وجود

... loading ...

وجود

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اتوار 08 فروری 2026 ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

محمد آصف

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔ خلیج فارس ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے ، جہاں طاقت، سفارت کاری اور نفسیاتی جنگ ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس، فوجی نقل و حرکت، اور سیاسی بیانات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ تاہم اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے جذبات سے ہٹ کر ایک جامع اور متوازن تجزیہ ضروری ہے ، کیونکہ یہ تنازعہ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن، علاقائی سیاست اور مستقبل کے عالمی نظام سے جڑا ہوا ہے ۔
حالیہ دنوں میں ایران نے جس اعتماد اور حکمت عملی کے ساتھ اپنے مؤقف کو پیش کیا ہے ، اس نے عالمی مبصرین کو چونکا دیا ہے ۔ کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امریکہ کو اب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے جیسی یکطرفہ برتری حاصل نہیں رہی۔ ایران کی پالیسی بظاہر براہِ راست جنگ سے گریز کرتے ہوئے ایسی حکمت عملی اپنانے کی ہے جس سے وہ اپنے مخالف کو مسلسل دباؤ میں رکھ سکے ۔ اس حکمت عملی کو ماہرین کنٹرولڈ ڈیٹرنس یا محدود بازدار قوت کا نام دیتے ہیں، جس میں مکمل جنگ کے بغیر اپنے دفاع اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔
امریکہ کی صورتحال بھی کم پیچیدہ نہیں۔ ایک عالمی طاقت ہونے کے ناطے اسے نہ صرف اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی یقین دلانا ہے کہ وہ ان کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔ لیکن جدید عالمی سیاست میں ہر فوجی قدم کے ساتھ معاشی، سفارتی اور داخلی سیاسی نتائج جڑے ہوتے ہیں۔ ایک بڑی جنگ عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ کر سکتی ہے ، اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی مکمل تصادم سے گریزاں دکھائی دیتا ہے ۔ خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی، خصوصاً جدید طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی، ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ تاہم جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں؛ ان میں معلوماتی جنگ، سفارتی چالیں، اور علاقائی اتحاد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں علاقائی سطح پر اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں میں مہارت حاصل کی ہے ، جس کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ تصادم کے نتائج غیر یقینی ہو گئے ہیں۔
روس اور چین جیسے بڑے ممالک کا کردار بھی اس منظرنامے میں اہم ہے ۔ یہ دونوں طاقتیں براہِ راست جنگ کی حمایت تو نہیں کرتیں، لیکن وہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات رکھتی ہیں۔ ان کی سفارتی اور معاشی حمایت ایران کے لیے ایک اہم سہارا بن سکتی ہے ، جبکہ امریکہ کے لیے یہ ایک اضافی چیلنج ہے ۔ عالمی سیاست اب یک قطبی نہیں رہی؛ یہ ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو نفسیاتی اور معلوماتی جنگ بھی ہے ۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیے ، بیانات اور تبصرے نہ صرف رائے عامہ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پالیسی سازوں پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں اس بیانیاتی جنگ کو سمجھتے ہیں اور اپنی اپنی کہانی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں الفاظ، تصاویر اور بیانیے بھی اتنے ہی طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں جتنے میزائل اور بحری بیڑے ۔ علاقائی ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک نازک امتحان ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ کے ہمسایہ ممالک کو ایک طرف اپنی سلامتی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور دوسری طرف کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش بھی کرنی ہے ۔ ان ممالک کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں، علاقائی مکالمے کو فروغ دیں، اور اپنے عوام کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کریں۔ ایک بڑی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کو ہو سکتا ہے جو جغرافیائی طور پر اس تنازعے کے قریب ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے ۔ ایک طرف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی جذبات ہیں، اور دوسری طرف عملی سفارت کاری اور قومی مفادات۔ دانشمندانہ پالیسی کا تقاضا ہے کہ جذبات کے بجائے توازن، امن اور استحکام کو ترجیح دی جائے ۔ پاکستان تاریخی طور پر مسلم دنیا میں مفاہمت اور ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے ، اور موجودہ حالات میں بھی وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں حصہ ڈال سکتا ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دنیا ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنا پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے عالمی طاقتیں شدید اختلافات کے باوجود ایک حد سے آگے جانے سے گریز کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرد جنگ کے دوران بھی شدید کشیدگی کے باوجود براہِ راست ایٹمی تصادم سے بچا گیا، کیونکہ اس کے نتائج ناقابلِ تصور تھے۔ موجودہ صورتحال کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز قرار دینا شاید مبالغہ ہو، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک حساس دور سے گزر رہی ہے ۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے ، نئے اتحاد بن رہے ہیں، اور پرانے تصورات کو چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ ایسے وقت میں دانشمندی، سفارت کاری اور عالمی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ آخرکار، یہ تنازعہ صرف طاقت کے مظاہرے کا نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی نظام کی سمت کا سوال ہے ۔ کیا دنیا تصادم کی راہ اختیار کرے گی یا مکالمے اور تعاون کی؟ اس سوال کا جواب صرف ایران یا امریکہ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے اجتماعی فیصلوں میں پوشیدہ ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ عقل، تحمل اور انسانیت کی مشترکہ بھلائی اس کشیدہ ماحول پر غالب آئے گی، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور مستحکم دنیا میں سانس لے سکیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر