... loading ...
ب نقاب /ایم آر ملک
جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: “آپ کہاں قیام کریں گے؟”
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: “ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔”
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: “ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔”
اس پر ویت نامی نے کہا:
“ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔”
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
“ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔”
ایک دن جنرل “جیاب” جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے، نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی “انقلابی” تنظیمیں موجود تھیں۔وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا: “آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی !”
انہوں نے پوچھا: “کیوں؟”
جنرل جیاب نے جواب دیا:
“کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے”۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔اور جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
آج پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں ایسے مفاد پرست غداروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے جنہوں نے عمران خان کے نام پر ووٹ لئے مگر اس کے نظریئے کو بیچ ڈالا ،جو پی ٹی آئی کے ساتھ منسلک ہونے سے قبل مسائل کی چکی میں پستے عوام کے کندھوں پر سوار ہوکر ایوان اقتدار تک پہنچنے کی تدبیریں کرتے رہے لیکن ان کو عوام نے مسترد کردیا ،مگر جب عمران خان کا نام لیکر یہ عوام کی عدالت میں پہنچے تو سرخرو ہوئے اس وقت تحریک انصاف کے پاس قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سے لیکر سینیٹ تک سارے پلیٹ فارم موجود ہیں لیکن ان پلیٹ فارمز پر عمران خان کی قید تنہائی کے بارے میں کبھی بھر پورآواز نہیں اُٹھائی جاتی ، احتجاج نہیںہوتا ،یہ ممبران سینیٹ کے ہوں یااسمبلی کے سیشن اٹینڈ کرتے ہیں ،پروٹوکول انجوائے کرتے ہیں مگر عمران خان کے نظریات سے مخلص نہیں ،اڈیالہ کے گیٹ پر ہر منگل کو راولپنڈی کے نظریاتی ورکرز کو ہتھکڑیاں لگتی ہیں ،تشدد ہوتا ہے ،علیمہ خانم ،نورین خانم ،عظمیٰ خانم پر کہر آلود راتوں میں پانی کی بوچھاڑہو تی ہے ،عظمیٰ ملک جیسی خواتین ورکرز ہر منگل ایک نئی آس ایک نئے جذبے ،ایک جوش اور ولولے کے ساتھ گھروں کی دہلیز پار کرتی ہیںمگر لاوارث ورکروں کی قطار میں نہ تو قیادت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی عوامی نمائندہ ،اگر کوئی ایم پی اے یا ایم این اے وہاں پہنچتا بھی ہے تو صرف وکٹری کا نشان بنا کر تصاویر بنوانے تک ،پنجاب بھر سے لے کرراولپنڈی تک ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس پارٹی کے عہدے ہیں مگر ان کی کار کردگی یہ ہے کہ وہ گھر میں بیٹھ کر کسی نیوزپیپر میں خبریں لگوا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا ،پارٹی کے ان عہدیداروں کو نہ تو کبھی ہتھکڑی لگی اور نہ ہی ان پر کبھی کوئی ایف آئی آر کٹی ،ماضی میں یہ لوگ جس طرح متحرک رہے ،جس جرأت اور اخلاص کے ساتھ باہر نکلے، ان کی یہ روش ورکرز کی صفوں میں ناقابل فہم محسوس ہوتی ہے ،اصولی طور پر کوئی بھی عوامی تحریک کسی حقیقی بنیاد کے بغیر نہیں اُٹھ سکتی ،آج اس تحریک کی حقیقی بنیاد یہی ہے کہ ایک عوامی لیڈر شپ بغیر کسی جرم اور قصور کے پابند سلاسل ہے ،9مئی کے واقعے کے بعد نوجوانوں میں پائی جانے والی تلخی کسی جادو منتر کا نتیجہ نہیں ،یہ چار برس کی ناانصافیوں ،جرم بے گناہی میں بننے والے مقدمات ،چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے ،خواتین کی تذلیل ،جھوٹے مقدمات کے تسلسل ،پولیس گردی کے کڑوے کسیلے پھل ہیں ، لاوا پک چکا ہے لوگ اپنی جانیں دینے کیلئے خواہ مخواہ تیار نہیں ہوجاتے ،یہ مرحلہ تب آتا ہے جب ان کیلئے چین سے جینا ناممکن بنا دیا جائے ،تنگ آمد ،بجنگ آمد تک نوبت اس وقت پہنچتی ہے جب لوگ مرنے ،مارنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں، اس کیفیت میں ہر حلقہ انتخاب سے ایک مخلص اور ہمدرد قیادت کی ضرورت ہے جو اپنی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس مظلوم طبقہ کی رہنمائی کرے کیونکہ ان کے مد مقابل وہ فسطائی حکمران ہیں جنہوں نے تعصبات اور نفرتوں کی آگ بھڑکاکر ،بھائی کو بھائی سے لڑا کر ،خون کے دریا بہا کر ،لاشوں کے مینار سجاکر سیاست کی منڈی میں اپنے دام بڑھائے ،دیکھنا یہ ہے کہ 8فروری کے دن یہ ممبران اسمبلی عمران خان کے نظریئے یاورکروں کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں ؟
٭٭٭