... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
مجھے نہ گرنے کا درد ہوا، نہ فاصلے کی طوالت کا، اور نہ ہی شدید ٹکراؤ کا، جو چیز واقعی مجھے تکلیف دے گئی، وہ یہ تھی کہ میں اس ہاتھ پر بھروسہ کر رہا تھا جس نے مجھے دھکا دیا۔۔۔ اس لئے ۔۔۔اپنے جذبات کی کمزوری کے سامنے جھکنے سے بچو، سخت اور مضبوط بنو، خود کو تنہائی اور صدمات کا عادی بناؤ تاکہ شکست کا احساس نہ ہو، انسان جب تنہا ہوتا ہے تو خود کو سنتا ہے ۔ اور جب خود کو سننے لگے تو پہلی بار اسے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر کتنا شور ہے ۔ ہم باہر کی خاموشی سے نہیں ڈرتے ، ہم اپنے اندر کی آوازوں سے ڈرتے ہیں۔ وہ آوازیں جو سوال کرتی ہیں، تم نے کیا پایا۔۔۔؟ تم نے کیا کھویا۔۔۔؟ اور تم خود کہاں کھڑے ہو۔۔۔؟
جسم کے زخم کبھی نہ کبھی بھر جاتے ہیں، مگر روح کے زخم بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ وہ ہمیں خواب میں جگاتے ہیں، آئینے میں شرمندہ کرتے ہیں، اور خاموش لمحوں میں ہمیں اندر سے کاٹتے رہتے ہیں۔ ہم دوسروں سے لڑ کر اپنی عزت بچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اصل جنگ خود سے ہوتی ہے ۔ جو شخص اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو جوڑنا سیکھ لے وہی اصل میں مضبوط ہوتا ہے ،تنہائی غربت نہیں، یہ شعور ہے ۔ جو شخص تنہائی میں اپنے ساتھ بیٹھ سکتا ہے وہ کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کے شور میں بھی خاموش رہ سکتا ہے ، اور خاموشی میں بھی مکمل محسوس کر سکتا ہے ،دنیا شور کرنے والوں کو اکثر سنتی ہے ، مگر وقت خاموش رہنے والوں کے حق میں فیصلہ کرتا ہے ، جو شخص اپنی تکلیف کو تماشا نہیں بناتا وہی اصل میں خوددار ہوتا ہے ۔۔۔میں نے زندگی میں بہت جھوٹ بولے ،کسی سے نہیں،اپنے آپ سے ۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ میرا دل کہیں جوان نہ ہوجائے ،صرف بچہ ہی رہے ۔۔۔۔۔ بچہ رہے گا توجلد بہل جایا کرے گا،وعدوں سے ،خوابوں سے ،خیالوں سے ،جوان ہوگیا تو جلد مر جائے گا۔۔۔مرنا موت کو ہی نہیں کہا جاتا،زندہ انسان بھی مرا ہوا ہوتا ہے ،مرا ہوا انسان بھی زندہ ہوتا ہے ۔۔۔ جاگتی آنکھیں خواب دیکھو،بڑے خواب،مشکل میں ہوتو اس سے بڑے خواب دیکھو۔۔۔”مصر کی حکمرانی ملنے سے پہلے کنویں میں گرنا پڑتا ہے ” ۔۔۔۔ آپکو بھی تعبیر مل سکتی ہے ،خواب آپ کو مرنے نہیں دینگے ،اپنے من کی دنیا بساؤ اور پھر اس میں شہنشاہ بن کررہو،تمہاری زندگی ” آج ” ہے ،کل نہیں،کل کا کس کو پتا۔۔۔؟ جس کا پتا نہیں،اس کیلئے پریشانی کیوں۔۔۔؟ خواہشات کے پیچھے نہ بھاگو،یہ وہ راستہ ہے جہاں سے واپسی ناممکن،بھٹک جاؤگے ،خود کو آسائشات کا عادی نہ بناؤ،آسائشات دنیا کا سب سے خوفناک نشہ ہے ،قبر تک لے جاتا ہے ۔۔۔
یونانی فلسفی ڈائیو جینس سخت حالات میں زندگی گزارتے تھے اور سادہ غذا،روٹی اور دال کھا کر گزارہ کرتے تھے ،جب فلسفی ارسٹیپس نے انہیں دیکھا تو کہا، اگر آپ بادشاہوں کی جی حضوری کرنا سیکھ لیتے تو آپ کو دال کھا کر گزارہ نہ کرنا پڑتا،ڈائیو جینس بولے ، اگر تم نے دال کھانا سیکھ لیا ہوتا تو تمہیں ہر روز بادشاہوں کی غلامی اور چاپلوسی نہ کرنا پڑتی،انسان کی فطرت اس کے نظریات،اس کے اصول اور اقدار کا جوہر ہی اسے ڈائیو جینس یا ارسٹیپس بناتا ہے ۔۔۔دولت آپ کی ضروریات تو پوری کرسکتی ہے ، خوابوں کو تعبیردے سکتی ہے ،لیکن یہ ضروری نہیں آپ کو خوشی بھی دے سکے ۔۔۔میں نے جھگیوں میں ہنستے ہوئے ، جشن مناتے ہوئے ، قہقہے لگاتے ہوئے لوگ دیکھے ہیں، میں نے ٹوٹی ہوئی چھتوں کے نیچے ایسی مسکراہٹیں دیکھی ہیں جو کسی محل کی دیواروں سے زیادہ مضبوط تھیں۔ میں نے ننگے پاؤں چلنے والوں کو زندگی پر فخر کرتے دیکھا ہے ، جن کے پاس شاید کل کی ضمانت نہ تھی، مگرآج کی خوشی پوری تھی۔ میں نے ان جھگیوں میں ماؤں کو بچوں کے ساتھ ہنستے دیکھا ہے ، جہاں خالی برتن بھی کہانیوں سے بھرے ہوتے ہیں، جہاں ایک روٹی کئی حصوں میں بٹتی ہے مگر دل کبھی خالی نہیں ہوتے ۔ جہاں بجلی چلی جائے تو لوگ شکایت نہیں کرتے ، چاندنی میں بیٹھ کر خواب بانٹ لیتے ہیں، جہاں غریبی صرف جیب میں ہوتی ہے ، نگاہوں میں نہیں۔۔۔ اور میں نے محلات میں ایسے لوگ دیکھے ہیں، جو ہنسنا بھول گئے ہیں، جن کے کمروں میں قیمتی قالین تو ہیں مگر قدموں میں زندگی کی حرارت نہیں۔ جن کے فریج بھرے ہوتے ہیں مگر دل خالی۔ جن کے فون مسلسل بجتے ہیں مگر کوئی ایسا نہیں ہوتا جو واقعی حال پوچھے ۔ میں نے سونے کے بستروں پر بے خواب آنکھیں دیکھی ہیں، ایسی آنکھیں جو سکون کے لیے گولیاں نگلتی ہیں۔ میں نے شیشے کے محلوں میں ایسے چہرے دیکھے ہیں جو ہر وقت مسکرانے کی مشق کرتے ہیں تاکہ دنیا کو معلوم نہ ہو کہ اندر سب کچھ بکھر چکا ہے ۔ میں نے جھگیوں میں لوگوں کو بارش میں ناچتے دیکھا ہے ، اور محلات میں لوگوں کو بوندوں سے گھبراتے دیکھا ہے ۔ میں نے غریب کو چائے پر دوست بلاتے دیکھا ہے ، اور امیر کو دعوتوں میں بھی اکیلا پایا ہے ۔ فرق دیواروں کا نہیں تھا، فرق دلوں کا تھا۔ کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں غربت شرمندہ ہو جاتی ہے ، اور جہاں محبت نہیں ہوتی وہاں دولت بھی تنہا رہ جاتی ہے ۔ میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں،انسان کو دنیا نہیں توڑتی، انسان خود کو اُس دن توڑ دیتا ہے جب وہ اپنی قدر کسی اورکے ہاتھ میں دے دیتا ہے ۔ بس۔۔۔۔۔ اپنے جذبات کی کمزوری کے سامنے جھکنے سے بچو، سخت اور مضبوط بنو، خود کو تنہائی اور صدمات کا عادی بناؤ تاکہ شکست کا احساس نہ ہو۔
٭٭٭