وجود

... loading ...

وجود

روٹی یا شعور۔۔۔؟

هفته 07 فروری 2026 روٹی یا شعور۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

کیا شعورپیٹ بھرتا ہے ۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یہی تو بتاتا ہے کہ پیٹ کس نے خالی رکھا ہے ۔۔۔ کیا شعوردوائی بنتا ہے ۔۔۔؟
نہیں ۔۔۔۔ مگر، یہ پہچان سکھاتا ہے کہ مرض ،بیماری کا ہے یا حکمرانی کا ہے ۔۔۔ کیا شعور روزگار دیتا ہے ۔۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔ لیکن، یہ
ضروربتاتا ہے کہ نوکریاں کس کے بچوں کیلئے اوربیروزگاری کس کے نصیب میں لکھی گئی ۔۔۔۔ شعور کوئی روٹی نہیں جسے کھا کرانسان جی
لے، شعور وہ آنکھ ہے جس سے دیکھ کر انسان سمجھتا ہے کہ روٹی کیوں نہیں ہے ۔۔۔ حکمران ہمیں صرف اتنا دینا چاہتے ہیں جتنا ہم مانگیں اور
ہم سے وہ آنکھ چھین لینا چاہتے ہیں جس سے ہم سوال کرتے ہیں۔ کیونکہ بھوک سے مرتا ہوا انسان خطرہ نہیں ہوتا لیکن باشعورانسان ہر
اقتدار کیلئے زلزلہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہا جاتا ہے ” شعور کسی کام کا نہیں ” کیونکہ شعور تختوں کو لرزانا جانتا ہے ۔ جنہیں روٹی سے زیادہ اطاعت
چاہیے انہیں شعور سے ڈرلگتا ہے ۔ شعور حساب مانگتا ہے ، سوال اٹھاتا ہے ، چہرے اتارتا ہے ۔۔۔ اور یہی وہ جرم ہے جس کی سزا ہردور میں
عوام کو دی جاتی ہے ۔
عوام کوغربت میں رکھو،عوام کو بھوک میں رکھو لیکن باشعور مت ہونے دو، کیونکہ بھوک صرف جسم توڑتی ہے ، شعورتخت توڑتا ہے ۔۔۔
جنہوں نے کہا ”شعورسے پیٹ نہیں بھرتا”۔۔۔انہوں نے سچ کہا، مگرپورا نہیں ۔۔۔ کیونکہ بھرا ہوا پیٹ اگر بے شعورہوتو وہی پیٹ اپنے
قاتل کو بھی ووٹ دے دیتا ہے ۔ شعور کوئی نوالہ نہیں، یہ یادداشت ہے ، یہ سوال ہے ، یہ وہ زخم ہے جو بھرنے سے انکار کرتا ہے جب تک
انصاف نہ ملے ۔ حکومتیں ہمیں ہمیشہ بھوک میں رکھنا چاہتی ہیں کیونکہ بھوک انسان کو چھوٹا بنا دیتی ہے اور چھوٹے انسان بڑے ظلم آسانی سے
سہہ لیتے ہیں۔ باشعورآدمی جب بھوکا ہوتا ہے تو سڑک پر آتا ہے ، بے شعورآدمی جب بھوکا ہوتا ہے تو قطار میں لگ جاتا ہے ۔ شعور روٹی
نہیں دیتا لیکن روٹی کا راستہ بتاتا ہے ۔شعور دوائی نہیں لیکن ”مرض” کا نام ضرور بتاتا ہے ۔۔ اور ”مرض ” کی پہچان سب سے خطرناک
چیزہوتی ہے اقتدار کیلئے ، اس لیے نصاب بدلا جاتا ہے ، تاریخ مٹائی جاتی ہے ، سوال کو گستاخی کہا جاتا ہے اور خاموشی کو تہذیب ۔ ہمیں بتایا
جاتا ہے کہ سوچنا بغاوت ہے ، پوچھنا بدتمیزی ہے اور مان لینا قوم پرستی ۔ یہ سب شعور کے قتل کی مہذب اصطلاحات ہیں۔۔۔قومیں کبھی خود بخود بے شعورنہیں ہوتیں، انہیں منصوبہ بنا کرایسا کیا جاتا ہے ۔ پہلے سکول کمزور کیے جاتے ہیں ، پھر کتابیں پتلی اور سوال غائب ۔ پھر ٹی وی پر شور بڑھایا جاتا ہے تاکہ سوچنے کی آواز دب جائے ۔ پھر نفرت کے نعروں میں عقل کو گم کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ اور قوم جھنڈوں میں لپیٹ دی جاتی ہے ۔ بے شعوری کا سب سے بڑا ہتھیارجذبات ہوتے ہیں۔ جتنا زیادہ غصہ اتنا کم شعور، جتنا زیادہ نعرہ اتنی کم سمجھ ۔۔۔ اور جب لوگ جذبات میں جیتے ہیں توہ اپنے دشمن خود چن لیتے ہیں اور حکمران محفوظ ہوجاتے ہیں۔ باشعور قوم حساب مانگتی ہے ، بے شعورقوم نعروں پر مر جاتی ہے ۔ اسی لیے ہمیں لڑایا جاتا ہے فرقوں میں، قومیتوں میں، زبانوں میں تاکہ ہم سوال کی ایک زبان نہ بوسکیں۔ شعور ہمیں جوڑتا ہے ، بے شعوری ہمیں توڑتی ہے ۔۔۔ اورٹوٹے ہوئے لوگ کبھی تخت نہیں گراتے ۔شعور کبھی مرنہیں جاتا وہ صرف دبایا جاتا ہے ۔ وہ کسی مزدور کی ہتھیلی میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے ، کسی ماں کی دعا میں سانس لیتا ہے ، کسی طالب علم کی آنکھ میں جاگ اٹھتا ہے ۔ حکمران کتابیں جلا سکتے ہیں لیکن سوال نہیں۔ وہ اسکول بند کر سکتے ہیں لیکن سوچ نہیں۔ شعور خاموشی میں بھی سرگوشی کرتا ہے ۔۔۔ اور ایک دن یہ سرگوشی نعروں سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب لوگ بھوک سے نہیں ذلت سے تھک جاتے ہیں تو شعور بغاوت بن جاتا ہے ۔ پھر کوئی وزیر،کوئی تخت،کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔۔۔ کیونکہ انقلاب روٹی سے نہیں احساس محرومی سے پیدا ہوتا ہے ۔۔ اوراس محرومی کو نام دینے والا شعور ہوتا ہے ۔۔۔وہ کہتے ہیں، ” شعور سے پیٹ نہیں بھرتا”۔۔۔ ہم کہتے ہیں پیٹ تو غلامی سے بھی بھر جاتا ہے ،مگر انسان مرجاتا ہے ۔ شعور روٹی نہیں لیکن روٹی کی عزت سکھاتا ہے ۔ شعور دوائی نہیں لیکن یہ بتاتا ہے کہ بیماری جسم میں نہیں نظام میں ہے ۔ جن قوموں سے شعورچھین لیا جائے انہیں خیرات پرزندہ رکھا جاتا ہے ۔۔۔ اور جن قوموں کو شعور مل جائے وہ تاریخ لکھتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کو روٹی اور شعور میں سے ایک چننے کو کہا جائے تو سمجھ لیں کوئی آپ کو ہمیشہ کیلئے بھکاری بنانا چاہتا ہے ۔ کیونکہ روٹی آج کا مسئلہ ہے شعور ہمیشہ کا حل ۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر