... loading ...
بے لگام/ ستارچوہدری
ریاست جب خود کو ”ماں” کہنے لگے اورشہری کو بچہ، تو پھرلاڈ اورسزا میں فرق مٹ جاتا ہے ، ہرسختی خیرخواہی بن جاتی ہے ، ہرسوال نافرمانی ۔ ۔ ۔ ایسے میں ”ظلم” کا لفظ غیرضروری ہوجاتا ہے ، کیونکہ سب کچھ ”بہتری ” کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ،کچھ عہد ایسے ہوتے ہیں جہاں ریاست آواز میں بات نہیں کرتی، وہ فضا بدل دیتی ہے ، ہوا میں ایک انجانا سا دباؤ آجاتا ہے ، جیسے سانس لینے سے پہلے اجازت درکار ہو۔ کسی حکم کا اعلان نہیں ہوتا، مگرسب جان لیتے ہیں کہ حد کہاں ختم ہوتی ہے ۔۔۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اقتدارخود کو قانون نہیں، موسم سمجھنے لگتا ہے ۔۔۔ دروازے بند نہیں کیے جاتے ، بس بھاری ہوجاتے ہیں۔۔۔ سڑکیں سنسان نہیں ہوتیں، مگرقدم گنتی میں پڑجاتے ہیں۔۔۔عدد بورڈوں پرچمکتے ہیں، اتنے بڑے کہ آنکھ جھک جائے ۔ ریاست کہتی ہے یہ ترتیب ہے ، مگردراصل یہ یاد دہانی ہے کہ اختیار دکھائی نہ دے تب بھی محسوس ہونا چاہیے ۔۔۔کہیں سوال کھڑا ہو تواس کے گرد خاموشی باندھ دی جاتی ہے ،خاموشی ایک نفیس ہتھیارہے ، یہ خون نہیں مانگتی، صرف جھکاؤ چاہتی ہے ۔ ماں،بیٹی کراچی کی سیوریج لائن میں گرکرمرجاتیں توقیامت آجاتی،چوبیس گھنٹے میڈیا لائیو نشریات چلاتا، پروگرامز ہوتے ،پریس کانفرنسیں ہوتیں،لیکن یہ پنجاب ہے اوراوپرسے لاہور، ”شاہی خاندان” کا ” جاتی امراء ”۔۔۔ ”شہزادی ایلزبتھ باتھوری ” کو ”رحم ” آگیا،خاتون کے شوہراوراس کے بھائیوں کو رہا کردیا گیا۔۔۔ورنہ۔۔۔مقتول خود گرا تھا خنجرکی نوک پر۔۔۔۔ایک ”چالاک کنیزہ ” نے توخبرکو ہی جعلی قراردے دیا تھا۔۔۔ اتنا ضرور ہوا مرنے والوں نے اپنی جان دے کر ”سسٹم” کو ننگا کر دیا۔۔۔حالانکہ وہ پہلے ہی ننگا تھا،بس دیکھنے والوں کی آنکھوں پر”پٹی” بندھی ہوئی ہے ۔۔۔ابھی تو چھ،سات،آٹھ فروی آنا ہے ،کسی ”ایک” کے کلیجے میں ٹھنڈ ڈالنے کیلئے دوکروڑ آبادی کوسولی پر لٹکا دیا گیا۔۔۔ رانا کہتا ہے لاہور دو کروڑ آبادی کا شہر ،صرف ہزار تین ہزار لوگ پتنگیں اڑائیں گے ، کیا تین ہزار کی خاطر دو کروڑ آبادی کے ساتھ ”خونی کھیل ” کھیلا جائے گا۔۔۔؟۔۔۔
یہ بسنت نہیں،حکومتی بے حسی ہے ،اللہ نہ کرے ،لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے رنگین آسمان کے نیچے کسی کی گردن نہ کٹے ۔۔۔؟ کیاریاست نے انسانی جان کو ایک قابل برداشت نقصان مان لیا ہے ۔۔۔؟بادشاہ ایسا ہی کرتے ہیں ، ایمرجنسی لگاتے وقت اندرا گاندھی نے یہ منطق دی تھی ،کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ یہ سب ظلم نہیں کہلائے گا، کیونکہ ظلم مان لینے کے لیے ضمیر چاہیے ہوتا ہے ۔ یہ سفاکیت ہے ۔ وہ کیفیت جہاں اقتدار خود کو جواب دہ نہیں سمجھتا، صرف درست سمجھتا ہے ۔ ”شہزادی ایلزبتھ باتھوری ”،اندرا گاندھی تونہیں، مگر ان کی حکمرانی کا لہجہ وہی ہے ،یقین سے بھرا ہوا، سوال سے خائف، اور طاقت پر نازاں۔ ریاست جب خود کو عوام سے بڑا سمجھنے لگے تو وہ آہستہ آہستہ اندھی ہو جاتی ہے ۔ اسے لاشیں نظر نہیں آتیں، آنسو نظر نہیں آتے ، صرف اپنی اتھارٹی نظر آتی ہے ۔ تاریخ ایسی ریاستوں کے ساتھ بہت صبر نہیں کرتی۔ وہ پہلے خاموش رہتی ہے ، پھر ایک دن صرف ایک جملہ لکھتی ہے ۔۔۔یہاں اختیار بے لگام ہو گیا تھا۔۔۔اور جب اختیار بے لگام ہو جائے ۔۔۔ تو پھر گھوڑا نہیں دوڑتا۔۔۔ لاشیں گرتی ہیں۔ ہماری ریاست آئین نہیں پڑھتی، اپنے سائے کو دیکھ کر مطمئن ہو جاتی ہے ۔ اسے لگتا ہے جب سایہ بڑا ہو جائے تو سب کچھ درست ہے ، حالانکہ سایہ صرف اس وقت بڑا ہوتا ہے جب روشنی پیچھے رہ جائے ۔ ہمارے ہاں اس وقت روشنی پیچھے ہے اور سایہ آگے ۔ فیصلے اعلان نہیں ہوتے ، اشارہ بن جاتے ہیں، اور اشاروں میں چلنے والی حکومتیں خود کو قانون سے زیادہ فطری سمجھنے لگتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ریاست خود کو آئین میں نہیں، آئین ریاست میں دیکھنے لگتی ہے ۔ لفظ اپنی جگہ پر ہوتے ہیں مگر معنی آہستہ آہستہ کھسک جاتے ہیں۔ دیواروں پر کچھ نیا نہیں لکھا جاتا، بس پرانے جملے موٹے حروف میں ابھر آتے ہیں۔ لوگ پڑھتے نہیں، مان لیتے ہیں۔ یہ سب کسی غصے میں نہیں ہوتا، یہ سب اعتماد میں ہوتا ہے ۔ وہ اعتماد جو اقتدار کو آئینہ دکھانے سے روکتا ہے ۔۔۔ قانون جب ترازو چھوڑ کر ترازو بننے لگے تو وزن نیت سے نہیں، حیثیت سے تولا جاتا ہے ۔ ایک ہی اصول ایک کے لیے نصیحت ہوتا ہے اور دوسرے کے لیے سزا۔ عدد اتنے بڑے کر دیے جاتے ہیں کہ خوف خود بخود پیدا ہو جائے ۔ ریاست اسے نظم کہتی ہے ، مگر اصل میں یہ اطاعت کی مشق ہوتی ہے ۔۔۔بڑے صاحب کا ہرکارہ بھاگتا ہانپتا ان کے پاس پہنچا، بتایا صاحب بھارت اور یورپ آج مدر آف ڈیلز سائن کررہے ہیں۔ اب ہم کیا کریں؟بڑے صاحب نے گہری سانس لی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کرسی سے اُٹھے ،بولے ، بسنت کب ہے ؟ہرکارہ بولا بس کچھ ہی دن میں۔۔صاحب :زبردست ،بس خیال رکھنا کہ کہیں بھی۔۔۔”نک دا کوکا ”۔۔۔۔نہ چلنے پائے ۔ریاست جب خود کو ”ماں”کہنے لگے اورشہری کو بچہ، تو پھرلاڈ اورسزا میں فرق مٹ جاتا ہے ، ہرسختی خیرخواہی بن جاتی ہے ، ہرسوال نافرمانی۔۔۔ایسے میں ”ظلم” کا لفظ غیرضروری ہوجاتا ہے ، کیونکہ سب کچھ ” بہتری ” کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔۔۔ یہ تحریر کسی نام کو نہیں پکارتی۔ نام تو وقت خود لکھتا ہے ۔ یہ تحریر صرف ایک کیفیت کو محفوظ کر رہی ہے ،وہ کیفیت جہاں اختیار آہستہ آہستہ لگام چھوڑ دیتا ہے ، اور گھوڑا راستہ نہیں دیکھتا، صرف رفتار پہچانتا ہے ۔اور جب رفتار ہی مقصد بن جائے تو منزل غیر ضروری ہو جاتی ہے پھر تاریخ صرف یہ لکھتی ہے کہ یہاںاقتدار چل رہا تھااور لوگاس کے نیچے سانس لے رہے تھے ۔
٭٭٭