وجود

... loading ...

وجود

قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

هفته 14 فروری 2026 قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

ہم اکثر بھول جاتے ہیں ، قید میں صرف ایک لیڈر نہیں، ایک انسان بھی ہوتا ہے ۔ ایک ایسا انسان جس کے بھی درد ہوتے ہیں، جس کی بھی آنکھیں ہوتی ہیں، جس کے بھی خواب ہوتے ہیں۔ مگر وہ انسان کوئی عام وجود نہیں ہوتا، وہ ایسا وجود ہوتا ہے جو زخموں کو تمغوں کی طرح پہنتا ہے ، جو تکلیف کو اپنی خاموش طاقت بنا لیتا ہے ، اور جو اندھیرے میں بھی سیدھا کھڑا رہنے کا ہنر جانتا ہے ۔ وہ انسان دیواروں سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس نے پہاڑوں سے ٹکرانے کی عادت بنائی ہوتی ہے ۔ وہ زنجیروں سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اس کی سوچ ہتھکڑیوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے ۔ اس کی آنکھ اگر بینائی کھو بھی دے تو بھی اس کا وژن اندھا نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ لوگ آنکھوں سے نہیں حوصلے سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ قید وقتی ہوتی ہے ، لیکن جھک جانا ہمیشہ کیلئے موت بن جاتا ہے ۔ اور وہ جھکنے والوں میں سے نہیں ہوتا۔ وہ، وہ ہوتا ہے جسے تاریخ سلاخوں سے نہیں سچ سے پہچانتی ہے ۔۔۔۔اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کی ضد کرتے ہیں۔ تاریخ کا اصول بڑا سادہ ہے جو طاقت کے ساتھ کھڑا ہو وہ آج جیتتا ہے ، جو سچ کے ساتھ کھڑا ہو وہ ہمیشہ جیتتا ہے ۔کپتان آج قید میں ہے لیکن وہ کہانی بن چکا ہے اور کہانیاں سلاخوں میں نہیں رہتیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب رہا ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟عدالتیں فیصلے سناتی ہیں لیکن تاریخ فیصلے محفوظ رکھتی ہے ۔ ہر دور میں طاقتور یہ سمجھتا ہے کہ وہی سچ ہے اور قیدی جھوٹ۔ لیکن صدیوں بعد نام قیدیوں کے زندہ رہتے ہیں اورتخت مٹی میں مل جاتے ہیں۔تاریخ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اقتدار سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ اقتدار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خوف سے چھوٹے ۔ کپتان آج کسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں، وہ دراصل اس نظام کے ضمیر میں قید ہیں جو عوام کو خاموش رکھ کر خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ تین سال ہوچکے ہیں ایک سابق وزیراعظم کو، ایک مقبول ترین لیڈر کو، ایک کروڑوں لوگوں کی امید کو قید میں رکھے ہوئے ۔۔۔ اور جرم۔۔۔؟نہ قتل، نہ کرپشن، نہ لوٹ مار۔ جرم صرف یہ کہ اس نے عام آدمی کو بتایا کہ تم غلام نہیں ہو، تم شہری ہو، تمہاری آواز کی قیمت ہے ۔ یہ وہ جرم ہے جو ہر آمر کو، ہر جعلی جمہوریت کو، ہر کرسی کے پجاری کو ناقابلِ معافی لگتا ہے ۔عمران خان نے تین اسپتال بنائے جہاں عوام کا مفت علاج ہوتا ہے لیکن آج وہی شخص اپنی آنکھ کا علاج نہیں کرا سکتا۔ وہ شخص جس نے لاکھوں آنکھوں کو امید دی آج اپنی آنکھ کی بینائی کھو بیٹھا۔۔۔۔۔ اور ریاست کہتی ہے ” کتابیں نہ پڑھا کریں” ۔۔۔یہ کوئی جملہ نہیں، یہ ایک نظام کی ذہنیت ہے ۔ یہ وہ ریاست ہے جو چاہتی ہے قیدی اندھا بھی ہو، خاموش بھی۔۔۔۔ اور بے خبر بھی۔اور جب حکومتی بونے ایک قیدی کی بیماری پر طنز کریں تو سمجھ لیں کہ مسئلہ عمران خان نہیں ان کی اپنی بے قدری ہے ۔
یہ جنگ کسی فرد کی نہیں یہ جنگ آواز اور خاموشی کے درمیان ہے ۔۔۔ اور عمران خان آج بھی آواز کے ساتھ کھڑا ہے ۔جب کوئی شخص عوام کو بولنا سکھا دے تو پھر ریاست کو لوہے کی سلاخوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کپتان کی سب سے بڑی طاقت اس کی تقریریں نہیں تھیں، اس کی پارٹی نہیں تھی، اس کا اقتدار بھی نہیں تھا۔ اس کی اصل طاقت عوام کا جاگ جانا تھا۔وہ ماں جو پہلے خاموش رہتی تھی اب سوال کرنے لگی۔ وہ مزدور جو قسمت کو کوستا تھا اب حق مانگنے لگا۔ وہ نوجوان جو بیرونِ ملک بھاگنا چاہتا تھا اب ملک بدلنے کی بات کرنے لگا۔ یہ سب اس نظام کیلئے سب سے خطرناک چیز ہے ۔ کیونکہ بھوکے لوگ تو برداشت ہو جاتے ہیں لیکن باخبر لوگ نہیں۔ اسی لیے عمران خان کو صرف جیل میں نہیں ڈالا گیا بلکہ وقت سے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں سے دور، عوام سے دور، دنیا سے دور۔۔۔ اور اب صحت سے بھی دور۔ قانون کہتا ہے قیدی کو علاج کا حق ہے لیکن یہاں قانون طاقت کے قدموں میں بیٹھا ہے ۔ یہاں انصاف اندھا نہیں، جان بوجھ کرآنکھیں بند کیے بیٹھا ہے ۔ یہ سب بدلہ نہیں یہ خوف ہے ۔ خوف اس دن سے جب عمران خان دوبارہ باہر آئے گا اور وہی آواز پھر سے دلوں کو جگا دے گی۔ کیونکہ قید جسم کو تو توڑ سکتی ہے خیال کو نہیں۔
یہ سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے کہ عمران خان کی قید صرف عمران خان کی کہانی ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ ایک قوم کی کہانی ہے ۔ جب ایک لیڈر کو عوام سے کاٹ دیا جاتا ہے تو دراصل عوام کو اپنے حق سے کاٹا جاتا ہے۔ یہ قید ایک جسم کی نہیں ایک سوال کی ہے ۔ وہ سوال جوعمران خان نے اٹھایا تھا کیا پاکستان صرف طاقتوروں کیلئے ہے یا عام آدمی کیلئے بھی۔۔۔؟ اسی سوال نے اسے خطرناک بنا دیا۔ یہاں جیلیں مجرموں کیلئے نہیں بلکہ سچ بولنے والوں کیلئے ہوتی ہیں۔ اورعدالتی کمرے انصاف کیلئے نہیں بلکہ وقت گزارنے کیلئے ۔ جب ریاست کسی کی بیماری پر ہمدردی کے بجائے طنز کرے تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہاں مسئلہ عمران خان نہیں، انسانیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہنسی، ہر طنز، ہرتضحیک اصل میں خود کو یقین دلانے کی کوشش ہے کہ ” ہم مضبوط ہیں”، حالانکہ سب ڈرے ہوئے ہیں۔
کپتان آج قید میں ہے لیکن وہ کہانی بن چکا ہے اور کہانیاں سلاخوں میں نہیں رہتیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب رہا ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟ وجود هفته 14 فروری 2026
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

کشمیری جھکنے والی قوم نہیں! وجود هفته 14 فروری 2026
کشمیری جھکنے والی قوم نہیں!

پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر