... loading ...
محمد آصف
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔ خلیج فارس ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے ، جہاں طاقت، سفارت کاری اور نفسیاتی جنگ ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس، فوجی نقل و حرکت، اور سیاسی بیانات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ تاہم اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے جذبات سے ہٹ کر ایک جامع اور متوازن تجزیہ ضروری ہے ، کیونکہ یہ تنازعہ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن، علاقائی سیاست اور مستقبل کے عالمی نظام سے جڑا ہوا ہے ۔
حالیہ دنوں میں ایران نے جس اعتماد اور حکمت عملی کے ساتھ اپنے مؤقف کو پیش کیا ہے ، اس نے عالمی مبصرین کو چونکا دیا ہے ۔ کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امریکہ کو اب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے جیسی یکطرفہ برتری حاصل نہیں رہی۔ ایران کی پالیسی بظاہر براہِ راست جنگ سے گریز کرتے ہوئے ایسی حکمت عملی اپنانے کی ہے جس سے وہ اپنے مخالف کو مسلسل دباؤ میں رکھ سکے ۔ اس حکمت عملی کو ماہرین کنٹرولڈ ڈیٹرنس یا محدود بازدار قوت کا نام دیتے ہیں، جس میں مکمل جنگ کے بغیر اپنے دفاع اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔
امریکہ کی صورتحال بھی کم پیچیدہ نہیں۔ ایک عالمی طاقت ہونے کے ناطے اسے نہ صرف اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی یقین دلانا ہے کہ وہ ان کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔ لیکن جدید عالمی سیاست میں ہر فوجی قدم کے ساتھ معاشی، سفارتی اور داخلی سیاسی نتائج جڑے ہوتے ہیں۔ ایک بڑی جنگ عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ کر سکتی ہے ، اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی مکمل تصادم سے گریزاں دکھائی دیتا ہے ۔ خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی، خصوصاً جدید طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی، ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ تاہم جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں؛ ان میں معلوماتی جنگ، سفارتی چالیں، اور علاقائی اتحاد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں علاقائی سطح پر اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں میں مہارت حاصل کی ہے ، جس کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ تصادم کے نتائج غیر یقینی ہو گئے ہیں۔
روس اور چین جیسے بڑے ممالک کا کردار بھی اس منظرنامے میں اہم ہے ۔ یہ دونوں طاقتیں براہِ راست جنگ کی حمایت تو نہیں کرتیں، لیکن وہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات رکھتی ہیں۔ ان کی سفارتی اور معاشی حمایت ایران کے لیے ایک اہم سہارا بن سکتی ہے ، جبکہ امریکہ کے لیے یہ ایک اضافی چیلنج ہے ۔ عالمی سیاست اب یک قطبی نہیں رہی؛ یہ ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو نفسیاتی اور معلوماتی جنگ بھی ہے ۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیے ، بیانات اور تبصرے نہ صرف رائے عامہ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پالیسی سازوں پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں اس بیانیاتی جنگ کو سمجھتے ہیں اور اپنی اپنی کہانی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں الفاظ، تصاویر اور بیانیے بھی اتنے ہی طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں جتنے میزائل اور بحری بیڑے ۔ علاقائی ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک نازک امتحان ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ کے ہمسایہ ممالک کو ایک طرف اپنی سلامتی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور دوسری طرف کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش بھی کرنی ہے ۔ ان ممالک کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں، علاقائی مکالمے کو فروغ دیں، اور اپنے عوام کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کریں۔ ایک بڑی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کو ہو سکتا ہے جو جغرافیائی طور پر اس تنازعے کے قریب ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے ۔ ایک طرف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی جذبات ہیں، اور دوسری طرف عملی سفارت کاری اور قومی مفادات۔ دانشمندانہ پالیسی کا تقاضا ہے کہ جذبات کے بجائے توازن، امن اور استحکام کو ترجیح دی جائے ۔ پاکستان تاریخی طور پر مسلم دنیا میں مفاہمت اور ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے ، اور موجودہ حالات میں بھی وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں حصہ ڈال سکتا ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دنیا ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنا پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے عالمی طاقتیں شدید اختلافات کے باوجود ایک حد سے آگے جانے سے گریز کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرد جنگ کے دوران بھی شدید کشیدگی کے باوجود براہِ راست ایٹمی تصادم سے بچا گیا، کیونکہ اس کے نتائج ناقابلِ تصور تھے۔ موجودہ صورتحال کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز قرار دینا شاید مبالغہ ہو، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک حساس دور سے گزر رہی ہے ۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے ، نئے اتحاد بن رہے ہیں، اور پرانے تصورات کو چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ ایسے وقت میں دانشمندی، سفارت کاری اور عالمی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ آخرکار، یہ تنازعہ صرف طاقت کے مظاہرے کا نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی نظام کی سمت کا سوال ہے ۔ کیا دنیا تصادم کی راہ اختیار کرے گی یا مکالمے اور تعاون کی؟ اس سوال کا جواب صرف ایران یا امریکہ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے اجتماعی فیصلوں میں پوشیدہ ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ عقل، تحمل اور انسانیت کی مشترکہ بھلائی اس کشیدہ ماحول پر غالب آئے گی، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور مستحکم دنیا میں سانس لے سکیں۔
٭٭٭