وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں ہجومی تشدد

بدھ 21 جنوری 2026 بھارت میں ہجومی تشدد

ریاض احمدچودھری

بھارت بھر میں ہجومی تشدد، جبری تبدیلی مذہب، مذہبی مقامات کی تباہی اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتوں کو نفسیاتی، جسمانی اور معاشی ظلم و ستم برداشت کرنا پڑتاہے کیونکہ ہندو قوم پرست بیانیے کا مقصد ان کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مٹانا ہے۔مودی کے انتہاپسند ایجنڈے کے تحت مذہبی آزادی کے حوالے سے بھارت کے بگڑتے ہوئے ریکارڈ نے اسے یوم مذہب منانے کے لیے غیر موزوں بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی رہنما انسانی حقوق کی ان بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری کارروائی اور بھارت کو مذہبی اقلیتوں پر جاری حملوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے تحت مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر پسماندہ طبقوں پر مسلسل ظلم و ستم بھارت کے جمہوری اقدار اور زمینی حقائق کے درمیان کھلے تضاد کو واضح کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم رواداری سے نہ صرف بھارت کے سماجی تانے بانے کو خطرہ ہے بلکہ مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے عالمی چیلنج بھی ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت اقلیتوں کے حقوق کا علمبردار بننے کے قابل نہیں، کیونکہ وہ خود ان حقوق کی تسلسل سے خلاف ورزی کرتا آرہا ہے ، پاکستان میں ریاستی ادارے پالیسی کے طور پر اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔اس کے برعکس، بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اکثر واقعات حکمران جماعت کے بعض عناصر کی ایما پر یا حتیٰ کہ شمولیت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کو منظم طور پر ہوا دینے کے واقعات دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔امتیازی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) سے لے کر گھروں کو بلڈوز کرنے تک، 2002 کے گجرات قتل عام سے لے کر 2020 کے دہلی فسادات تک، 1992 میں بابری مسجد کے انہدام سے لے کر 2024 میں اس کے ملبے پر مندر کی تعمیر تک، گاؤ کے تحفظ کی آڑ میں تشدد اور پر ہجوم تشدد کے واقعات سے لے کر مساجد اور مزارات پر حملے بھارت کا ریکارڈ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں سے داغدار ہے ، دوسروں کے ہاں اقلیتوں کے حقوق کا ڈھونگ رچانے کے بجائے بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو دور کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی سلامتی، تحفظ اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے ، نیز ان کی عبادتگاہوں، ثقافتی ورثے اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔
بھارت کی ریاست اترپردیش کے میرٹھ کے لِسادری گیٹ پولیس اسٹیشن کے علاقے میں ایک مسلم خاندان کے 5 افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ مرنے والوں میں شوہر بیوی اور تین کمسن بچیاں شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ سہیل گارڈن میں پیش آیا جہاں قتل کے بعد نعشیں بوریوں میں باندھ کر کے بستر کے اندر چھپادی گئی تھیں۔ قتل کی اس اندوہناک واردات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، مقتولین میں شوہر معین، بیوی اسماء ، اور ان کی تین بیٹیاں، اقصیٰ (8)، عزیزہ (4) اور ادیبہ (1) شامل ہیں۔مقتول معین مستری کا کام کرتا تھا۔ اس واردات کا علم اس وقت ہوا جب معین کا بھائی سلیم، اپنی بیوی کے ساتھ پہنچا، دروازہ اندر سے بند تھا، دروازہ توڑا گیا تو لاشیں برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق قتل میں پتھر کاٹنے والی مشین کو استعمال کیا گیا ہے، مرنے والوں کے سروں پر گہری چوٹوں کے نشانات موجود ہیں، قتل کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی مزید تفصیلات کا علم ہوسکے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں اور محلے کے دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے، پڑوسیوں کے مطابق، کسی نے بھی متاثرہ خاندان کو نہ گھر سے باہر جاتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی گھر کے اندر کسی کو داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔پولیس نے کرائم برانچ، فورینسک ٹیم، اور ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، جبکہ گھر کے آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا جارہا ہے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت میں ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاندھی اور نہرو کے نظریات پر قائم ہونے والا ملک اب ”لنچستان”میں تبدیل ہو چکا ہے۔
بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع سمبل پور میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کی حالیہ لنچنگ اور اتراکھنڈ میں ایک قبائلی طالب علم اینجل چکما پر حملہ کے بعد ہلاکت پر ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں موجودہ ماحول خطرناک اور خوفناک ہے۔ لنچنگ اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جس سے قانون، انصاف اور انسانی اقدار کی تباہی ظاہر ہوتی ہے۔محبوبہ مفتی نے ایسے واقعات پر عوامی اور سیاسی ردعمل میں دوہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ جب ہمارے کچھ ہندو بھائیوں کو بنگلہ دیش میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار اور چیخ و پکار ہوتی ہے۔لیکن جب بھارت کے اندر لنچنگ جیسے واقعات ہوتے ہیں ، توسب خاموش ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش میں محمد اخلاق کی لنچنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس سے ہجومی تشدد کے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک نہیں رکا ہے۔اس نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہجومی تشدد اور نفرت پر مبنی تشدد کو معمول بنایا جا رہا ہے جبکہ قصورواروں کو استثنیٰ دیا جارہا ہے۔
گاندھی اور نہرو کا بھارت جو کبھی عدم تشدد، تکثیریت اور آئینی اقدار کے لیے کھڑا تھا، اب ایک لنچستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔پی ڈی پی سربراہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے جرائم پر مسلسل خاموشی اور بے عملی بھارت کو اخلاقی اور سماجی زوال کی طرف دھکیل دے گی، اس کے جمہوری تانے بانے کو نقصان پہنچائے گی اور اقلیتوں، پسماندہ طبقوںاور اختلافی آوازوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے گی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر