... loading ...
بے نقاب /ایم آر ملک
تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں اور معاہدوں کی فہرست نہیں بلکہ طاقت اور برابری کے درمیان جاری ایک دائمی کشمکش کا نام بھی ہے۔ کبھی اقتدار کو ”الٰہی حق” کا لبادہ اوڑھا کر عوام کو مخصوص سانچے میں ڈھالا گیا، تو کبھی عوام نے شعور کی مشعل اٹھا کر یہ تخت ہی الٹ دیے۔ یہی کشمکش انسانی تہذیب کی اصل روح ہے، جو ہر دور میں نئے روپ میں سامنے آتی رہی ہے۔ تھامس ہابز نے اپنی کتاب Leviathan میں ایک ایسی ہی مطلق العنان ریاست کا تصور پیش کیا جہاں حکمران خدا کا سایہ ہوتا ہے اور رعایا اس کے رحم و کرم پر۔ لیکن Enlightenment کے دور میں جان لاک اور روسو نے اس تصور کو چیلنج کیا اور Social Contract Theoryکی بنیاد رکھی، جس کے مطابق ریاست کا جواز عوام کی رضا مندی سے مشروط ہے، نہ کہ کسی آسمانی حکم سے۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر جدید جمہوریت کھڑی ہے۔ایک ایسا نظام جو مانتا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے، اس لیے اقتدار کسی ایک فرد یا طبقے کی جاگیر نہیں ہو سکتا۔جمہوریت میں قانون ایک سماجی یا عمرانی معاہدہ ہوتا ہے جو سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور اقتدار کا سرچشمہ عوامی ارادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، تھیوکریسی میں قانون کو ایسے ڈکٹیٹر کے حکم کا درجہ حاصل ہوتا ہے جو خود کو خدا کا نمائندہ قرار دے کر تنقید اور احتساب سے بالاتر سمجھتا ہے ۔ میکس ویبر نے اس تضاد کو روایتی اور کرشماتی اقتدار بمقابلہ قانونی و عقلی اتھارٹی کے تناظر میں بیان کیا، جہاں مذہبی یا روایتی اقتدار جدید قانونی نظام کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو 1973 کا آئین ایک طرف قراردادِ مقاصد کے ذریعے ریاست کو اسلامی شناخت دیتا ہے، تو دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق، مکمل اور کامل مذہبی آزادی اور مساوات کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہی دو متضاد دھارے ہماری ریاستی قانون سازی میں مسلسل کشمکش کا باعث بنتے رہے ہیں۔ انٹونیو گرامشی کے مطابق ریاست صرف جبر کا ٹول ہی نہیں بلکہ فکری غلبے کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں مذہب کو ریاستی بیانیے کا حصہ بنا کر ایک مخصوص طبقے کو مخصوص حوالے سے قانونی و اخلاقی برتری دی گئی، اور یہی وہ لمحہ تھا جب جمہوریت کی روح پر پہلا باقاعدہ وار ہوا۔1974 کی آئینی ترامیم، ضیاء الحق کے آرڈیننسز اور ازاں بعد عدالتی فیصلے ، ریاستی ڈھانچہ بہرطور وہی رہا، طاقتور کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے قانون کے نام پر فقط سختی۔ معروف پاکستانی سماجیاتی ماہر حمزہ علوی نے پاکستان کو ایک ”اوورڈیولپڈ اسٹیٹ” قرار دیا، جہاں ریاستی ادارے عوام کے بجائے کسی طاقتور اوربیوروکریٹک اشرافیہ کے مفادات کے محافظ ہیں۔ رابرٹ ڈال کی تھیوری Polyarchyکے مطابق جمہوریت کے لیے دو عناصر ضروری ہیں: شمولیت اور مقابلہ۔ پاکستان میں انتخابات تو ہوتے ہیں، نعرے بھی لگتے ہیں، جلسے بھی ہوتے ہیں، مگر شمولیت صرف ووٹ ڈالنے تک ہی محدود رہی ۔مگر اس بار عوام سے ان کا حق خود ارادیت بھی چھین لیا گیا ، عوام پالیسی سازی میںنظر ہی نہیں آتے، قانون سازی میں ان کی آواز کہاں؟بزور طاقت عدلیہ کا گلا گھونٹ دیا گیا تو پھر فیصلے کون کرتا ہے؟ وہی اشرافیہ جو کبھی وردی میں ہوتی ہے اور کبھی واسکٹ میں۔کبھی ظاہر تو کبھی بباطن۔جاری صورتحال کو بجا طور پر ”طبقاتی حکمرانی” کا نام دیا جاسکتا ہے ، ایسا نظام جہاںجعلی جمہوریت کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ، مگر روح غائب ہے؛ پارٹیاں ہیں، مگر کارکن نہیں؛ اسمبلیاں ہیں، مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں؛ عوام تماشائی، اشرافیہ اداکار اور طاقت کے مراکز نادیدہ۔ ایسے ماحول میں تاریخی حقیقت کے حوالے سے اگر کسی نے پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد رکھی تو وہ تاریخی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی ہی تھی۔ 1973 کا متفقہ آئین ہو یا ازاں بعد 18ویں ترمیم، پیپلز پارٹی نے وفاق کو مضبوط کیا، صوبوں کو خودمختاری دی، اور فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کر کے ایک تاریخی ناانصافی کا ازالہ کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ”برگزیدگی سے برابری” کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو ہمیں کچھ بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ آئین کی شق 25 کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنا ہوگا۔ نسبتاً امتیازی قوانین کو ختم کرنا ہوگا، اور عدلیہ کو آئین کے بنیادی حقوق کا غیرجانبدار محافظ بنانا ہوگا۔ پھر معاشی انصاف کی بات کرنا ہوگی۔ ‘پیئر بوردیو’ کے مطابق معاشی سرمایہ ہی سماجی اور ثقافتی سرمائے کو جنم دیتا ہے، جو بالآخر سیاسی طاقت میں ڈھلتا ہے۔ جب تک زمین، دولت اور وسائل ، اختیارات چند ہاتھوں میں رہیں گے، جمہوریت محض ایک تماشا رہے گی۔ باقاعدہ زرعی اصلاحات، روزگار کے نئے مواقع اور تعلیم و صحت کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ تمام تر سیاسی جماعتوں کو آئین کے آرٹیکل 140ـA کے تحت مقامی حکومتوں کو مکمل اختیارات دینے پر نعرے بازی سے ہٹ کر عملی طور پر متفق ہونا ہوگا تاکہ عوام براہِ راست فیصلہ سازی میں شریک ہوں۔ عوامی جمہوریت محض ایک نعرہ ہی نہیں، کوئی رسم نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد پر مبنی سفر کا نام ہے، ایک شعور ہے، ایک طرزِ فکر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک باوقار، خودمختار اور ترقی یافتہ ریاست بنے، تو ہمیں ‘طبقاتی حکمرانی ‘ کے خول کو توڑ کر ایک ایسی جمہوریت کی بنیاد رکھنی ہوگی جو عوامی ہو، شفاف ہو، اور سب کے لیے یکساں ہو۔ یہ راستہ کٹھن ضرور ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں برگزیدگی کے گڑھے سے نکال کر برابری کی شاہراہ پر لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭