وجود

... loading ...

وجود

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

جمعه 16 جنوری 2026 مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

ریاض احمدچودھری

امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا فقدان دیکھا گیا، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہوسکی۔ امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہو سکا، کیونکہ مودی دباؤ اور گھبراہٹ کا شکار تھے اور انہوں نے فون کرنے سے گریز کیا۔
امریکا نے بھارت کے بجائے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کر لیے ہیں، جسے ماہرین بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک ممکنہ ٹیرف بھارتی معیشت کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ناکام سفارت کاری اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا براہِ راست بوجھ بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور تجارتی دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔بھاری امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدہ کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ بھارت کومردہ معیشت قرار دے چکے ہیں۔پاکستان کا پانی بند کرنے کے خواہشمند مودی نے بھارتی معیشت کا بہاؤ روک دیا، مودی کے اقدامات سے بھارتی ائیرلائن انڈسٹری کریش کر گئی۔پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پاکستان کے خلاف اقدامات دراصل بھارتی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے، بھارت نے واہگہ کے راستے 2023ـ24 میں 3 ہزار 886 کروڑ روپے کی تجارت کی جو اب بند ہوگئی۔
بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری تیزی سے پھیلنے والی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے، بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگلے 20 سال میں 30 ہزار نئے پائلٹس کی ضرورت ہے لیکن بھارتی حکومت کا حالیہ اقدام بھارتی ہوابازی کی صنعت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق 100 بھارتی طیارے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہیں ، پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے یومیہ 400 بھارتی پروازیں متاثر ہوں گی۔پاکستان کی طرف سے اپنی فضائی حدود کے بند کرنے سے یو اے ای کو بھارتی طیاروں کی پروازیں بھی متاثر ہوں گی اور سفری مسافت میں اضافے سے پروازوں کا وقت بڑھ جائے گا۔بھارتی ائیرلائنز کے کرایوں میں اضافہ ہونے سے مسافروں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، بھارت کے بڑے شہروں، دہلی،ممبئی اور بنگلور سے دوبئی ،ابوظبی، شارجہ جانے والی پروازیں خاص طور پر متاثر ہوں گی۔دہلی سے کابل کی پروازیں بھی منسوخ کرنے سے بھارتی ائیرلائنز انڈسٹری کو نقصان ہوا ہے، ائیر انڈیا، ائیر انڈیا ایکسپریس اور انڈیگو کی خاص طور پر بحیرہ عرب کے راستے لمبا روٹ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے سفری اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ائیر انڈیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والی بھارتی پرواز ہے جسے اس ماہ 100 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پروازوں کی منسوخی، اضافی اخراجات اور ریونیو خسارے کی مد میں ائیر انڈیا کو 372 کروڑ کا نقصان ہوا ہے، یہ 6 کروڑ یومیہ نقصان ہے۔بھارتی ائیرلائنز کے ایندھن کی شکل میں بھارتی سرمایہ جلے گا ، بھارتی ائیرلائنز کا 700 ڈالر فی کلو لیٹر خرچ بڑھ گیا ہے، ائیر انڈیگو کو 2500 سے 3000 لیٹر اضافی ایندھن جلانا پڑے گا۔
بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی کی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آگئی۔رپورٹ کے مطابق جنتا دل (سیکولر) کے رکن ممبر گوڑا کمارا سوامی نے مودی کی انتہا پسند پالیسیز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ‘ٹیسلا بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور یہ منصوبہ ترک کر دیا۔ ٹیسلا کا بھارت میں مودی سرکار کی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔دی ہندو نے کہا کہ بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو درپیش ٹیرف اور پیچیدہ قانونی ضوابط کی وجہ سے ٹیسلا نے فیکٹری لگانے سے گریز کیا، بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول متنازعہ ہو چکا ہے، بڑی عالمی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہی ہیں۔ ٹیسلا کا یہ فیصلے نے مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کے اس فیصلے سے بھارت میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں، ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کا بھی بھارت میں سرمایہ کاری سے انکار مودی حکومت کی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی سہولیات پر عدم اعتماد ہے۔
مودی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارت شدید مالی بحران میں مبتلا ہو چکا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اربوں بھارتی شہریوں کے پاس روزمرہ اخراجات کے لیے پیسے نہیں ہیں جبکہ امیر طبقہ مزید خوشحال ہو رہا ہے۔بین الاقوامی وینچر کیپیٹل فرم ”بلوم وینچرز” کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی معیشت مکمل طور پر عدم توازن کا شکار ہوچکی ہے۔ غربت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ایک ارب سے زائد بھارتی شہری مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مہنگی مصنوعات، لگژری گھروں اور اسمارٹ فونز کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیر طبقہ مزید دولت مند ہو رہا ہے جبکہ غریب عوام بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارتی معیشت میں پیدا ہونے والا یہ خلا مسلسل بڑھ رہا ہے۔”مارسیلوس انویسٹمنٹ مینیجرز” کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی مڈل کلاس شدید مالی دباؤ میں ہے اور 50 فیصد بھارتی متوسط طبقے کی آمدنی جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ بھارتی مرکزی بینک کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گھریلو بچتیں 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ شہریوں کے لیے پیشہ ورانہ ملازمتوں کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے بھارت کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ مودی سرکار کو دہشت گردی کے بیانیے کے بجائے ملک کی معیشت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر