... loading ...
ریاض احمدچودھری
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا امریکا بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں اورحملوں کی شدید مذمت کرتا ہے،جن کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو امریکہ کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیرملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔پاکستانی عوام حق رکھتے ہیں کہ وہ تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں۔اس سے قبل بھی کالعدم بی ایل اے نے تربت میں ایک مسافر بس پر حملہ کیا جس میں کئی معصوم شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس حملے سے یہ ثابت ہوتا ہے دہشتگرد تنظیم بی ایل اے اپنے مذموم مقاصد کیلئے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہے، ایک جانب بی ایل اے خود کو بلوچ عوام کے حقوق کا علمبردار قرار دیتی ہے دوسری جانب ان معصوم بلوچوں کی جان کی بھی دشمن ہے۔ یہ حملہ بی ایل اے کی منافقت کا کھلا ثبوت ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ان کی تربیت ہی معصوم لوگوں کی جان لینا ہے، بی ایل اے کی بلوچ عوام کیخلاف نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ایک سال میں 100 سے زائد معصوم بلوچ شہریوں کو شہید کیا۔
گزشتہ سال 9 نومبر کو بھی ایک خود کش حملے میں بی ایل اے نے 10 سے زائد معصوم بلوچ شہریوں کی جان لی، بی ایل اے عوام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کے خلاف بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ان کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔ بی ایل اے بیرونی طاقتوں، خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی ایجنسی موساد اور مغربی قوتوں کا آلہ کار ہے، مکتی باہنی جیسی دہشتگرد حکمت عملی اپنانا بی ایل اے کی سازش کا حصہ ہے۔برطانیہ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے، برطانوی ہائی کمیشن کاکہنا ہے جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔برطانیہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ امن وسلامتی کے مشترکہ عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔سعودی عرب نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے بلوچستان میں دہشت گردوں کی پْرتشدد کارروائیوں پر تشویش ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے 11 اگست کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے عرف/اہم خودکش دہشت گردا سکواڈ، مجید بریگیڈ، کو خارجی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) کے طور پر نامزد کیا۔ یہ اقدام امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری— جس کا نقطہ عروج جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک نجی ملاقات کی صورت ہوا، اور کرپٹو کرنسی سے لے کر تجارت، اہم معدنیات و توانائی اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی بد ترہوتی صورتحال، جو کہ پاکستان کا معدنیات سے مالا مال مگرسب سے زیادہ محروم صوبہ ہے، سمیت ہر امر پر مشتمل معاملت داری، دونوں کے نتیجے میں اْٹھایا گیا۔
درحقیقت بلوچستان کی صوبائی وزارتِ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) کی وسطِ سال کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صوبے بھر میں تشدد سال 2025 کے پہلے نصف میں 45 فیصد بڑھ گیا ہے، جس میں شورشی حملے، قتل بہدف (ٹارگٹڈ کلنگز) اور بم دھماکوں کے واقعات شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں بی ایل اے نے پاکستان میں سب سے زیادہ دیدہ دلیری سے حملے کیے ہیں، جن میں مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس ٹرین کی بے مثال ہائی جیکنگ بھی شامل ہے، جس میں 30 سے زائد شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔واشنگٹن کی جانب سے بی ایل اے کی بطورایف ٹی او نامزدگی پاکستان کے دیرینہ سیاسی مطالبات میں سے ایک کو پورا کرتی ہے اور اس طرح یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی وسیاسی کامیابی ہے جو ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی کو بھی مضبوط کر سکتی ہے۔ تاہم ایف ٹی او کی نامزدگیوں کی تاریخ اور بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے مخصوص عوامل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ (محض) یہ نامزدگی بی ایل اے کو نمایاں طور پر کمزور کرنے یا اسے ختم کرنے کے لیے کافی نہیں جب تک کہ انتظام و انصرام میں دیگر تبدیلیاں (بھی) نہ لائی جائیں۔
پاکستان کے لیے بی ایل اے اور مجیدبریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان خود ”دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط فصیل” کے طور پر کام کر رہا ہے اور پاکستان کے اس دعوے کی توثیق کرتا ہے کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو بلوچ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے لڑنے کے بجائے خوف و ہراس اور انتشارپھیلاتی ہے۔ریاست کا طویل عرصے سے یہ موقف ہے کہ بی ایل اے پروپیگنڈا اور نوجوانان کی انتہاپسندی اور بیرونی طاقتوں کی مبینہ حمایت پر فروغ پاتی ہے۔ بلوچستان میں جارحیت پسندانہ تشدد میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر پاکستان اس گروپ کی مقامی جڑیں رکھنے کے دعوے کو کمزور کرنے اور اس کے خلاف حرکی کارروائیاں کرنے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ نامزدگی ممکنہ طور پر امریکہـپاکستان تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے مذہبی بنیاد پرست دہشت گرد انتہاپسند گروپوں کا مقابلہ کرنے کے دائرہ کار سے آگے بڑھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
٭٭٭