... loading ...
منظر نامہ
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
حالات کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی روزگار کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں، جبکہ سرکاری بیانات اور مختلف سروے معیشت میں بہتری اور ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف عوام کے ذہن میں سوالات پیدا کرتا ہے بلکہ ریاست کے کردار اور پالیسی ساز اداروں کی کارکردگی پر بھی گہرا شبہ پیدا کرتا ہے ۔ بیرونِ ملک جانے والے افراد مہنگائی، بے روزگاری، محدود مواقع اور عدم استحکام کے باعث گھر اور خاندان کو پیچھے چھوڑتے ہیں، اور بعض اوقات خطرناک یا غیر قانونی راستے اختیار کر کے اپنی جان کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ سوچنا لازم ہو جاتا ہے کہ اصل ذمہ داری کس کی ہے ؟ کیا قصور صرف ان افراد کا ہے جو خطرناک یا غیر قانونی انتخاب کرتے ہیں، یا ریاست بھی اس المیے میں شریک ہے ، جو معاشی تحفظ، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہی؟ حقیقت شاید دونوں فریقوں کے باہمی تصادم میں چھپی ہوئی ہے ، جہاں مجبوریاں بھی ہیں اور غلط انتخاب بھی۔
ریاستی دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ آج پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ بن چکا ہے ۔ سرکاری رپورٹس اور حکومتی بیانات معیشت میں بہتری، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور ترقی کی رفتار کے دعوے کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہزاروں پاکستانی ہر سال وطن چھوڑنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ یہ رجحان محض ہجرت نہیں بلکہ ایک اجتماعی اضطراب، معاشی بے یقینی اور سماجی ناامیدی کی علامت ہے ۔ بیرونِ ملک جانے والے افراد اپنی مجبوریوں کی بنیاد پر غیر قانونی یا خطرناک راستے اختیار کر لیتے ہیں، جیسے کہ غیر مستند ذرائع یا انسانی اسمگلروں کے ذریعے سفر۔ معاشی دباؤ، تعلیم و شعور کی کمی اور راتوں رات امیر بننے کے خواب بعض اوقات انسان کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ وہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، جو ملک میں معاشی دباؤ اور محدود مواقع کی واضح علامت ہے ۔ بیورو آف امیگریشن کے مستند اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 762,499 پاکستانی شہری مختلف ممالک میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے بیرونِ ملک گئے ، جبکہ سال 2024 میں یہ تعداد 727,381 تھی۔ صرف ایک برس میں تقریباً 35,118افراد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک کے اندر اقتصادی دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ اضافہ کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنے ہنر، تعلیم یا محنت کے بل بوتے پر بہتر زندگی کا خواہاں ہے ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی بیرونِ ملک گئی، جس میں 18,352 اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ پاکستانی شامل تھے ، جیسے ڈاکٹرز، انجینئرز، اکاؤنٹنٹس، نرسز، کمپیوٹر اینالسٹ اور منیجرز۔ اس کے علاوہ 13,657 انتہائی ہنر مند اور 222,171ہنرمند افراد، 42,257نیم ہنر مند اور 466,062غیر ہنر مند افراد نے بھی بیرونِ ملک روزگار حاصل کیا۔ یہ تفصیل واضح کرتی ہے کہ پاکستانی افرادی قوت ہر سطح پر عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا رہی ہے ، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کے اندر ان صلاحیتوں کو وہ مواقع میسر ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔
مشرق ِوسطیٰ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کے لیے سب سے نمایاں خطہ ہے ۔ سال 2025 میں سعودی عرب سب سے بڑی منزل رہا، جہاں 530,256پاکستانی شہری گئے ۔ سعودی عرب کی جانب سے ورک ویزوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں 78,000 کا اضافہ ہوا، جو وہاں پاکستانی افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب کا ثبوت ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں 52,664، قطر میں 68,376، بحرین میں 37,726اور کویت میں 6,590پاکستانی شہری روزگار کے مواقع حاصل کرنے گئے ۔ خلیجی ممالک کے علاوہ ملائیشیا، چین، جنوبی کوریا، عراق، ترکیہ، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان، رومینیا اور امریکا سمیت 54سے زائد ممالک میں پاکستانی شہری خدمات انجام دے رہے ہیں۔
صوبائی سطح پر پنجاب اور خیبرپختونخوا بیرونِ ملک جانے والے افراد میں سرفہرست ہیں، جب کہ سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور سابق قبائلی علاقوں سے بھی ہزاروں افراد نے ملک چھوڑا۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ بے روزگاری اور معاشی دباؤ کسی ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر قومی مسئلہ بن چکا ہے ۔معاشی ماہرین اس رجحان کو دو زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ایک جانب بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، درآمدی دباؤ میں کمی اور لاکھوں خاندانوں کی معاشی حالت میں بہتری آتی ہے ۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کا ملک سے باہر جانا برین ڈرین کے مترادف ہے ، کیونکہ ایک ڈاکٹر یا انجینئر کے ملک چھوڑنے سے ریاست کی جانب سے اس کی تعلیم اور تربیت پر کی گئی سرمایہ کاری بھی بیرونِ ملک منتقل ہو جاتی ہے ۔اپنے ملک کے ذہین اور ماہر افراد کا دوسرے ملک چلے جانا ہی برین ڈرین کہلاتا ہے ۔
برین ڈرین کا اثر عام طور پر منفی ہوتا ہے ، کیونکہ جب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جاتے ہیں تو اس سے ریاست کی تعلیم اور تربیت پر کی گئی سرمایہ کاری ضائع ہو جاتی ہے ۔ ساتھ ہی مقامی سطح پر ہنر مند افراد کی کمی پیدا ہو جاتی ہے ، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے ماہر انسانی وسائل دستیاب نہیں رہتے ۔ اس کا اثر براہِ راست ملک کی ترقی اور معیشت پر پڑتا ہے ، خاص طور پر صحت، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر علمی و فنی شعبوں میں، جہاں ماہر افراد کی کمی ملکی ترقی کے عمل کو سست اور کمزور کر دیتی ہے ۔یہ صورتحال حکومت اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار طویل المدتی حل نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ ملک میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کیے جائیں، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ، جدید فنی تربیت کے پروگرامز متعارف کرائے جائیں اور ہنر مند افراد کو مناسب معاوضہ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے ۔ مقامی سطح پر ترقی کے مواقع میسر ہوں تو نوجوان نسل وطن میں رہ کر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتی ہے اور بیرونِ ملک جانے کا رجحان کم ہو سکتا ہے ۔
غیر قانونی اور خطرناک راستے اختیار کرنا، انسانی اسمگلروں پر اندھا اعتماد کرنا، اور خطرات کو جانتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی جان کو داؤ پر لگانا بھی عوام کی ذاتی ذمہ داری میں آتا ہے ۔ تعلیم اور شعور کی کمی اس رویے کو مزید تقویت دیتی ہے ، مگر اس کمی کی جڑیں بالآخر ریاستی ناکامیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ المیہ عوام کے انفرادی فیصلوں اور ریاستی ناکامیوں کے باہمی تصادم کا نتیجہ ہے ، لیکن اگر ذمہ داری کا تناسب طے کیا جائے تو ریاست کا کردار زیادہ وزنی نظر آتا ہے ۔
پاکستانی معاشرتی ڈھانچے کے لیے یہ صورتحال سنگین چیلنج ہے ۔ بیرونِ ملک جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ، معاشی دباؤ، بے روزگاری، تعلیم اور ہنر کی کمی کے امتزاج نے اس رجحان کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ حکومت، تعلیمی ادارے ، صنعتیں اور معاشرتی تنظیمیں مل کر ایسے اقدامات کریں کہ مقامی سطح پر روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا ہوں، نوجوان نسل وطن میں رہ کر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکے ، اور انسانی سرمائے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نوجوان نسل میں شعور بیدار کیا جائے ، تاکہ وہ خطرناک اور غیر قانونی راستوں کی طرف نہ جائیں، اور مقامی سطح پر موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ صنعتی اور تجارتی شعبے میں جدت، ہنر کی تربیت، باوقار معاوضہ اور معیاری کام کے ماحول کے قیام سے بیرونِ ملک ہجرت کا رجحان کم کیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح، تعلیم و تربیت میں معیار کو بڑھانا اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی نوجوانوں کو ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی ترغیب دے گی۔
یہ واضح ہے کہ بیرونِ ملک روزگار کا بڑھتا ہوا رجحان پاکستانی شہریوں کی محنت، قابلیت اور عالمی سطح پر قبولیت کا ثبوت بھی ہے ، مگر یہ ریاست اور معاشرتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے ۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس رجحان کو محض اعدادوشمار کے طور پر نہ دیکھے بلکہ انسانی سرمائے کے تحفظ، مقامی روزگار کے فروغ اور پائیدار معاشی پالیسیوں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کرے جہاں پاکستانی شہری بہتر مستقبل کی تلاش میں وطن چھوڑنے کے بجائے اسی سرزمین پر اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکیں۔
٭٭٭