وجود

... loading ...

وجود

پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

جمعه 13 فروری 2026 پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

محمد آصف

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات وسطی اور جنوبی ایشیا میں ایک اہم اور تیزی سے مضبوط ہوتی ہوئی شراکت داری کی مثال
ہیں، جو مشترکہ تاریخ، ثقافتی قربت اور ابھرتے ہوئے معاشی و اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہے ۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے
بعد جب ازبکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا تو پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اسے فوری طور پر تسلیم کیا اور
سفارتی تعلقات قائم کیے ۔ گزشتہ تین دہائیوں میں دونوں ممالک نے تاریخی خیرسگالی کو عملی تعاون میں بدلنے کی مسلسل کوشش کی ہے ، جس
کے نتیجے میں تجارت، علاقائی روابط، سلامتی اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ ملا ہے ۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور علاقائی
انضمام کے دور میں پاکستان اور ازبکستان تعلقات کو نئی اہمیت حاصل ہو رہی ہے ، کیونکہ دونوں ممالک وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے جوڑنے
والے ایک اہم پل کے طور پر ابھرنا چاہتے ہیں۔
تاریخی طور پر پاکستان اور ازبکستان کے عوام کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ قدیم شاہراہِ ریشم کے دور میں تجارت، علم اور تہذیب کے
قافلے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان آزادانہ سفر کرتے تھے ۔ سمرقند اور بخارا جیسے شہر اسلامی تہذیب، علم اور ثقافت کے بڑے مراکز تھے
جنہوں نے برصغیر کی فکری اور روحانی روایات پر گہرا اثر ڈالا۔ مشترکہ اسلامی ورثہ، صوفی روایات اور فارسی تہذیب نے دونوں خطوں کے
درمیان گہرے ثقافتی اور لسانی روابط قائم کیے ، جو آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی تاریخی رشتے جدید سفارتی تعلقات کے لیے
مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
سیاسی سطح پر پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات خوشگوار اور تعاون پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک اعلیٰ سطحی دوروں، سفارتی رابطوں اور بین
الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کے ذریعے اپنے تعلقات کو مضبوط بناتے رہے ہیں۔ دونوں ریاستیں خودمختاری کے احترام،
اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتی ہیں۔ ازبکستان پاکستان کو بحیرۂ عرب تک رسائی کے ایک اہم
دروازے کے طور پر دیکھتا ہے ، جبکہ پاکستان ازبکستان کو وسطی ایشیا کی منڈیوں اور توانائی کے وسائل تک پہنچنے کے لیے ایک اہم شراکت
دار سمجھتا ہے ۔ یہی مشترکہ مفادات دونوں ممالک کو قریبی سفارتی تعاون کی طرف لے جا رہے ہیں۔ معاشی تعاون پاکستان ازبکستان تعلقات کا ایک مرکزی ستون ہے ، اگرچہ موجودہ تجارتی حجم اب بھی اپنی مکمل صلاحیت سے کم ہے ۔ دونوں ممالک اس بات سے آگاہ ہیں
کہ تجارت بڑھانے کے لیے رکاوٹیں کم کرنا، نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانا اور کاروباری روابط کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ ٹیکسٹائل،
زراعت، ادویات، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وہ اہم شعبے ہیں جہاں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ازبکستان کے قدرتی وسائل
اور صنعتی صلاحیت پاکستان کی پیداواری معیشت کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ مشترکہ اقتصادی کمیشن اور ترجیحی تجارتی معاہدے اس
بات کی علامت ہیں کہ دونوں ممالک تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
علاقائی روابط اور مواصلاتی ڈھانچہ اس شراکت داری کا سب سے اہم پہلو بن چکا ہے ۔ پاکستان اور ازبکستان دونوں ایسے علاقائی
منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں جو وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا کی بندرگاہوں اور منڈیوں سے جوڑتے ہیں۔ ریل اور سڑک کے منصوبے سفر کے
وقت اور لاگت کو کم کر سکتے ہیں، جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ان روابط کے ذریعے ازبکستان جیسے خشکی میں گھرے ممالک کو
عالمی منڈیوں تک رسائی مل سکتی ہے ، جبکہ پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت اور توانائی تعاون سے فائدہ ہوگا۔ ایسے منصوبے صرف معاشی نہیں
بلکہ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتے ہیں، کیونکہ وہ علاقائی استحکام اور باہمی انحصار کو بڑھاتے ہیں۔
سلامتی کے شعبے میں تعاون بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہے ۔ پاکستان اور ازبکستان کو دہشت گردی، انتہاپسندی اور
علاقائی عدم استحکام جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے ۔ دونوں ممالک ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے خواہاں ہیں، کیونکہ خطے کی ترقی کا
انحصار وہاں کے استحکام پر ہے ۔ انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور دفاعی تعاون کے ذریعے دونوں ریاستیں باہمی اعتماد کو فروغ
دے رہی ہیں۔
ثقافتی اور تعلیمی تبادلے عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ طلبہ کے تبادلے ، علمی تعاون اور ثقافتی پروگرام
دونوں معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ مذہبی اور تاریخی سیاحت کے فروغ کے بھی روشن امکانات موجود ہیں، خصوصاً
مشترکہ اسلامی ورثے کی بنیاد پر زبان، ادب اور فنون کے شعبوں میں تعاون دیرپا سماجی روابط قائم کرتا ہے ۔ توانائی کے شعبے میں بھی
مستقبل کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وسطی ایشیا کے توانائی وسائل جنوبی ایشیا کے توانائی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر
سکتے ہیں۔ پاکستان اور ازبکستان قابلِ تجدید توانائی، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں، جو
دونوں ممالک کی پائیدار ترقی میں مددگار ہوگا۔ اگرچہ تعلقات کا رجحان مثبت ہے ، تاہم کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ جغرافیائی رکاوٹیں، محدود
براہِ راست روابط اور انتظامی پیچیدگیاں تعاون کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دونوں ممالک کو بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، قوانین کو
آسان بنانے اور نجی شعبے کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے باوجود دونوں حکومتوں کا مضبوط عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ان
رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
مستقبل کی طرف دیکھیں تو پاکستان،ازبکستان تعلقات نہایت امید افزا نظر آتے ہیں۔ علاقائی انضمام اور نئے اقتصادی راستوں کے
قیام کے ساتھ دونوں ممالک گہرے تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاریخی روابط، جغرافیائی اہمیت اور معاشی تکمیل کے ذریعے یہ شراکت
داری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور
ازبکستان کے تعلقات ایک جامع شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں جو تاریخ میں جڑی ہوئی اور مستقبل کی طرف متوجہ ہے ۔ یہ
تعلقات علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور باہمی احترام کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر یہی عزم برقرار رہا تو دونوں ممالک
ایک زیادہ مربوط، مستحکم اور خوشحال علاقائی نظام کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر