... loading ...
محمد آصف
عالمی سیاست میں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے ، مگر اکیسویں صدی میں یہ کشمکش نئی شکلوں میں سامنے آئی ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور ان کے پیش کردہ مختلف امن منصوبے یا جسے بعض مبصرین ٹرمپ پیس بورڈ کا نام دیتے ہیں، عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنے ۔ اس تصور کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امریکہ اپنی طاقت، معاشی اثر و رسوخ اور سفارتی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تنازعات کو اپنے مفادات کے مطابق حل کروائے ۔ تاہم روس اور چین جیسے بڑے عالمی طاقتیں اس حکمتِ عملی کو کس زاویے سے دیکھتی ہیں، یہ سوال بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ اور تجزیہ کاروں کے لیے نہایت اہم ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نعرہ امریکہ فرسٹ تھا۔ اس سوچ کے تحت انہوں نے کئی بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کی، بعض سے علیحدگی اختیار کی اور اتحادی ممالک پر زیادہ مالی و دفاعی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں نیٹو، پیرس ماحولیاتی معاہدہ، ایران نیوکلیئر ڈیل اور عالمی تجارتی تنظیم جیسے فورمز پر امریکہ کا رویہ نسبتاً سخت اور خود مختار نظر آیا۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ کی جانب سے مختلف تنازعات کے حل کے لیے پیش کیے گئے منصوبے بھی سامنے آئے ، جن میں مشرقِ وسطیٰ کا امن منصوبہ اور شمالی کوریا سے مذاکرات شامل ہیں۔
اصطلاح پیس بورڈ دراصل ٹرمپ کے اس عمومی نظریے کی علامت ہے جس کے تحت وہ عالمی تنازعات کو ایک کاروباری معاہدے کی طرح دیکھتے تھے ۔ ان کے نزدیک امن ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں فریق کچھ نہ کچھ حاصل کریں، مگر اصل فائدہ امریکہ کے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کو ہو۔ اس سوچ میں طاقت کا توازن، پابندیاں، تجارتی دباؤ اور سفارتی مراعات مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔
روس، جو خود کو ایک بڑی عالمی طاقت اور امریکہ کے مقابل ایک متبادل قطب کے طور پر دیکھتا ہے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو ملا جلا ردِعمل دیتا رہا ہے ۔ ایک طرف ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ذاتی سطح پر نسبتاً بہتر تعلقات کی خبریں سامنے آئیں، تو دوسری طرف نیٹو کی توسیع، یوکرین کا تنازع اور پابندیوں کے معاملے پر دونوں ممالک آمنے سامنے رہے ۔
روس کے نزدیک ٹرمپ کا امن بورڈ دراصل امریکی بالادستی کو برقرار رکھنے کی ایک نئی شکل ہے ۔ روسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ امن کے نام پر ایسے معاہدے چاہتا ہے جن میں اس کے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دی جائے ، جبکہ دیگر طاقتوں کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے حق میں امریکی جھکاؤ اور یورپ میں نیٹو کی موجودگی روس کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے ۔ تاہم روس نے ٹرمپ کے اس رویے میں ایک موقع بھی دیکھا۔ چونکہ ٹرمپ عالمی اداروں پر کم اعتماد رکھتے تھے ، اس لیے روس نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس کی مثال اسلحہ کنٹرول معاہدوں پر بات چیت اور شام کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ محدود تعاون ہے ۔
چین، جو تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو زیادہ تر اسٹریٹجک مقابلے کی عینک سے دیکھتا ہے ۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہوئی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ بنا دیا۔ چین کے نزدیک ٹرمپ کا پیس بورڈ دراصل عالمی نظام میں امریکی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے ، جو چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہے ۔
چینی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ عالمی مسائل کا حل کثیرالجہتی تعاون (Multilateralism) کے ذریعے ہونا چاہیے ، نہ کہ کسی ایک طاقت کے دباؤ سے ۔ اسی لیے چین اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے پلیٹ فارمز کو فروغ دیتا ہے ، تاکہ عالمی سطح پر ایک متوازن اور مشترکہ نظام قائم ہو سکے ۔ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے ، خاص طور پر فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں، روس اور چین دونوں نے محتاط ردِعمل دیا۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی پائیدار امن کے لیے فریقین کی رضامندی اور اقوامِ
متحدہ کی قراردادوں کا احترام ضروری ہے ۔ روس اور چین نے اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ فیصلے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔
روس اور چین دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔ امریکہ کی جانب سے عالمی اداروں سے دوری نے روس اور چین کو موقع دیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھائیں۔ شام، افریقہ اور ایشیا کے مختلف خطوں میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جاتی ہے ۔
ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں کو متاثر کیا۔ روس نے اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید مضبوط کیا، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ روس اور چین دونوں سفارت کاری کو ایک طویل المدتی کھیل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کا انداز نسبتاً فوری نتائج پر مبنی تھا، جس میں طویل المدتی استحکام پر کم توجہ دی گئی۔ اسی لیے وہ امن پیس بورڈ کو ایک عارضی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں، جو حکومت کی تبدیلی کے ساتھ بدل سکتی ہے ۔ٹرمپ کا امن پیس بورڈ روس اور چین کے لیے ایک ایسا تصور ہے جس میں مواقع بھی ہیں اور خدشات بھی۔ روس اسے ایک طرف امریکی دباؤ کی علامت سمجھتا ہے ، تو دوسری طرف دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بھی دیکھتا ہے ۔ چین اسے عالمی نظام میں طاقت کی کشمکش کے تناظر میں پرکھتا ہے اور کثیرالجہتی تعاون پر زور دیتا ہے ۔
آخرکار، عالمی امن کا مستقبل اسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے جب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی ذمہ داریوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ روس، چین اور امریکہ کے درمیان مکالمہ، تعاون اور باہمی احترام ہی ایک متوازن اور پائیدار عالمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے ۔
٭٭٭