... loading ...
منظر نامہ
ٹرمپ مودی تجارتی معاہدہ کامیابی یا زرعی سمجھوتہ؟
گزشتہ کئی دنوں سے بھارت ٹرمپ کی مخالفت کا سامنا کر رہا تھا، کیونکہ امریکی صدر مسلسل ٹیرف بڑھا رہا تھا جس سے بھارتی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اس دوران مودی حکومت ٹرمپ کی خوشامد میں مصروف رہی، جبکہ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے رہا تھا۔ تاہم اچانک سامنے آنے والے ٹرمپ مودی معاہدے نے مودی سرکار کو وقتی طور پر خوش کر دیا اور اس نے نہ صرف داخلی دباؤ کم کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرنے کا موقع حاصل کر لیا۔ٹرمپ مودی تجارتی معاہدہ اعتماد، خدشات اور بھارتی معیشت کا امتحان ہے . بھارت کی سیاسی اور معاشی فضا میں اچانک اس وقت ہلچل مچ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے اعلان کا کریڈٹ لیا۔ اعلان کے فوراً بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹس اور کرنسی میں وقتی استحکام دکھائی دیا، جسے حکومتی حلقوں نے مثبت اشارہ قرار دیا، مگر اس ابتدائی تاثر کے نیچے ایک گہری بے چینی بھی جنم لیتی چلی گئی۔ سیاسی جماعتوں، کسان تنظیموں اور پالیسی ماہرین میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا کہ کیا کم محصولات اور تجارتی سہولتوں کے وعدوں کے بدلے بھارت نے اپنے بنیادی قومی مفادات پر ضرورت سے زیادہ سمجھوتہ تو نہیں کر لیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیہی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے ۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت اس وقت پوری قوت کے ساتھ یہ یقین دہانی کرانے میں مصروف ہے کہ معاہدے میں زراعت اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کو محفوظ رکھا گیا ہے ۔ بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے گزشتہ دو دنوں میں دو بار یہ مؤقف دہرایا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھارت نے اپنے کسانوں کے مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دی اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کی غیر ملکی یلغار سے بچایا گیا ہے ۔ حکومتی بیانات کا مقصد اگرچہ اعتماد بحال کرنا ہے ، مگر معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث شکوک و شبہات کم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
بھارتی معیشت میں زراعت محض ایک شعبہ نہیں بلکہ کروڑوں خاندانوں کی روزی روٹی، سماجی ڈھانچے اور سیاسی طاقت کا محور ہے ۔ ڈیری سیکٹر خصوصاً دیہی خواتین اور چھوٹے کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی لیے جب یہ خدشہ پیدا ہوا کہ امریکی زرعی مصنوعات، خاص طور پر دودھ اور اس سے بنی اشیا، کو بھارتی منڈی تک زیادہ آسان رسائی مل سکتی ہے تو اس کا ردعمل فطری طور
پر شدید تھا۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بڑے امریکی زرعی کارپوریشنز کم قیمت پر مصنوعات بھارت میں لانے لگیں تو مقامی پیداوار
مقابلہ نہیں کر سکے گی اور چھوٹے کسان معاشی طور پر کچلے جائیں گے ۔حکومت کی جانب سے زرعی پالیسی سے متعلق فیصلے کی تفصیلات
سامنے نہ آنے کے باعث کسانوں میں پیدا ہونے والی بے چینی نے اب احتجاجی شکل اختیار کر لی ہے ۔ متعدد کسان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں ملک گیر احتجاج کریں گی اور 12 فروری کو ممکنہ ہڑتال بھی زیر غور ہے ۔
ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ حکومت کو معاہدے کی ہر شق پارلیمان اور عوام کے سامنے واضح کرنی چاہیے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ فائدہ واقعی بھارت کا ہے یا محض وقتی سفارتی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ کسان رہنماؤں کے بیانات میں یہ خدشہ نمایاں ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی بڑے فیصلے بند کمروں میں ہو گئے اور اصل فریق، یعنی کسان، کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔سیاسی سطح پر بھی اس معاہدے نے محاذ آرائی کو جنم دیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمان میں شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ معاہدہ امریکا کے حق میں اور بھارتی کسانوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے ۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سخت الفاظ میں کہا کہ اس معاہدے میں بھارتی کسانوں کی محنت اور قربانیوں کا سودا کر دیا گیا ہے اور حکومت نے ایک بار پھر کارپوریٹ مفادات کو عام آدمی پر ترجیح دی ہے ۔ اپوزیشن کا استدلال ہے کہ اگر معاہدہ واقعی متوازن اور فائدہ مند ہے تو پھر حکومت کو اس کی شفاف تفصیلات سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کیوں محسوس ہو رہی ہے ۔مودی حکومت کے حامی اس معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا جیسے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ بہتر شرائط پر معاہدہ بھارت کی برآمدات، ٹیکنالوجی تک رسائی اور عالمی منڈی میں ساکھ کو مضبوط بنا سکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے درمیان بھارت کو بڑے فیصلے کرنے ہوں گے اور ہر تجارتی معاہدہ کسی نہ کسی حد تک سمجھوتوں کا متقاضی ہوتا ہے ۔ تاہم ناقدین اس دلیل کو اس وقت کمزور سمجھتے ہیں جب سمجھوتے کا بوجھ پہلے سے کمزور طبقات پر ڈال دیا جائے ۔اس پورے معاملے میں ایک اہم پہلو ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی بھی ہے ۔ ٹرمپ ماضی میں بھی سخت تجارتی مؤقف اور جارحانہ بیانات کے ذریعے اپنے حامیوں کو متحرک کرتے رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آنا، جب امریکی سیاست میں انتخابی ماحول گرم ہو رہا ہے ، اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ یہ قدم داخلی سیاسی فائدے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس تناظر میں بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض بیانات کے بجائے ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اپنی پوزیشن واضح کرے ۔
بھارتی منڈیوں اور کرنسی کا وقتی سنبھلنا بھی اس معاہدے کے حق میں ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، مگر معاشی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مالیاتی منڈیاں اکثر قلیل مدتی اشاروں پر ردعمل دیتی ہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہو گا جب معاہدے کی شقیں عملی شکل اختیار کریں گی اور ان کے اثرات کسان، صنعت اور صارف تک پہنچیں گے ۔ اگر دیہی معیشت کو نقصان پہنچا تو اس کے سیاسی اور سماجی اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں، جن کا اندازہ صرف مارکیٹ انڈیکس سے نہیں لگایا جا سکتا۔بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ زرعی پالیسی میں معمولی سی لغزش بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دے سکتی ہے ۔ حالیہ برسوں میں زرعی قوانین کے خلاف ہونے والی تحریک نے حکومت کو بالآخر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔ ایسے میں ٹرمپ مودی تجارتی معاہدہ محض ایک خارجی پالیسی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ داخلی استحکام، سیاسی ساکھ اور عوامی اعتماد کا امتحان بن چکا ہے ۔
آگے بڑھنے کا راستہ محض بیانات یا وقتی معاشی اشاروں میں نہیں بلکہ شفافیت، مکالمے اور اعتماد سازی میں پوشیدہ ہے ۔ حکومت کو چاہیے
کہ معاہدے کی تمام شقیں واضح انداز میں پارلیمان اور عوام کے سامنے رکھے ، کسان تنظیموں کے خدشات کو سنجیدگی سے سنے اور یہ یقینی بنائے کہ زراعت اور ڈیری جیسے حساس شعبے واقعی محفوظ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد ماہرینِ معیشت کی رائے کو شامل کر کے ممکنہ اثرات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ سامنے لایا جائے ، تاکہ فیصلہ سازی جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہو اور بھارت عالمی تجارت میں آگے بڑھتے ہوئے اپنے کسان اور قومی مفاد دونوں کا تحفظ کر سکے ۔بھارت میں مودی حکومت نے ہمیشہ کسانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے ۔ایسے فیصلے جو کسانوں کی رائے کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی زمین، پیداوار اور منڈی تک رسائی محدود کرتے ہیں، صرف اقتصادی دباؤ پیدا نہیں کرتے بلکہ اجتماعی مایوسی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ کسان مسلسل احتجاج، دھرنوں اور ہڑتالوں کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں، اور مودی سرکار کی خوشامدی اور حکومتی تدبیر کے پردے کے پیچھے چھپا ہوا یہ رویہ حقیقی قومی مفاد سے دور، ذاتی اور سیاسی سودے بازی کے لیے کھڑا کیا گیا ایک ظالمانہ منظرنامہ ہے ۔
٭٭٭