وجود

... loading ...

وجود

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بدھ 21 جنوری 2026 انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔

تھنکر مین ایک مشہور مجسمہ ہے جسے فرانسیسی مجسمہ ساز Auguste Rodin نے 1880ء میں تخلیق کیا۔ اس مجسمے میں ایک برہنہ مرد چٹان پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے جو گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے، اس کی ٹھوڑی اس کے ہاتھ پر ٹکی ہوئی ہے۔ یہ انداز انسانی فکر، غور و فکر اور وجودی سوالات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ مجسمہ روداں کے ایک بڑے منصوبے”گیٹس آف ہیل”کا حصہ تھا، جو دانتے کی مشہور کتاب”ڈیوائن کامیڈی”سے متاثر تھا۔اس مجسمے کا کردار اصل میں دانتے کی نمائندگی کرتا ہے، جو جہنم کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر انسانیت کے اعمال پر غور کر رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مجسمہ ایک الگ فن پارے کے طور پر مشہور ہو گیا اور دنیا بھر میں اس کی نقلیں بنائی گئیں۔ روداں کا تھنکر مین محض ایک مجسمہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی وہ منجمد چیخ ہے جو صدیوں سے تہذیبوں کے ضمیر میں گونج رہی ہے،یہ وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے ہی وجود کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے اور اپنے اعمال،اپنی تاریخ،اپنے خدا اور اپنے انجام پر سوال اٹھاتا ہے سوچ کوئی جدید ایجاد نہیں، یہ انسانی تاریخ کی سب سے پرانی اور سب سے خطرناک قوت ہے۔یہ وہ شے ہے جس نے غار کے انسان کو جانور سے الگ کیا اور یہی وہ شے ہے جس نے ہر دور میں طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
سوچ کا مطلب محض دماغ کا حرکت میں آ جانا نہیں ،سوچ کا مطلب ہے اپنے مانے ہوئے سچ پر شک کرنے کی جرأت اور یہی جرأت ہمیشہ انسان کو خوف میں مبتلا کرتی رہی ہے۔قبل از مسیح میں سقراط ایتھنز کی گلیوں میں یہی”خطرناک کام” کرتا تھا۔وہ سوال کرتا تھا۔وہ نوجوانوں سے پوچھتا تھا تم جو مانتے ہو، کیوں مانتے ہوایتھنز نے اسے”گمراہ کرنے والا” قرار دیا اور زہر کا پیالہ تھما دیا۔یہ تاریخ کا پہلا واضح پیغام تھاسوچ، طاقت کے لیے خطرہ ہے۔افلاطون نے لکھا کہ معاشرے اصل میں غار میں بند انسانوں کی طرح ہوتے ہیں،جو دیوار پر پڑتے سائے کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں،اور جو شخص انہیں مڑ کر اصل روشنی دکھائے،وہی سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔یہ تمثیل صرف فلسفہ نہیں، انسانی نفسیات کی تشریح ہے۔ انسان روشنی سے نہیں، روشنی کے بعد نظر آنے والی حقیقت سے ڈرتا ہے۔ارسطو نے کہا تھا کہ عقل انسان کا سب سے اعلیٰ ہتھیار ہے، مگر یہی ہتھیار اس کی سب سے بڑی آزمائش بھی ہے،کیونکہ عقل انسان کو ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ اور ذمہ داری، غلامی سے زیادہ مشکل ہوتی ہے۔قرونِ وسطیٰ میں چرچ نے سوچ پر پہرے بٹھا دیے۔گیلیلیو نے جب کہا کہ زمین نہیں، سورج مرکز میں ہے تو اسے خاموش کر دیا گیا۔کیونکہ ایک جملہ پوری مذہبی طاقت کے ڈھانچے کو ہلا سکتا تھا۔ سوچ یہاں بھی”خطرہ”ٹھہری۔نشاةِ ثانیہ میں انسان نے دوبارہ سوچنا شروع کیا اور یہی سوچ یورپ کو تاریکی سے نکال کر علم کی طرف لے گئی۔پرنٹنگ پریس آیا،کتاب عام ہوئی، اور طاقت پہلی بار کانپنے لگی۔نیٹشے نے اعلان کیا”خدا مر چکا ہے”اصل میں وہ یہ کہہ رہا تھااب انسان کو خود سوچنا ہوگااور یہی وہ لمحہ تھا جہاں انسان نے آزادی اور خوف ایک ساتھ محسوس کیے۔
جدید دور میں فرائڈ نے بتایا کہ انسان صرف باہر کے آقاؤں کا غلام نہیں،وہ اپنے اندر کے خوف، گناہ، اور خواہشات کا بھی قیدی ہے۔سوچ انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے اور یہی جھانکنا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ آج کے دور میں طاقت نے نیا لباس پہن لیا ہے ۔میڈیا، نصاب، مذہبی بیانیہ، اور ڈیجیٹل شور،سوچ اب بھی دشمن ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب قید خانے دیواروں کے نہیں، بیانیوں کے ہیں۔سوچ انسان کو آزاد کرتی ہے،اور آزادی انسان سے قیمت مانگتی ہے، ذمہ داری، تنہائی، اور سچ۔اسی لیے انسان سوچنے سے ڈرتا ہے۔کیونکہ سوچ انسان کو یہ دکھا دیتی ہے ،یہ کہ وہ جو ہے ،وہ دراصل وہ نہیں جو اسے بنایا گیا تھا۔یہ محض ایک نفسیاتی سوال نہیں، یہ ایک تہذیبی اعترافِ جرم ہے۔پاکستانی معاشرہ دراصل”سوچ”سے نہیں ڈرتا،وہ سوچ کے نتائج سے ڈرتا ہے۔ سوچ سوال پیدا کرتی ہے۔ سوال روایت کو ہلاتا ہے۔ روایت طاقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اور طاقت کو سب سے زیادہ وحشت بے نقاب ہونے سے ہوتی ہے۔ہم ایک ایسے سماج میں سانس لیتے ہیں جہاں رٹّا عبادت بن چکا ہے، اور سوال بدتمیزی۔جہاں بچے کو سب سے پہلے یہ نہیں سکھایا جاتا کہ”کیوں”بلکہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ”چپ رہو”۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک زندہ ذہن، آہستہ آہستہ ایک فرمانبردار ڈھانچے میں ڈھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ارسطو نے کہا تھاجو شخص سوال کرنا چھوڑ دے، وہ سچ تلاش کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ہم نے سوال چھوڑا، اور سچ بھی۔پھر سچ کے بغیر جو باقی بچا وہ اطاعت تھی اور اطاعت، سوچ کی دشمن ہوتی ہے۔ہمارے ہاں سوچ کو ہمیشہ خطرہ سمجھا گیاخاندان کے لیے،مذہب کے لیے،ریاست کے لیے،اور سب سے بڑھ کر”روایت”کے لیے۔ اس لیے سوچنے والے کو یا تو باغی کہا گیا، یا بدتہذیب، یا گمراہ، یا خاموش کر دیا گیا۔ نتیجہ ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو سمجھتی کم ہے، مانتی زیادہ ہے جو دلیل سے نہیں، ڈر سے جیتی ہے جو اپنی عقل پر نہیں، اپنی تقلید پر فخر کرتی ہے اور جس کے لیے سچ وہی ہوتا ہے جو”اوپر”سے آ جائے۔
نیٹشے نے کہا تھاجب سچ خطرناک ہو جائے، تو معاشرے جھوٹ کو مقدس بنا لیتے ہیں۔پاکستان میں جھوٹ مقدس ہے، کیونکہ سچ سوال پیدا کرتا ہے اور سوال زلزلہ ہوتا ہے۔اسی لیے یہاں سوچ کو دبایا جاتا ہے،کتاب کو خطرہ سمجھا جاتا ہے،اور سوال کرنے والے کو مسئلہ۔ ہم سوچ سے نہیں ڈرتے ہم اس دن سے ڈرتے ہیں جب سوچ ہمیں بتا دے گی کہ ہم کس قید میں زندہ ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر