... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
بی ایل اے کے پیچھے بھارت ہے ،ٹی ٹی پی کے پیچھے افغانستان ہے ،افغانستان کے پیچھے بھارت ہے ، بھارت کے پیچھے اسرائیل ہے ، اسرائیل کے پیچھے امریکا ہے ،امریکا ہمارا دوست ہے ،ٹرمپ روزہماری تعریفیں کرتا ہے ۔۔۔ بہت سخت کنفیوژن ہے ، دماغ خراب ہوا پڑا ہے ، کچھ سمجھ نہیں آرہا، یااللہ !! مجھے سمجھ عطا فرما، یہ ہوکیا رہا ہے ۔۔۔۔
ایک بات یاد رکھیں، تاریخ کسی کو نہیں بخشتی، وہ لکھے گی، یہ وہ ریاست تھی جو ہردشمن پہچانتی تھی مگرخود کو نہیں۔۔۔ہم ایک ہی سانس میں اس سے قرض بھی لیتے ہیں اور اسی سانس میں اسے سازش بھی کہتے ہیں، یہ عجیب جغرافیہ ہے جہاں دشمن ہمارے بینک اکاؤنٹس میں رہتا ہے اوردوست ہمارے قبرستانوں میں، وہ کہتے ہیں افغانستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے لیکن افغانستان کو ہم نے خود ہتھیار، سرحدیں اورخاموشی دی تھی، ہم نے طالبان کو فتح کا ہار پہنایا اورآج ان کے سائے میں اپنے جنازے اٹھا رہے ہیں، یہ کیسا انتقام ہے جو ہمارے فیصلوں سے ہمیں ہی ماررہا ہے ۔۔۔۔؟
ہم ہرلاش کے بعد ایک نیا دشمن تراش لیتے ہیں، جیسے درزی ہر پھٹے کپڑے پر نیا پیوند لگاتا ہے مگرکپڑا آخرکارچیتھڑے ہی بنتا ہے ، ہمیں سچ نہیں چاہیے ،ہمیں ایک خوبصورت کہانی چاہیے ، جس میں ہم ہمیشہ مظلوم ہوں اورباقی دنیا ہمیشہ ظالم، کیونکہ جو قوم خود کو قصوروارمان لے وہ بدل سکتی ہے اورجو قوم صرف سازش ڈھونڈے وہ مرجاتی ہے ۔ہم کہتے ہیں،افغانستان دشمن ہے کیونکہ وہاں سے گولیاں آتی ہیں مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ وہی افغانستان کل تک ہمارا فخرتھا، ہماری اسٹرٹیجک ڈیپتھ، ہماری فتح کی تصویر، ہم نے جس درخت کو اپنے ہاتھوں سے سینچا، آج اسی کی شاخیں ہمارا گلا کاٹ رہی ہیں، ہم نے دنیا کو کہا تھا، دیکھو !! ہم نے سوویت یونین کو ہرایا، آج دنیا کہہ رہی ہے ، دیکھو !! انہوں نے دہشت گردی کو پال لیا، ہم نے جہاد کو بیچا ریاستی پالیسی کے طورپر۔۔ اوراب،ہم امن مانگ رہے ہیں، بھیک کی طرح، ہم کہتے ہیں بھارت بی ایل اے کو چلا رہا ہے ،شواہد ہیں، وہ پیسہ دیتا ہے ، وہ فائدہ اٹھاتا ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں اگر دل جیتے ہوتے تو ڈالر کیسے داخل ہوتے ۔۔۔؟
کوئی باہروالا کسی خطے میں آگ نہیں لگا سکتا جب تک اندرایندھن نہ ہو، ہم نے بلوچ نوجوان کو شک میں بدلا اور پھر حیران ہوئے کہ وہ بندوق بن گیا، ہم نے اپنے شہریوں کو ریاست کا بوجھ سمجھا اور آج ریاست خود ان کے لیے بوجھ بن چکی ہے ، ہم ہر دشمن کے پیچھے ایک بیرونی طاقت کھڑی کرتے ہیں، تاکہ ہمیں آئینہ نہ دیکھنا پڑے ، لیکن تاریخ آئینہ نہیں چھوڑتی۔ وہ ہمیں ”ہم ” ہی دکھا دیتی ہے ۔ہم کہتے ہیں، اسرائیل بھارت کے پیچھے ہے ، بھارت ہمارے زخموں کے پیچھے اور ان سب کے پیچھے امریکا کھڑا ہے ۔ پھرہم اسی امریکا کے دروازے پر قطارمیں کھڑے ہوتے ہیں، قرض، حمایت، سرٹیفکیٹ اور سلامتی مانگنے ۔ یہ کیسا رشتہ ہے جہاں قاتل کو بھی سلام اور مقتول کو بھی۔ امریکا ہمیں دہشت گردی کے خلاف ساتھی کہتا ہے اور بھارت کو خطے کا چوکیدار، ہم دونوں ایک ہی عدالت میں کھڑے ہیں مگر فیصلے صرف ہمارے خلاف۔ یہی تو دوہرا معیار ہے جو بم نہیں ریاستیں توڑتا ہے ، اسرائیل انٹیلی جنس، ڈرون اورنگرانی دیتا ہے بھارت کو، اوربھارت اس کا عکس ہم پرآزماتا ہے ۔۔۔ اور ہم۔۔۔؟ ہم اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ شاید کوئی ہمیں بچا لے گا،ریاستیں بچائی نہیں جاتیں، وہ اپنی غلطیوں کو مان کر بچتی ہیں لیکن ہم ہرلاش کے بعد نیا نقشہ بناتے ہیں جس میں قصور ہمیشہ باہر ہوتا ہے ، ہم ایک عجیب ملک ہیں جواپنی بربادی کے نقشے خود بناتا ہے اورپھر غیرملکی سازش کا پرچم لہراتا ہے ۔
ریاست کہتی ہے ہم جنگ جیت رہے ہیں لیکن قبرستان بڑھ رہے ہیں، ریاست کہتی ہے دشمن ختم ہو رہا ہے لیکن نقشے سکڑ رہے ہیں ۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں فتح کے اعلانات لاشوں سے تیزآتے ہیں ۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سب کچھ بیرونی سازش ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ بلوچستان میں سیاسی آوازیں کیوں مرگئیں ۔۔۔؟ کے پی اوربلوچستان میں ریاست چیک پوسٹ تک کیوں محدود ہو گئی۔۔۔؟ کہ نوجوان قانون نہیں بندوق کیوں دیکھ رہا ہے ۔۔۔؟ یہ سوال ہرحکومت سے پوچھا جانا چاہیے ، مگر ہم ہرسوال کوغداری کہہ کردفن کردیتے ہیں۔ ریاست جب سوالوں سے ڈرنے لگے تو سمجھ لو وہ جواب کھو چکی ہے ، ہم نے سچ بولنے والوں کو خاموش کیا اور جھوٹ بولنے والوں کو پروٹوکول دیا، پھر ہم حیران ہیں کہ سچ کہاں گیا۔۔۔؟ ریاست اگراپنی غلطی مان لے تو وہ مضبوط ہوتی ہے لیکن اگرہرغلطی کو سازش بنا دے تو وہ کھوکھلی ہوجاتی ہے اورکھوکھلی ریاستیں دھماکوں سے نہیں، سچ سے ٹوٹتی ہیں۔ہم نے ہرطرف دشمن بٹھا دیے مگر خود کو کہیں کھڑا نہیں کیا، ہم نے ہرناکامی کے پیچھے ایک ملک رکھ دیا اورہرقبر کے پیچھے ایک سازش، لیکن ریاستیں یوں نہیں ٹوٹتیں۔ وہ غلط فیصلوں سے مرتی ہیں، جب آپ اپنے شہریوں کو سنا نہیں کرتے تو کوئی اور انہیں سن لیتا ہے ۔ جب آپ انصاف نہیں دیتے تو بندوق اپنا قانون لکھتی ہے ۔ جب آپ سیاست بند کردیتے ہیں تو جنگ شروع ہو جاتی ہے ، یہی وہ سچ ہے جسے ہم دشمن کہہ کر گولی مارتے رہے ، ہم نے سوچا تھا ہم دنیا کو بیوقوف بنا لیں گے ۔ مگرآخرکار ہم نے خود کوبیوقوف بنا لیا، اورتاریخ۔۔۔؟ وہ کسی کو نہیں بخشتی،وہ لکھے گئی ”یہ وہ ریاست تھی جوہر دشمن کو پہچانتی تھی لیکن خود کو نہیں” ۔۔۔
٭٭٭