وجود

... loading ...

وجود

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

جمعه 13 فروری 2026 پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

چوپال /عظمیٰ نقوی

پنجاب میں آج کل حکمرانی کا ایک نیا ماڈل رائج ہے جس میں دفاتر کی فائلیں کم اور سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز زیادہ مصروف نظر آتی ہیں، انتظامی افسران کی توجہ عوامی مسائل کے حل سے زیادہ اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو چمکانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے، ہر ضلع میںدن کا آغاز تصاویر، ویڈیوز اور ہیش ٹیگز سے ہوتا ہے اسی طرح پولیس میں آئی جی صاحبان سوشل میڈیا پر اپنی کارکردگی دکھانے میں مصروف ہیں ۔سابق آئی جی پنجاب عثمان انور کا تبادلہ کردیا گیا لیکن پنجاب میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہوئی وہ ایک سرخ داستان ہے،پنجاب پولیس کی مثال سامنے ہے، کھلی کچہریوں کا شور، تصاویر کی بھرمار، مسکراتے افسران اور شکایات درج کرواتے شہری، سب کچھ ایسا دکھایا جاتا ہے جیسے میرٹ کا دور دورہ ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک عام شہری آج بھی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانے کے چکر لگاتا ہے، سفارش ڈھونڈتا ہے، اور آخرکار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو جاتا ہے، اگر کھلی کچہریاں واقعی مؤثر ہوتیں تو عدالتوں میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواستوں کا بوجھ کیوں بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی طرح موجودہ آئی جی جیل خانہ جات کے دور میں تبادلہ تو درکنار کسی ملازم کو چھٹی ملنا محال ہے ۔پنجاب میں جیلوں کے اندر قیدیوں کی حالت زار پر کسی روز تفصیل سے لکھوں گی ،کتنے زندہ لوگ جیلوں میں گئے اور ان کی لاشیں باہر آئیں کارکردگی کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسائل حل ہو رہے ہیں یا صرف حل ہوتے ہوئے ا دکھائے جارہے ہیں ۔
پنجاب نے انتظامی افسران کو سوشل میڈیا پر متحرک رکھنے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس کا بنیادی مقصد شفافیت اور جوابدہی بتایا جاتا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ شفافیت ایک نمائشی پردہ بن کر رہ گئی ہے، افسران کی سرگرمیاں عوام تک پہنچ تو جاتی ہیں مگر عوام کی آواز ان افسران تک نہیں پہنچ پاتی، دفاتر کے دروازے بدستور بند، فون بدستور بند، اور درخواست گزار بدستور تذلیل کا نشانہ نظر آتے ہیں۔افسران کی جانب سے دکھائی جانے والی کارکردگی بعض اوقات ایسے کاموں پر مشتمل ہوتی ہے جو ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہی نہیں ہوتے، کہیں اسکول کے دورے، کہیں ہسپتال کے وارڈ میں تصویر، کہیں صفائی مہم کی نگرانی، یہ سب کام بلاشبہ اہم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جن محکموں کا اصل کام ہے وہ کہاں ہیں؟جن افسران کو عملی طور پر مسائل حل کرنے ہیں وہ منظر سے غائب کیوں ہیں، اور اگر وہ کام کر بھی رہے ہیں تو ان کی کارکردگی عوام تک کیوں نہیں پہنچتی۔
ریونیو محکمے کی بات کی جائے تو یہ وہ شعبہ ہے جہاں طاقت کا توازن مکمل طور پر عوام کے خلاف جھکا ہوا نظر آتا ہے، پٹواری سے لے کر اعلیٰ ریونیو افسر تک، ایک عام شہری خود کو بے بس محسوس کرتا ہے، احکامات جاری ہوتے ہیں مگر عملدرآمد ندارد، تبادلے ہوتے ہیں مگر رویے نہیں بدلتے، شکایات درج ہوتی ہیں مگر نتیجہ صفر رہتا ہے۔سوشل میڈیا پر مگر سب کچھ ٹھیک دکھایا جاتا ہے، فائلوں پر دستخط، میٹنگز، اور ہدایات کی ویڈیوز گویا انصاف کی ضمانت بن چکی ہوں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ کارکردگی کو ناپنے کا پیمانہ بدل دیا گیا ہے۔اب مسئلہ حل ہونا نہیں بلکہ مسئلہ حل ہوتا دکھائی دینا کافی سمجھا جاتا ہے۔ عوام کو ریلیف ملنا ثانوی ہو گیا ہے اور پوسٹ کو لائکس ملنا بنیادی ہدف بنتا جا رہا ہے۔اس دوڑ میں وہ افسر جو واقعی خاموشی سے کام کرنا چاہتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس دکھانے کو تصویری ثبوت کم اور عملی نتائج زیادہ ہوتے ہیںمگر نظام نتائج سے زیادہ نمائش کا قائل نظر آتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سوشل میڈیا کلچر نے افسران اور عوام کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا دیا ہے۔ پہلے کم از کم یہ امید ہوتی تھی کہ دفتر جا کر بات سنی جائے گی، آج دفتر کی بجائے فیس بک پیج یا ٹوئٹر ہینڈل دکھا دیا جاتا ہے۔ شکایت کے جواب میں کمنٹ آ جاتا ہے مگر مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے، یوں عوام کی بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکمرانی کا اصل مقصد عوامی مسائل کا حل اور اداروں پر اعتماد کی بحالی ہوتا ہے، مگر جب ادارے خود کو عوام سے دور اور سوشل میڈیا کے قریب کر لیں تو یہ مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل نمائش زمینی اصلاحات کا متبادل نہیں ہو سکتی، تصاویر سے انصاف نہیں ملتا اور ویڈیوز سے قانون حرکت میں نہیں آتا، اس کے لیے مضبوط ادارے، بااختیار اور جوابدہ افسران، اور حقیقی عوامی رسائی درکار ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کو ذریعہ تو بنایا جائے مگر مقصد نہ بننے دیا جائے، افسران کی کارکردگی کا جائزہ پوسٹس کی تعداد سے نہیں بلکہ حل ہونے والے مسائل کی تعداد سے لیا جائے، کھلی کچہریاں فوٹو سیشن نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا فورم بنیں، پولیس تھانے شہری کے لیے خوف کی جگہ کے بجائے انصاف کی پہلی سیڑھی بنیں، اور ریونیو دفاتر طاقت کی علامت کے بجائے سہولت کے مراکز نظر آئیں۔
جب تک پنجاب میں حکمرانی اسکرین سے نکل کر گلی، محلے اور دفتر کے کاؤنٹر تک واپس نہیں آتی، تب تک عوام کو ریلیف کے بجائے صرف ریلیف کی تصاویر ہی ملتی رہیں گی، اور یہی وہ خلا ہے جسے بروقت بھرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جارہی، اعتماد کا بحران مزید گہراہوتا جارہا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر