم کو اندر سے توڑ دیا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ ہر کوئی اپنے دائرے میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب معاشرے مرتے نہیں، سڑجاتے ہیں۔
عجیب تماشا لگا ہوا۔۔۔ حکومت چل رہی ہے ۔۔۔ فائلیں حرکت میں ہیں۔۔۔ نوٹیفکیشن جاری ہو رہے ہیں۔۔۔ ایم او یو سائن ہورہے ہیں۔۔۔۔غیرملکی دورے ہورہے ہیں۔۔۔آئے روزدوست ممالک کے سربراہ پاکستان آرہے ہیں۔۔۔ وزراء کامیابی کے بیانات دے رہے ہیں۔۔۔ اخبارات کامیابی کے دعوؤں سے بھرے پڑے ہیں۔۔۔ٹی وی اسکرینیں ترقی کی داستانیں سنا رہی ہیں۔۔۔ مگر ملک ۔۔۔ ملک جیسے کسی کونے میں کھڑا سانسیں گن رہا ۔ معیشت ڈوب چکی ، بیرونی سرمایہ کاری منجمد ، کوئی سرمایہ دار پاکستان کو محفوظ جگہ نہیں سمجھتا۔ پیسہ ڈرپوک ہوتا ہے ، جہاں عدم استحکام ہو وہاں رکنا اسے گوارا نہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ۔ وہ مڈل کلاس جو کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ، وہ یا تو نیچے گر چکی ہے یا ملک چھوڑ چکی ہے ۔ اب پاکستان دو حصوں میں بٹ گیا ہے ، انتہائی امیراورانتہائی غریب، درمیان میں کچھ نہیں بچا۔ ہسپتال بیماری سے زیادہ مہنگے ہو گئے ہیں۔ اسکول فیسیں اتنی ہیں کہ تعلیم خواب بن گئی ہے ۔ انصاف عدالتوں میں نہیں، وقت اور پیسے کے ترازو میں تولا جاتا ہے ۔۔۔۔ اور سکیورٹی وہ بھی اب صرف فائلوں میں محفوظ ہے ، گلیوں میں نہیں۔ تاجر اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہے ، ہنرمند نوجوان ملک سے بھاگ رہے ، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ، سب کسی اورزمین پر اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔یہ صرف ”برین ڈرین” نہیں، یہ قوم کی روح کا انخلا ہے ۔ دوسری طرف دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے ۔ وہ آگ جو ہم نے سوچا تھا بجھا دی ہے ، وہ دوبارہ شعلہ بن رہی ۔۔۔ اور ایک عام شہری۔۔۔؟ وہ ہر خبر کے بعد خود سے پوچھ رہا ہے ،کیا یہ ملک واقعی چل رہا ہے ۔۔۔؟ یا صرف حکومت۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر چہرے پر لکھا ہے لیکن کوئی بولنے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نظام کس کیلئے چل رہا ہے تو بس ایک سوال پوچھ لیں، اس بحران میں کون غریب ہو رہا ہے اور کون امیر۔۔۔؟
پاکستان کی حالت کو اکثر ایک ”بحران” کہا جاتا ہے ۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ بحران نہیں، یہ ایک لمبا، خاموش اور منظم زوال ہے ۔ یہ بربادی سالوں کی غلط پالیسیوں،کرپشن، نااہلی اورطاقت کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے ۔ ہم نے معیشت کو پیداوار کے بجائے قرض پر چلایا۔ ہم نے صنعت کے بجائے امپورٹ کو فروغ دیا۔ ہم نے برآمدات بڑھانے کے بجائے کرنسی کو مصنوعی سہاروں پر رکھا۔ اور جب سہارے ہٹے ، تو سب کچھ زمین بوس ہو گیا۔ ریاست نے عوام پر ٹیکس ڈالے ، لیکن اشرافیہ پر نہیں۔ عام آدمی ہر چیز پر ٹیکس دیتا ہے ، مگر جاگیردار، بڑے سرمایہ دار۔۔۔ اور طاقتور ادارے ، اب بھی مقدس گائیں ہیں۔ نتیجہ۔۔۔؟ ملک کے پاس چلنے کیلئے پیسہ نہیں، لیکن چند خاندانوں کے پاس نسلوں تک چلنے کی دولت ہے ۔ اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں سیاسی جنگوں میں استعمال کیا گیا۔ پولیس انصاف کے بجائے طاقت کی محافظ بن گئی۔ عدالتیں فیصلہ کم، انتظار زیادہ کراتی ہیں۔ بیوروکریسی خدمت کے بجائے فائلوں کی غلام ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خود کو بچانے کیلئے ملک کو قربان کررہا ہے ۔۔۔ اور سب سے خطرناک بات۔۔۔؟ یہ نظام اب عوام کو بھی تھکا چکا ہے ۔ جب لوگ احتجاج چھوڑ دیں، سوال پوچھنا چھوڑ دیں، تو پھر ملک نہیں مرتا قوم مرجاتی ہے ۔
یہ سوال ہر درد مند دل میں ہے اتنی مہنگائی، اتنی بے روزگاری، اتنی ناانصافی کے باوجود قوم کیوں خاموش ہے ۔۔۔؟ کیا لوگ بے حس ہو گئے ہیں۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ لوگ تھک گئے ہیں۔ جب ایک آدمی بار بار احتجاج کرے اورہربار اسے لاٹھی ملے ، مقدمہ ملے ، یا بے بسی ملے تو آخرکار وہ بولنا چھوڑ دیتا ہے ۔ جب ایک ماں بچے کی فیس اور دوائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو تو وہ انقلاب نہیں سوچتی، وہ صرف کل کی روٹی سوچتی ہے ۔ریاست نے خوف کو حکمرانی کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ نوکری خطرے میں، کاروبار خطرے میں، آزادی خطرے میں۔ سوشل میڈیا پر بولنے والا غدار بن جاتا ہے ۔ سڑک پر نکلنے والا مجرم اور اسی خوف نے قوم کو اندر سے توڑ دیا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ ہر کوئی اپنے دائرے میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب معاشرے مرتے نہیں، سڑجاتے ہیں۔
پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے ، یہ وہ جگہ ہے جہاں قومیں یا تو اپنے آپ کو بدل لیتی ہیں یا تاریخ میں دفن ہو جاتی ہیں۔ مسئلہ صرف حکومت نہیں، مسئلہ نظام ہے ۔ وہ نظام جو چند خاندانوں، چند اداروں اورچند طاقتور گروہوں کیلئے بنایا گیا ہے ۔ جب تک قانون سب کیلئے برابر نہیں ہوتا کوئی حکومت، کوئی لیڈر، کوئی نعرہ پاکستان کو نہیں بچا سکتا۔
پاکستان کو کسی قدرتی آفت نے نہیں،غلط فیصلوں نے مارا، لالچ نے مارا، نااہلی نے مارا۔۔۔ اور خاموشی نے مارا۔ یہ ملک آج بھی زندہ ہے کیونکہ اس کے لوگ زندہ ہیں۔ مگر یہ نظام ان لوگوں کا خون نچوڑ رہا ہے جو اسے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہاں بچے بھوکے سوتے ہیں اور ایوانوں میں بجٹ بڑھتے ہیں۔ یہاں مائیں دوائیں چھوڑ دیتی ہیں اور حکمران مراعات نہیں چھوڑتے ۔ یہاں نوجوان ویزا ڈھونڈتے ہیں اور لیڈر قوم پرستی بیچتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب سوال صرف یہ نہیں کہ ملک کیوں نہیں چل رہا،سوال یہ ہے کیا ہم اسے چلنے دیں گے یا یوں ہی لٹتا ہوا دیکھتے رہیں گے ۔۔؟ کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے قومیں غربت سے نہیں مرتیں،قومیں ناانصافی کو قبول کرکے مرتی ہیں۔۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگلہ دیش کا فیصلہ وجود اتوار 15 فروری 2026
بنگلہ دیش کا فیصلہ

عمران خان کا مقدمہ وجود اتوار 15 فروری 2026
عمران خان کا مقدمہ

جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں وجود اتوار 15 فروری 2026
جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں

قوموں کا زوال وجود اتوار 15 فروری 2026
قوموں کا زوال

قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟ وجود هفته 14 فروری 2026
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر