وجود

... loading ...

وجود

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

هفته 17 جنوری 2026 ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

ریاض احمدچودھری

چھتیس گڑھ ،بھارت کی ریاستوں میں ایک ریاست ہے۔ یہ وسط بھارت میں واقع ہے۔ حال ہی میں ریاست مدھیہ پردیش کو تقسیم کرکے چھتیس گڑھ ریاست قائم کی گئی۔ اس کا دار الحکومت رائے پور ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں چھتیس قلعے واقع ہوں لیکن مشہور برطانوی مورخ جے بی بیگلرکی تحقیق کے مطابق یہ نام ”چھتیس گڑھ” نہیں بلکہ ” چھتیس گھر” ہے جو اس علاقے میں بسنے والے نچلی ذات کے چھتیس ”دلت” خاندانوں کی نسبت سے مشہور ہو گیا تھا۔ اس تحقیق کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اس علاقے میں چھتیس قلعوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تاہم یہ نام زیادہ قدیم نہیں ہے۔ قدیم زمانے میں یہ علاقہ ”ڈکشن کوسلا” کہلاتا تھا۔ جب کہ مشہور تاریخ دان ہری اٹھاکر کے مطابق موجودہ ”جبلپور اور چھتیس گڑھ” کے درمیانی علاقے کو ماضی میں ”مہا کو سلا” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ مغلوں کے عہد میں اس علاقے کو رتن پور کہا جانے لگا جب کہ اس علاقے کو چھتیس گڑھ مراہٹوں کے دور میں 1795ء کی دستایزات میں لکھا گیا ہے۔
یکم نومبر 2000ء کو بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے بطن سے پیدا ہونے والی چھبیسویں ریاست چھتیس گڑھ میں بھارت کی آبادی کے لحاظ سے شیڈولڈ کاسٹ اور قبائلی گروہوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور ریاست کی پوری آبادی کا چوالیس اعشاریہ سات فی صد مختلف قبائلی گروہوں اور شیڈولڈ کاسٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ قبائل جو خود کو فرزند زمین کہتے ہیں ان کو بہ وجوہ پس ماندہ رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ہمیشہ بغاوت کا علم لہراتا رہا ہے، جس کی اولین مثال1774ء میں برطانوی تاجروں کے خلاف کی جانے والی بغاوت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف قبائلی ثقافتوں اور رسم و رواج کے باوجود ریاست میں ہندو مت کا بھرپور عمل دخل ہے، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ریاست کے 95 فی صد ہندو جن کا تعلق نچلی ذات کی ہندو برادریوں سے ہے وہ ملک کی باقی ماندہ ہندو کمیونٹی سے ذات پات کے گورکھ دھندے کے باعث بالکل کٹے ہوئے ہیں، جس کے باعث ریاست میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے ایک لاکھ پینتس ہزار ایک سو تینتیس مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط چھتیس گڑھ کے شمال میں بہار اور اتر پردیش اور شمال مشرق میں جھارکھنڈ واقع ہیں۔ جن کے جنوب میں آندھرا پردیش مشرق میں اڑیسہ اور مغرب میں مہاراشٹر اور شمال مغربی سمت پر مدھیہ پردیش واقع ہے۔ ریاست کی آبادی 20795956 نفوس پر مشتمل ہے، جس میں تعلیم کا تناسب 65 فی صد ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں بولی جانے والی زبانوں میں چھتیس گڑھی، جو ہندی ہی کی ایک شکل ہے، کے علاوہ ہندی، مراٹھی، اوریائی اور قبائلی زبنیں بولی جاتی ہیں۔
بھارتی سیکورٹی فورسز نے وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران 14 ماؤ نواز باغیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائیاں سکما اور بیجاپور اضلاع میں کی گئیں، جہاں فورسز نے اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا۔ حکومت نے مارچ کے اختتام تک شورش مکمل ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع گریابند میں فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 10 افراد مارے گئے۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں علیحدگی پسند جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) کے سینئر رہنما اور مرکزی کمیٹی کے رکن بالا کرشنا بھی شامل ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران ماؤنواز جنگجوؤں سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ جو فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔اس آپریشن میں بھارتی فوج کی سربراہی میں چھتیس گڑھ پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف)، ضلعی پولیس کی یونٹ ایـ30، سی آر پی ایف کی خصوصی فورس کمانڈو بٹالین فار ریزولیٹ ایکشن (کوBRA) سمیت دیگر فورسز نے حصہ لیا۔عینی شاہدین کے مطابق بھارتی فوج نے جنگل میں مین پور تھانہ حدود میں سرچ آپریشن کے دوران نہتے قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ برس صرف چھتیس گڑھ میں مختلف کارروائیوں میں اب تک 241 ماؤ نوازوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔اگر گزشتہ 14 مہینوں کی بات کی جائے تو چھتیس گڑھ میں سیکورٹی فورسز نے 274 نکسلیوں کو تصادم میں ہلاک کیا ہے۔ وہیں اس دوران 1166 نکسلیوں کو گرفتار کیا گیا تو 969 نکسلیوں نے خود سپردگی کی۔ 2025 میں اب تک 81 نکسلیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جس میں سے 65 کا تعلق بستر ڈویڑن سے تھا جس میں بیجاپور سمیت 7 اضلاع شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ سال چھتیس گڑھ میں الگ الگ تصادم میں سیکورٹی فورسز نے 219 نکسلیوں کو مار گرایا تھا۔قابل ذکر ہے کہ بستر رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس سندر راج پی کے مطابق تصادم اس وقت شروع ہوا جب مختلف سیکورٹی فورسز کی ایک مشترکہ ٹیم نکسل مخالف آپریشن پر نکل رہی تھی۔ چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہونے والے نکسلیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر