... loading ...
ب نقاب /ایم آر ملک
سیاسیات، معاشیات اور سماجیات میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ “افراد اہم نہیں بلکہ ادارے اہم ہیں”۔ یہ نظریہ مستحکم قوانین، روایات اور تنظیموں کو طویل مدتی معاشرتی کامیابی کی کلید قرار دیتا ہے۔ لیکن تاریخ ایسے استثنیٰ بھی پیش کرتی ہے جب کوئی واحد فرد اپنی لگن، دیانتداری اور جرأت مندی سے نہ صرف اداروں کی کایا پلٹ دیتا ہے بلکہ عوام کے دل و دماغ میں اپنے لیے اعتماد اور احترام کی ایسی اینٹیں رکھ دیتا ہے جو زمانے کی آزمائشوں میں کھڑی رہتی ہیں۔ ملک مبشر احمد خان اسی نادر الوجود استثنا کا نام ہے۔
نفسیات انسانوں کے رویہ کا سائنسی مطالعہ ہے ،نفسیات میں احساسات اور خیالات سمیت شعوری مظاہر کا مطالعہ کرنا شامل ہوتا ہے ،اگر آپ لکھاری ہیں ،صحافی ہیں ،معاشرے کی آنکھ کے تصور پر پورا اترتے ہیں ،تو شخصیات کی نفسیات کا کھوج لگائیں آپ کسی بھی شخصیت کی نفسیات سمجھ کر اس کا احاطہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔میں اکثر بطور قلم کار شخصیات کی نفسیات پر لکھتا ہوں ،اس روز مجھے ایک ایسا بوڑھا قیدی ملا تھا جس نے سابق آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان کی شخصیت کا اپنے الفاظ میں احاطہ کیا تو مجھے لکھنا پڑا ، مجھے اس بوڑھے کے الفاظ کو اپنے الفاظ کی زباں دینا پڑی کہ کچھ شخصیتیں کھلی کھڑکی کی طرح ہوتی ہیں۔ کھلتی ہیں تو محبس کو راستہ ملتا ہے۔ اندر کے اندھیرے کو باہر نکال پھینکتی ہیں۔ روشنی ، ہوا اور تازگی کا وسیلہ بنتی ہیں۔ آکسیجن بن کے سانس کی نالی میں جینے کی سانسیں انڈیلتی ہیں۔ ‘جب تک سانس تب تک آس’ کے مصداق آپ کو زندگی ، امید ، خواب اور کچھ کر گزرنے کی دھن میں سوار کر دیتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں جو ملتے ہی آپ کو اپنے ہونے کا احساس دلائیں ۔ پناہ دے دیں۔ سنبھال لیں۔ آپ کا خیال کریں۔ یخ سردیوں میں آپ سے پوچھیں سردی تو نہیں لگ رہی۔ سردی لگے تو آپ کا لحاف بن جایئں۔ راکھ کرتی گرمیوں میں آپ کو جلتا دیکھیں تو آپ پر سایہ بن جائیں ۔ننگے فرش پر بیٹھ کر کسی قیدی کے دکھ کو شیئر کریں ، اسے اپنائیت کا انمول احساس دلائیں ،قیدی عورتوں اور نوعمر بچوں کے سر پر دست ِ شفقت رکھیں ،زیر سایہ اہلکاروں کو مشفق ہونے کا احساس دلائیں ،ایسی شخصیتیں مقناطیسی کشش رکھتی ہیں۔ کھینچتی ہیں۔ جو آپ کو آگے بڑھنے، کچھ کر گزرنے پہ مجبور کرتی ہیں۔ ان سے مل کر قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے۔ عزم جلا پاتا ہے۔ ارادہ پختگی محسوس کرتا ہے۔ایسی شخصیتیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہوتی ہیں۔ کول کول ، سویٹ سویٹ ۔ مزاج اور برتائو میں اپنی عظمت کا احساس دلانے والی ۔ معتدل ۔ یہی اعتدال انہیں معتبر کرتا ہے۔ انہیں با اعتماد با اخلاق ، با کردار کرتا ہے دوستوں میں ، اپنوں میں ، غیروں میں ، افسروں میں ، ملازموں میں ، رشتہ داروں میں۔ بڑوں میں ، چھوٹوں میں۔
ایسی شخصیتیں ہمیشہ اپنے کام اور میرٹ پسندی سے عوامی پذیرائی میں کامران ٹھہرتی ہیں ، اپنے محکمہ اور ہیڈز کا اعتماد ، ماتحتوں کو عزت دے کر ان کا اخلاص ، کمیونٹی اور دوستوں کو اپنی بے لوث وفائیں دے کر ان کے دل جیتنے کا فن جانتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں تخلیقی ہوتی ہیں۔ انو ویٹوو۔ انسپائرنگ اور مثالی۔ جس شعبہ میں بھی کام کریں شعبہ کی جدت ، ترقی اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ ان کے شعبہ میں آپ پہلا قدم رکھیں ادارہ نظر آتا ہے۔ دکھتا ہے۔ ملک مبشر احمد خان نے انتہائی قلیل عرصہ بطور آئی جی جیل خانہ جات کام کیا تو اپنے کام میں یکتانظر آئے اور یہ کہنا پڑتا ہے کہ” آیا نہ تیرے بعد کوئی” ۔مجھے اس بوڑھے قیدی کے الفاظ نہیں بھولتے کہ اخلاص میںان کا کوئی ثانی نہیں۔
ملک مبشر احمد خان جیسے آفیسر اپنے شعبہ جات کے ٹرینڈ سیٹرہوتے ہیں۔ رول ماڈل ہوتے ہیں۔ ان کو مرا مٹا ہوا کوئی شعبہ دے دو اگلے چند ماہ میں ایک وزٹ میں آپ کو وہ ادارہ ملکی اور غیر ملکی اداروں کے ہم پلہ نظر آئے گا۔ لوگوں کا رش ہو گا۔ اعتماد اور اخلاص کی خوشبو ہو گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ادارے میں سچے دل اور آہنی ارادے والے لوگ آئے ہیں، بطور آئی جی جیل خانہ جات انتہائی قلیل وقت انہیں ملا ،انہوں نے ابتدائی طور پر محکمہ جیل خانہ جات میں اصلاحات کیلئے جو قدم اُٹھایااسے اُس وقت معمول کا منصوبہ سمجھا گیا۔ لیکنوقت نے ان کی اصلاحات کا مطالعہ کرنے والوں کی آنکھیں کھول دیں ، کیونکہ ملک مبشر احمد خان کی قیادت میں ایک ایسی غیرمتزلزل کارروائی کا آغاز ہوا جس نے پنجاب کی تاریخ کے اوراق ہی بدل دیے: ایسی شخصیتیں منظور نظر ٹھہرتی ہیں ۔ کرہ ارض کے ہر ذی شعور کی۔ ایسی شخصیتیں اصولوں اور ضابطوں کی پاسداری کرکے ضمیر کی قیدی ہوتی ہیںاور ضمیر کاقیدی ہونا بہت بڑی بات ہے،وہ ضابطہ قانون اور ضابطہ اخلاق و حیات کی پاسدار ہوتی ہیں۔ جنہیں اپنے پیشہ سے لگائو، اخلاص ، کمنٹمنٹ، احساس ذمہ داری ، ایمان داری ، فرض شناسی اور اعلی ظرفی، نیک نیتی ، بردباری ، ایثار اور صلہ رحمی اپنی قابل رشک وراثت میں ملی ہووہ اپنے پورے ملک اور اپنے شعبہ کے لئے مایہ ناز ہوتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں شجر سایہ دار ہوتی ہیں۔ درخت کی طرح خود کڑی دھوپ میں جل کر بھی سایہ مہیا کرتی ہیں۔ راحت کا سبب بنتی ہیں۔ انتہائی محترم و مکرم ، نیک، قابل رشک میراث ،حقیقی آبرو مند ، آفیسرملک مبشر احمد خان کی صورت فطرت نے زمین پر ایک انعام کی صورت اتارا ۔ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوں۔ ۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی رحمتیں جاری رکھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سفارش و مہربانی کے سائبان میں رکھے۔ آمین
٭٭٭