... loading ...
ریاض احمدچودھری
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈے کے تحت نفرت اور انتشار کی منظم کوششیں جاری ہیں جبکہ مودی سرکار کا ہندو راشٹر منصوبہ اقلیتوں کو سماجی اور سیاسی دھارے سے باہر دھکیلنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ مودی کے بھارت میں ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اقلیتوں کے خلاف مذموم مہم جاری ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما ہنت راجو داس کا کہنا تھا کہ؛ ہم دہلی سے پیدل مارچ کا آغاز کریں گے تاکہ بھارت کو ہندو راشٹر بنایا جا سکے، مہانت رام چندر گیری نے کہا کہ بھارت میں جہاں کہیں بڑی مسلم آبادی ہے وہاں پاکستان بنانے کی سوچ ہے۔ سوامی رام بھدر اچاریا نے کہا کہ بھارت میں ہندومت خطرے میں ہے مغربی اتر پردیش “منی پاکستان” لگتا ہے، ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ نفرت انگیز بیانات ثبوت ہیں کہ ہندو انتہا پسندی ریاستی طاقت کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ہندوتوا نظریہ کے تحت بی جے پی بھارت کو فاشسٹ ہندو ریاست میں بدل رہی ہے۔ ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے بجائے نفرت انگیز بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں، ریاستی دہش تگردی اور منظم امتیاز بھارتی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا واضح ثبوت ہے۔ ہندوتوا بیانات اور پالیسیوں کا مقصد اقلیتوں کو نشانہ بنا کر بھارت کو ایک انتہا پسند ریاست میں بدلنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوتوانے بھارت کی عدلیہ اور مسلح افواج تک اپنی رسائی کو بڑھا دیا ہے جس کے انصاف اور جمہوریت کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ بھارتی عدلیہ دائیں بازو کی مودی حکومت کا آلہ کار بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اہم فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں حجاب پر پابندی، بابری مسجد کا انہدام اور دفعہ 370کی منسوخی شامل ہے اوران فیصلوںکو ہندوتوا پر مبنی تعصب قرار دیاگیا ہے۔یہ فیصلے مودی حکومت کے ایجنڈے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، ان میںانصاف کو پس پشت ڈالا گیا ہے اور اقلیتوں کے حقوق کو مجروح کیاگیا ہے۔ہندوتوا کا ایجنڈا اقلیتوں خاص طوپر مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کو مٹا کر ہندو بالادستی کو مسلط کرنا بھی ہے۔ مسلمانوں کے ناموں سے منسوب شہروں اور علامتوں کا نام تبدیل کرنا اور تاریخ کو دوبارہ لکھنا بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کی صورت حال کے حوالے سے انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ساؤتھ ایشیا ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن سینٹر کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر روی نائرکاکہنا ہے کہ یوں تو مودی حکومت اور ہندوتوا کی طاقتوں نے جو خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے اس سے تمام ہی اقلیتی فرقے خوف زدہ ہیں لیکن مسلمانوں کی صورت حال کچھ زیادہ خراب ہے۔حکومت بھارت میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لیے منصوبہ بند کوششیں کررہی ہے۔ این آر سی اور سی اے اے جیسے قوانین اسی لیے لائے گئے ہیں۔ اترپردیش میں انسداد تبدیلی مذہب کا قانون اسی سلسلے کا حصہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کردیے گئے ہیں۔
مودی حکومت نے مسلمانوں کے بارے میں تو یہ طے کردیا ہے کہ وہ ملک کے اندر ملک کے دشمن ہیں اور انہیں دوسرے درجے کی شہریت تسلیم کرنی ہوگی ورنہ انہیں حکومت اور حکومت کے حامیوں کی طرف سے مزید مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔غیرقانونی طوپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کی طرف سے کٹھ پتلی انتظامیہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حق خودارادیت کے کشمیریوں کے جائزمطالبے کے خلاف سازشیں رچانے اورعلاقے میں ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنے کی شدیدمذمت کی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے تحریک آزادی کو دبانے کی ہرممکن کوشش کی اور مقبوضہ علاقے کو ایک میدان جنگ میں تبدیل کر دیا۔ بھارت اسرائیلی طرز کی ریاستی دہشت گردی پر عمل کرتے ہوئے فوجی مقاصد کے لیے زیادہ سے زیادہ زمینوں اور شہریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر کے اور قدرتی وسائل کو لوٹ کر مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت مقامی کاروباروںکو تباہ کرنے اور مسلمان ملازمین کو سول انتظامیہ سے برطرف کرنے کی سازش کررہا ہے۔
حریت کانفرنس نے بھارت پر زوردیاکہ وہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی بند کرے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جھوٹے الزامات پر انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں ، حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی غیر قانونی اور جبری گرفتاریوں کا نوٹس لیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزیوںپر بھارت کے خلاف کارروائی کرے۔
٭٭٭٭