وجود

... loading ...

وجود

انقلاب کی پہلی شرط

اتوار 01 فروری 2026 انقلاب کی پہلی شرط

بے لگام / ستار چوہدری

کیا تم نے کبھی،اپنی ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خود سے کہا ہے ، تم ناکام ہو۔۔۔؟ کیا کبھی تم نے اپنے اندر کے جھوٹے دلاسے نوچ کر پھینکے ۔۔۔؟ کیا کبھی اپنی ہی روح کے گریبان پرہاتھ ڈالا۔۔۔؟ اگر نہیں۔۔۔ تو افسوس کرو۔۔۔۔ اس لیے نہیں کہ تم برے ہو، بلکہ اس لیے کہ تم نے خود کو کبھی سچ نہیں بتایا۔ انسان کی آدھی پریشانیاں اس دن مر جاتی ہیں، جس دن وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے ۔
ہم دوسروں کو گالیاں دیتے ہیں، حکومت کو، دفتر کو، سماج کو، قسمت کو، لیکن کبھی اپنے اندر کے کاہل، ڈرپوک، مفاد پرست انسان کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کرتے ۔۔۔ ذرا سچ سے جواب دو، کیا تمہاری کمپنی، تمہاری فیکٹری، تمہارا دفتر تمہارے لیے راتوں کو بے چین رہا۔۔۔؟ کیا کسی ایڈمن، کسی منیجر، کسی مالک نے تمہاری پریشانی کو اپنی ذاتی فکر بنایا۔۔۔؟ کیا تمہاری یونین کے لیڈر نے تمہارے بچوں کی فیس کی فکر کی۔۔۔۔؟ کیا تمہاری بے روزگاری میں کسی نے اپنا رشتہ، اپنا اثر، اپنا وقت تمہارے لیے داؤ پر لگایا۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ لیکن تم ۔۔۔؟ تم نے اپنا وقت، اپنی توانائی، اپنی جوانی، اپنی نیند، ان سب کے لیے قربان کر دی۔۔۔ تم نے سوچا تم اہم ہو، حالانکہ سچ یہ ہے ، تم صرف استعمال کے قابل ہو۔ تمہاری قدر اس دن تک ہے جب تک تم کسی کے مقصد میں فِٹ ہو۔ دفتر میں تم فائل ہو، یونین میں تم نعرہ ہو، سیاست میں تم ووٹ ہو، دوستی میں تم وقت ہو، اور رشتوں میں تم ایک نام ۔ تم انسان نہیں ۔۔۔ تم سہولت ہو۔۔۔ اور سہولت خراب ہو جائے تو بدل دی جاتی ہے ۔تم سمجھتے ہو تم کسی کے لیے لڑ رہے ہو۔۔۔؟ نہیں دوست۔۔۔ تم کسی کے لیے نہیں، کسی کے فائدے کے لیے لڑ رہے ہو۔ تم جس لیڈر کے پوسٹر اٹھاتے ہو، وہ تمہاری غربت کو اپنی سیڑھی بناتا ہے ۔ تم جس یونین کے لیے چیختے ہو، وہ تمہارے نام پر سودے کرتا ہے ۔ تم جس دوست کے لیے لڑتے ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر چڑھ کر آگے نکل جاتا ہے ۔۔۔ اور جب تم گرتے ہو۔۔۔؟ تو تمہارا نام ان کی یادداشت سے بھی گر جاتا ہے ۔
تم کہتے ہو، ملک کے حالات خراب ہیں، سچ یہ ہے ، ملک کے حالات تم نے خراب نہیں کیے ، لیکن، انہیں ٹھیک کرنے کی طاقت بھی تمہارے پاس نہیں۔ تو پھر یہ جلنا، یہ گھٹنا، یہ لڑنا، یہ ساری دنیا کا بوجھ ، اپنی روح پر کیوں اٹھانا۔۔۔؟ جس دن تم نے یہ سیکھ لیا کہ تم ذمہ دار نہیں ہو، ہر بربادی کے ، اس دن تمہاری چالیس فیصد تکلیف خود بخود مر جائے گی۔۔۔ اور جس دن تم نے یہ مان لیا کہ یہ دنیا کسی کے لیے
نہیں رُکتی، اس دن تم آزاد ہو جاؤ گے ، زندگی تماشا ہے ۔۔۔ اور تم تماشائی ۔ اسٹیج پر جو ہیں، وہ اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، تم تالیاں بجاؤ یا خاموشی سے دیکھو، کھیل نہیں رکے گا۔ تو بہتر یہ ہے کہ اپنی سانس، اپنی محنت، اپنا وقت، اپنے لیے بچاؤ۔ کیونکہ آخرمیں تمہارے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہوگا، سوائے تمہارے اپنے ۔ایک دن، تم تھک جاؤ گے ، لوگوں سے نہیں، اپنی ہی بے وقعتی سے ۔اس دن تمہیں احساس ہوگا کہ تم نے اپنی زندگی دوسروں کے نعروں پر قربان کر دی۔۔۔ اورجب خاموشی آئی تو تمہارا نام کسی فہرست میں نہیں تھا۔ تم نے جو جھنڈے اٹھائے، وہ کسی اور کے اقتدار کی چھت بن گئے ۔ تم نے جو لڑائیاں لڑیں وہ کسی اور کی تنخواہ بڑھانے کا سبب بنیں ۔ تم نے جو قربانیاں دیں وہ کسی اور کی تصویر کے نیچے لکھ دی گئیں۔۔۔ اورتم۔۔۔؟ تم ایک فائل بن گئے ، جس پر لکھا تھا ” استعمال ہو چکا ہے ”۔۔۔ لیکن یہ وہ لمحہ ہے ، جہاں کہانی ختم نہیں ہوتی ، یہ وہ جگہ ہے ، جہاں انسان خود کو واپس لیتا ہے ، جس دن تم نے کہنا سیکھ لیا ” نہیں۔۔۔ اب نہیں ” اس دن تم آزاد ہو۔ ناں، دفتر کے خلاف، ناں، حکومت کے خلاف، ناں، دنیا کے خلاف، بلکہ اپنی غلامی کے خلاف ۔ تم کام کرو، لیکن خود کو بیچو نہیں۔ تم بولو، لیکن کسی کی زبان نہ بنو۔ لیکن اپنی عزت گروی نہ رکھو۔ سیکھ لو، کہ ہر تالیاں بجانے والا تمہارا نہیں ہوتا۔۔۔ اور ہر نعرہ لگانے والا، تمہارا ساتھی نہیں ہوتا۔ اصل بغاوت سڑک پر نہیں ہوتی، اصل بغاوت، اندر ہوتی ہے ۔ وہ دن، جب تم اپنی محنت کا مالک بن جاؤ، اپنے وقت کا وارث بن جاؤ، اپنی خاموشی کا حاکم بن جاؤ، وہی دن تمہاری زندگی کا پہلا دن ہے ۔ اس سے پہلے تم زندہ نہیں تھے ۔ تم صرف کسی اور کے خواب میں استعمال ہو رہے تھے ۔آخرکار، انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ دنیا کسی کے دکھ پر نہیں رُکتی اور اقتدار کسی کی قربانی کا شکر گزار نہیں ہوتا۔ تم اگر ٹوٹتے ہو تو صرف تمہاری ہڈیاں ٹوٹتی ہیں، نظام سلامت رہتا ہے ۔ تم اگر چپ ہو جاتے ہو تو صرف تمہاری آواز مرتی ہے ، تماشا چلتا رہتا ہے ۔ یہ جو تم ہر وقت لوگوں کے لیے جلتے ہو، قوم کے لیے گھلتے ہو، لیڈروں کے لیے لڑتے ہو، کیا کبھی کسی نے ، تمہاری تھکن کا سوگ منایا۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان نہیں، صرف استعمال کی چیزیں ہوتی ہیں۔۔۔ اور سب سے زیادہ استعمال اچھے ، خاموش، وفادار لوگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا۔۔۔ اب وقت ہے کہ تم اپنی زندگی واپس لو۔ اپنے خواب، اپنی سانس، اپنی مسکراہٹ واپس لو۔ کیونکہ، اگر تم نے خود کو نہ بچایا تو کوئی نظام، کوئی لیڈر، کوئی نعرہ تمہیں نہیں بچائے گا، یہی ہے انقلاب کی پہلی شرط، انسان اپنا ہونا قبول کرلے۔
٭٭٭

 


متعلقہ خبریں


مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر