... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
تیسری عالمی جنگ بغیراعلان شروع ہو چکی ۔ نہ توپوں کی سلامی ہوئی، نہ ٹینک سرحدوں پر کھڑے نظر آئے ، مگر دنیا کے نقشے خاموشی سے بدلنے لگے ہیں، آج کی جنگ زمین کے ٹکڑوں پرنہیں بلکہ ان راستوں، ان گزرگاہوں اوران وسائل پر لڑی جا رہی ہے جن سے آنے والی صدیوں کی طاقت جنم لے گی۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں برف، سمندر، ڈیٹا، معدنیات اور بندرگاہیں لشکروں سے زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔
اگرآج دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ خاموش مگر سب سے زیادہ قیمتی جگہ گرین لینڈ ہے ۔ برف میں ڈوبا ہوا ایک جزیرہ جو بظاہر ویران دکھائی دیتا ہے ، مگر دراصل وہ کنجی ہے جس سے آرکٹک کے دروازے کھلتے ہیں، آرکٹک اب منجمد خطہ نہیں رہا۔ برف پگھل رہی ہے اور اس کے نیچے وہ خزانے ابھر رہے ہیں جن پر مستقبل کی صنعتیں، دفاعی نظام اور ٹیکنالوجی کھڑی ہوں گی۔ تیل، گیس، یورینیم اور وہ نایاب دھاتیں جن کے بغیر جدید دنیا ایک لمحہ نہیں چل سکتی، سب اسی برف کے نیچے چھپے ہیں۔ جس کے پاس گرین لینڈ ہوگا، اس کے ہاتھ میں آرکٹک کی نبض ہوگی، اور جس کے ہاتھ میں آرکٹک کی نبض ہوگی، وہی آنے والی عالمی طاقت بنے گا،اسی لیے امریکہ نے وہاں اپنے خلائی اورمیزائل نگرانی کے نظام قائم کر رکھے ہیں، اور اسی لیے چین خاموشی سے وہاں سرمایہ کاری کی راہیں تلاش کر رہا ہے ۔ جب ٹرمپ نے گرین لینڈ خریدنے کی بات کی تو دنیا نے اسے ایک سیاسی لطیفہ سمجھا، مگر حقیقت یہ تھی کہ طاقتور ملک اب زمین نہیں بلکہ کنٹرول پوائنٹس خریدنا چاہتے ہیں۔
جنگ اب قبضے کی نہیں، رسائی کی ہے ۔ اسی خاموش جنگ کا ایک شوریوکرین میں سنائی دیتا ہے ۔ وہاں گولے گرتے ہیں، شہر جلتے ہیں اور انسان مرتے ہیں، مگر یہ جنگ یوکرینی سرزمین پر نہیں، روسی مستقبل پر لڑی جا رہی ہے ۔ نیٹو روس کو یورپ میں دوبارہ طاقتور بننے سے روکنا چاہتا ہے ، اس لیے یوکرین کو دیوار بنا کر کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ یہ جنگ اس سوال پر ہے کہ یورپ کی گیس، اس کے راستے اور اس کی سلامتی کس کے ہاتھ میں ہوگی۔اسی طرح تائیوان چین کے لیے ایک جزیرہ نہیں بلکہ اس کی شہ رگ ہے ۔ اگر چین تائیوان پر قابض ہو جائے تو وہ بحرالکاہل میں آزاد ہو جائے گا، اور امریکی بحری ناکہ بندی ٹوٹ جائے گی۔ اسی لیے امریکہ تائیوان کے گرد اپنی فوجی اور سیاسی دیوار کھڑی کیے ہوئے ہے ۔ وہاں بھی جنگ کا اصل مقصد زمین نہیں بلکہ راستہ ہے ، وہ سمندری راستہ جس سے چین کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔۔۔اور پھر اس نقشے پر پاکستان آتا ہے ،جو اس جنگ میں کہیں فائر نہیں کر رہا، مگر جس کی جغرافیائی حیثیت اسے اس کھیل کا مرکزی مہرہ بنا دیتی ہے ۔
چین کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کی تجارت اور توانائی امریکی کنٹرول والے سمندروں سے گزرتی ہے ۔ گوادر چین کو وہ دروازہ دیتا ہے جس سے وہ اس بحری گرفت سے نکل سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک محض سڑکوں اور بندرگاہوں کا منصوبہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا ستون ہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی جنگ کا سایہ کراچی سے لے کر گرین لینڈ تک پھیل جاتا ہے ، جہاں برف اور گرم پانی ایک ہی کہانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔پاکستان اس بساط پر اس لیے اہم ہے کہ وہ چین کو بحر ہند تک وہ زمینی راستہ دیتا ہے جسے کوئی بحری بیڑا بند نہیں کر سکتا۔ یہی راستہ چین کو امریکی بحری گھیرا توڑنے کی امید دیتا ہے ، اور یہی امید واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ اسی لیے پاکستان کبھی دباؤ میں، کبھی تنہائی میں اور کبھی معاشی سانسوں کے لیے جدوجہد میں دکھائی دیتا ہے ۔ طاقتیں جانتی ہیں کہ اگر یہ دروازہ کھلا رہا تو عالمی توازن بدل سکتا ہے ۔اسی زنجیر میں ایران کھڑا ہے ، جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا محافظ ہے ۔ دنیا کا تیل اسی تنگ درے سے گزرتا ہے ، اور چین جانتا ہے کہ اگر کبھی پاکستان کا راستہ کمزور ہوا تو ایران اس کے لیے متبادل دروازہ بن سکتا ہے ۔ اسی لیے چین ایران میں اربوں ڈالر لگا رہا ہے ، اور اسی لیے امریکہ ایران کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہے ۔ یہ کشمکش کسی ایٹمی پروگرام کی نہیں، یہ راستوں اور رسائی کی جنگ ہے ۔
سعودی عرب اس کھیل میں تیل کی سلطنت ہے ۔ جب تک تیل ڈالر میں بکتا ہے ، امریکہ کی عالمی مالیاتی طاقت قائم رہتی ہے ۔ اگر یہ تیل کسی اور کرنسی میں بکنے لگا تو دنیا کی اقتصادی بساط ہل جائے گی۔ چین اور روس اسی امکان کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور سعودی عرب خاموشی سے اس نئی دنیا کی قیمت تول رہا ہے ۔ یہاں فیصلے نعروں سے نہیں، حساب کتاب سے ہوتے ہیں۔بھارت کو امریکہ نے اس بساط پر چین کے خلاف ایک مضبوط مہرہ بنایا ہے ۔ اسے اسلحہ، ٹیکنالوجی اور سفارتی وزن دیا جا رہا ہے تاکہ وہ چین کو ایشیا میں روکے رکھے ۔ اسی دباؤ میں پاکستان ہمیشہ دو طاقتوں کے درمیان پھنسا رہتا ہے ، ایک طرف چین کی قربت، دوسری طرف امریکی بے اعتمادی۔ مگر جغرافیہ کسی کی مرضی سے نہیں بدلتا، اور پاکستان کا محلِ وقوع اسے اس کھیل سے الگ نہیں ہونے دیتا۔یوں دنیا ایک ایسے مقام پرآپہنچی ہے جہاں جنگ کہیں بھی بھڑک سکتی ہے مگر اس کے دھوئیں ہر جگہ محسوس ہوتے ہیں۔ یوکرین میں بم گرتے ہیں، تائیوان پر بحری جہاز منڈلاتے ہیں، گرین لینڈ میں ریڈار گھومتے ہیں اور گوادر میں خاموشی سے کنٹینر اُترتے ہیں، مگر یہ سب ایک ہی داستان کے صفحے ہیں۔ یہ عالمی جنگ اب لشکروں کی نہیں، راستوں کی ہے ، بندرگاہوں کی ہے ، معدنیات کی ہے اور ڈیٹا کی ہے ۔۔۔ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تاریخ قلم سے نہیں، نقشوں سے لکھی جا رہی ہے ۔ اور ان نقشوں پر جو لکیریں کھنچ رہی ہیں، وہ ہمیں بتا رہی ہیں کہ آنے والی دنیا کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ شاید یہی اس وقت کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ جنگ شروع ہو چکی ہے ، مگر دنیا ابھی تک اس کے نام سے انکارکررہی ہے ۔ اس تیسری عالمی جنگ میں دو بڑے کھلاڑی ہیں،امریکا اوریورپ بمقابلہ روس اورچین ۔
٭٭٭