... loading ...
حمیداللہ بھٹی
آٹھ جنگیں بند کرانے کے عوض نوبل انعام کے طلبگارصدرٹرمپ کونیک نامی توحاصل نہیں ہوئی البتہ وینزویلا کے منتخب صدرنکولس مادوروکواہلیہ سمیت اغواکرانے کا چرچا خوب ہوگیاہے ۔ ایران پر حملے اور گرین لینڈ پر بزور قبضے کی دھمکیوں پربھی دنیا حیران ہے کہ جنگیں بندکرانے کادعویداراچانک بدمعاشی پرکیوں اُترآیاہے؟اِس کی وجہ قرضوں میں جکڑی دم توڑتی معیشت اور چینی عروج ہے۔ ممکن ہے ٹرمپ کی حکمت عملی سے امریکہ کو کچھ مالی فائدہ ہوجائے مگر بدمعاشی سے پیداہونے والی کشیدگی کے نقصانات زیادہ ہوں گے۔ بدمعاشی سے عرب اوریورپی ممالک دورہوجائیں گے اور لاطینی امریکہ کے ممالک بھی اپنے دفاع کومضبوط بناکرخطے میں ترقی کے عمل کی رفتار سست کر سکتے ہیں۔ کینیڈاسے تعلقات متاثر ہونے کابھی نقصان ہوگااور دنیاکو یک قطبی سے کثیر قطبی راستے کی طرف چلنے کی تحریک ملے گی۔ امریکی بدمعاشی پہلے ہی چین کی مضبوط معیشت اور روس کی دفاعی طاقت کویکجاکرچکی ہے۔ مزید دیرینہ حلیف ممالک کی دوری سے امریکی معیشت اور دفاعی صنعت کو ایسا دھچکالگے گا جس کاکوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ ملکی معیشت کوجوازبناکر متعددعالمی منصوبوں سے علیحدگی ٹرمپ کی ایک اور ایسی حماقت ہے جس سے تجارت کارُخ بدلنے سے ڈالر مزید کمزورہوسکتاہے ۔یہ توغیر مُبہم حقیقت ہے کہ دنیاکی اب ترجیح امریکی و مغربی ممالک کی مہنگی دفاعی مصنوعات سے زیادہ ایشیاکے ایسے لڑاکا طیارے اور ہتھیارہیں جونہ صرف کم لاگت ہیں بلکہ آزمودہ بھی ہیں۔ یہ طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثارہیں جن سے امریکی بدمعاشی کاخطرہ معدوم ہوسکتاہے۔
حالیہ امریکی کردارسے ایک اور بڑی جنگ کے خدشات قوی ہوئے ہیں، اِس حوالے سے صف بندیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ۔جس کی روک تھام سے اقوامِ متحدہ بھی بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔ اِس عالمی اِدارے کی امداد میں کٹوتی کرنے کے علاوہ اِس کے کئی ذیلی اِداروں سے امریکہ الگ ہوچکا ہے ۔یہ ایسا دھچکا ہے جس سے اقوامِ متحدہ کے کردارمیں مزید کمی آئے گی۔ روس یوکرین پر حملہ آور، اور اُس کے پچیس فیصد ایسے حصے پر قابض ہے جومعدنی دولت سے مالامال ہونے کے ساتھ صنعتی مراکز ہیں۔ اِن حالات میں امریکہ کا مغربی ممالک کو دھمکانا معنی خیز ہے، جس سے نیٹو کا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن سکتاہے۔ اسی بناپر کئی طاقتور مغربی ممالک کشیدگی بڑھانے کی بجائے روس سے سفارتکاری شروع کرنے کا عندیہ دینے لگے ہیں اور مغربی ممالک نے یوکرین کو جونوے ارب یورو قرض دینے کا فیصلہ کیا ہے امریکی کردار کی وجہ پس وپیش کا شکارہیں ۔سچ یہ ہے کیونکہ فرانس اور جرمنی جیسی بڑی مغربی طاقتوں کاخیال ہے کہ جب قرض کی وصولی کے امکانات زیادہ روشن نہیں توکیوں نہ روس سے جنگ کی طرف جانے کی بجائے سفارتی ذرائع سے افہام و تفہیم پر توجہ دی جائے ۔
اسرائیل کی حفاظت میں ہر امریکی حکومت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے تو تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ غزہ کا علاقہ شہریوں سے خالی اور حماس کو غیر مسلح کرانے کامطالبہ دراصل مظلوم شہریوں کونہتااور بے یارومددگارکرناہے۔ امریکہ کسی عرب ملک کو اتنا طاقتور نہیں رہنے دینا چاہتاکہ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں صورت میں دفاع کر سکے۔ حفظ ماتقدم کے طورپر ہی عراق،شام اور لیبیا جیسے ممالک کی فوجی قوت تباہ کردی گئی ہے۔ اب تو عراق اور شام جیسے ممالک میں اسرائیلی جنگی جہاز دندناتے اور دفاعی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں لیکن جواب میں یہ ممالک بے بسی سے دیکھنے پرمجبور ہیں ۔ لیبیا عملی طورپر دوحصوں میں تقسیم ہے ۔یہ سب کچھ امریکی سرپرستی میں ہوا ہے جس سے مسلم ممالک کو مشترکہ فوج بنانے کا خیال آیا۔ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ ایسے ہی خیال کی عملی تصویر ہے۔ خوش آئندامر یہ ہے کہ دفاعی پیداوار میں مکمل طورپر خود کفیل ترکیہ بھی نیٹوکا رُکن ہونے کے باوجود اِس اتحاد کاحصہ بننے کا آرزو مند ہے جس کی جزیات طے کرنے کا کام حتمی مراحل میں ہے ۔ایرانی قیادت بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ ظاہرکر چکی جوبلاشبہ شر سے خیرکا جنم لیناہے ۔جب نیٹو کا مستقبل گہنارہا ہے تو امت مسلمہ میں اتحادویگانگت کی فضا بن رہی ہے۔
عالمی طاقتوں نے عرصہ تک اسلامی ممالک میں فرقہ واریت کو ہوادی جو مسلم ممالک میںتقسیم کا موجب رہی ۔لیکن یہ فرقہ واریت اب دم توڑتی نظر آتی ہے ۔سعودیہ و ایران تعلقات کی بحالی سے بڑی تبدیلی آئی ہے ۔نہ صرف گزشتہ برس جون میں ایران پر اسرائیلی حملے کی سعودی عرب نے شدید مذمت کی تھی بلکہ اب بھی حملے کی صورت میں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیاہے۔ ترکیہ اور پاکستان جن کے امریکہ سے خوشگوارمراسم ہیں نے بھی واضح کر دیا ہے کہ حملے کی صورت میں فضائی حدود استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ یہ مسلم ممالک کے ا تحادکی طرف بڑی پیش رفت ہے کہ ایران پر حملے میں کوئی اسلامی ملک حملہ آور قوت کا ساتھ نہیں دے رہا ۔حالانکہ ماضی میں عرب ممالک اسرائیل سے بڑاخطرہ ایران کو سمجھتے رہے۔ اسی لیے ایران پر حملے کے خدشات میں کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں نیٹو کی طرز پر اسلامی ممالک کی متحدہ فوج کی راہ ہموار کر سکتی ہے ۔
امریکہ چاہتا ہے کہ توانائی اور معدنیات کے ذخائر اُس کی دسترس میں ہوں لیکن اِس مقصدکے لیے سفارتکاری پرجارحیت کومقدم سمجھتا ہے۔ وینزویلا کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کاعندیہ اسی سوچ کا شاخسانہ ہے، لیکن یہ اب ممکن نہیں رہا کیونکہ چینی معیشت کا امریکہ مقابلہ کرنے سے قاصر ہے ۔اب تو چینی دفاعی ہتھیار بھی کم لاگت اور معیارکی بناپردنیاکے لیے پُرکشش ہیں ۔جبکہ یورپی اور اسلامی ممالک کسی حملے کی صورت میں ساتھ دینے سے گریزاں ہیں۔ اس وقت دوسری باردنیامیںسرد جنگ کے آثار ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کمزور ممالک سرمایہ کاری اور دفاع کے لیے چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ امریکی ٹیکنالوجی مہنگی ہونے کے ساتھ اِس لیے ناقابلِ اعتبار ہے کہ وہ جب چاہے پابندیاں لگا کر دوست ممالک کے لیے بھی مشکلات پیداکرتا ہے۔ بظاہر چینی مزاج اِس وقت امریکہ سے لڑنے والا نہیں لیکن وینزویلا سے اتحادی صدرکے اغواپر کئی ایسے اقدامات کرچکاہے جو چینی خفگی کااظہار ہیں۔ چین نے نہ صرف تجارت کو امریکہ سے متبادل راستوں پر موڑ دی ہے بلکہ کم مدت میں ادائیگی کانیااورقابلِ اعتمادایسا نظام متعارف کرادیا ہے جس میں ڈالر کاکردارنہیں ۔اب اگر ایران پر بھی حملہ ہوتا ہے جس کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں تو نہ صرف اسلامی ممالک سے شدید ردِعمل آسکتاہے ،بلکہ ایرانی تیل کی برآمدات کا ساٹھ فیصد خریدار ہونے کی وجہ سے چینی کا خاموش رہنا بھی مشکل ہے۔ اب یہ امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اپنی معیشت بچانے اور اسرائیل کے تحفظ میں کیا تمام دنیا کی نفرت سمیٹنا ہے۔
٭٭٭