وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

پیر 02 فروری 2026 ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

محمد آصف

عالمی سیاست میں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے ، مگر اکیسویں صدی میں یہ کشمکش نئی شکلوں میں سامنے آئی ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور ان کے پیش کردہ مختلف امن منصوبے یا جسے بعض مبصرین ٹرمپ پیس بورڈ کا نام دیتے ہیں، عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنے ۔ اس تصور کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امریکہ اپنی طاقت، معاشی اثر و رسوخ اور سفارتی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تنازعات کو اپنے مفادات کے مطابق حل کروائے ۔ تاہم روس اور چین جیسے بڑے عالمی طاقتیں اس حکمتِ عملی کو کس زاویے سے دیکھتی ہیں، یہ سوال بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ اور تجزیہ کاروں کے لیے نہایت اہم ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نعرہ امریکہ فرسٹ تھا۔ اس سوچ کے تحت انہوں نے کئی بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کی، بعض سے علیحدگی اختیار کی اور اتحادی ممالک پر زیادہ مالی و دفاعی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں نیٹو، پیرس ماحولیاتی معاہدہ، ایران نیوکلیئر ڈیل اور عالمی تجارتی تنظیم جیسے فورمز پر امریکہ کا رویہ نسبتاً سخت اور خود مختار نظر آیا۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ کی جانب سے مختلف تنازعات کے حل کے لیے پیش کیے گئے منصوبے بھی سامنے آئے ، جن میں مشرقِ وسطیٰ کا امن منصوبہ اور شمالی کوریا سے مذاکرات شامل ہیں۔
اصطلاح پیس بورڈ دراصل ٹرمپ کے اس عمومی نظریے کی علامت ہے جس کے تحت وہ عالمی تنازعات کو ایک کاروباری معاہدے کی طرح دیکھتے تھے ۔ ان کے نزدیک امن ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں فریق کچھ نہ کچھ حاصل کریں، مگر اصل فائدہ امریکہ کے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کو ہو۔ اس سوچ میں طاقت کا توازن، پابندیاں، تجارتی دباؤ اور سفارتی مراعات مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔
روس، جو خود کو ایک بڑی عالمی طاقت اور امریکہ کے مقابل ایک متبادل قطب کے طور پر دیکھتا ہے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو ملا جلا ردِعمل دیتا رہا ہے ۔ ایک طرف ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ذاتی سطح پر نسبتاً بہتر تعلقات کی خبریں سامنے آئیں، تو دوسری طرف نیٹو کی توسیع، یوکرین کا تنازع اور پابندیوں کے معاملے پر دونوں ممالک آمنے سامنے رہے ۔
روس کے نزدیک ٹرمپ کا امن بورڈ دراصل امریکی بالادستی کو برقرار رکھنے کی ایک نئی شکل ہے ۔ روسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ امن کے نام پر ایسے معاہدے چاہتا ہے جن میں اس کے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دی جائے ، جبکہ دیگر طاقتوں کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے حق میں امریکی جھکاؤ اور یورپ میں نیٹو کی موجودگی روس کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے ۔ تاہم روس نے ٹرمپ کے اس رویے میں ایک موقع بھی دیکھا۔ چونکہ ٹرمپ عالمی اداروں پر کم اعتماد رکھتے تھے ، اس لیے روس نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس کی مثال اسلحہ کنٹرول معاہدوں پر بات چیت اور شام کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ محدود تعاون ہے ۔
چین، جو تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو زیادہ تر اسٹریٹجک مقابلے کی عینک سے دیکھتا ہے ۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہوئی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ بنا دیا۔ چین کے نزدیک ٹرمپ کا پیس بورڈ دراصل عالمی نظام میں امریکی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے ، جو چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہے ۔
چینی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ عالمی مسائل کا حل کثیرالجہتی تعاون (Multilateralism) کے ذریعے ہونا چاہیے ، نہ کہ کسی ایک طاقت کے دباؤ سے ۔ اسی لیے چین اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے پلیٹ فارمز کو فروغ دیتا ہے ، تاکہ عالمی سطح پر ایک متوازن اور مشترکہ نظام قائم ہو سکے ۔ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے ، خاص طور پر فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں، روس اور چین دونوں نے محتاط ردِعمل دیا۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی پائیدار امن کے لیے فریقین کی رضامندی اور اقوامِ
متحدہ کی قراردادوں کا احترام ضروری ہے ۔ روس اور چین نے اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ فیصلے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔
روس اور چین دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔ امریکہ کی جانب سے عالمی اداروں سے دوری نے روس اور چین کو موقع دیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھائیں۔ شام، افریقہ اور ایشیا کے مختلف خطوں میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جاتی ہے ۔
ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں کو متاثر کیا۔ روس نے اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید مضبوط کیا، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ روس اور چین دونوں سفارت کاری کو ایک طویل المدتی کھیل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کا انداز نسبتاً فوری نتائج پر مبنی تھا، جس میں طویل المدتی استحکام پر کم توجہ دی گئی۔ اسی لیے وہ امن پیس بورڈ کو ایک عارضی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں، جو حکومت کی تبدیلی کے ساتھ بدل سکتی ہے ۔ٹرمپ کا امن پیس بورڈ روس اور چین کے لیے ایک ایسا تصور ہے جس میں مواقع بھی ہیں اور خدشات بھی۔ روس اسے ایک طرف امریکی دباؤ کی علامت سمجھتا ہے ، تو دوسری طرف دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بھی دیکھتا ہے ۔ چین اسے عالمی نظام میں طاقت کی کشمکش کے تناظر میں پرکھتا ہے اور کثیرالجہتی تعاون پر زور دیتا ہے ۔
آخرکار، عالمی امن کا مستقبل اسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے جب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی ذمہ داریوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ روس، چین اور امریکہ کے درمیان مکالمہ، تعاون اور باہمی احترام ہی ایک متوازن اور پائیدار عالمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر