... loading ...
ریاض احمدچودھری
امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا فقدان دیکھا گیا، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہوسکی۔ امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہو سکا، کیونکہ مودی دباؤ اور گھبراہٹ کا شکار تھے اور انہوں نے فون کرنے سے گریز کیا۔
امریکا نے بھارت کے بجائے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کر لیے ہیں، جسے ماہرین بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک ممکنہ ٹیرف بھارتی معیشت کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ناکام سفارت کاری اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا براہِ راست بوجھ بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور تجارتی دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔بھاری امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدہ کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ بھارت کومردہ معیشت قرار دے چکے ہیں۔پاکستان کا پانی بند کرنے کے خواہشمند مودی نے بھارتی معیشت کا بہاؤ روک دیا، مودی کے اقدامات سے بھارتی ائیرلائن انڈسٹری کریش کر گئی۔پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پاکستان کے خلاف اقدامات دراصل بھارتی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے، بھارت نے واہگہ کے راستے 2023ـ24 میں 3 ہزار 886 کروڑ روپے کی تجارت کی جو اب بند ہوگئی۔
بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری تیزی سے پھیلنے والی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے، بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگلے 20 سال میں 30 ہزار نئے پائلٹس کی ضرورت ہے لیکن بھارتی حکومت کا حالیہ اقدام بھارتی ہوابازی کی صنعت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق 100 بھارتی طیارے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہیں ، پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے یومیہ 400 بھارتی پروازیں متاثر ہوں گی۔پاکستان کی طرف سے اپنی فضائی حدود کے بند کرنے سے یو اے ای کو بھارتی طیاروں کی پروازیں بھی متاثر ہوں گی اور سفری مسافت میں اضافے سے پروازوں کا وقت بڑھ جائے گا۔بھارتی ائیرلائنز کے کرایوں میں اضافہ ہونے سے مسافروں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، بھارت کے بڑے شہروں، دہلی،ممبئی اور بنگلور سے دوبئی ،ابوظبی، شارجہ جانے والی پروازیں خاص طور پر متاثر ہوں گی۔دہلی سے کابل کی پروازیں بھی منسوخ کرنے سے بھارتی ائیرلائنز انڈسٹری کو نقصان ہوا ہے، ائیر انڈیا، ائیر انڈیا ایکسپریس اور انڈیگو کی خاص طور پر بحیرہ عرب کے راستے لمبا روٹ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے سفری اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ائیر انڈیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والی بھارتی پرواز ہے جسے اس ماہ 100 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پروازوں کی منسوخی، اضافی اخراجات اور ریونیو خسارے کی مد میں ائیر انڈیا کو 372 کروڑ کا نقصان ہوا ہے، یہ 6 کروڑ یومیہ نقصان ہے۔بھارتی ائیرلائنز کے ایندھن کی شکل میں بھارتی سرمایہ جلے گا ، بھارتی ائیرلائنز کا 700 ڈالر فی کلو لیٹر خرچ بڑھ گیا ہے، ائیر انڈیگو کو 2500 سے 3000 لیٹر اضافی ایندھن جلانا پڑے گا۔
بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی کی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آگئی۔رپورٹ کے مطابق جنتا دل (سیکولر) کے رکن ممبر گوڑا کمارا سوامی نے مودی کی انتہا پسند پالیسیز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ‘ٹیسلا بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور یہ منصوبہ ترک کر دیا۔ ٹیسلا کا بھارت میں مودی سرکار کی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔دی ہندو نے کہا کہ بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو درپیش ٹیرف اور پیچیدہ قانونی ضوابط کی وجہ سے ٹیسلا نے فیکٹری لگانے سے گریز کیا، بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول متنازعہ ہو چکا ہے، بڑی عالمی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہی ہیں۔ ٹیسلا کا یہ فیصلے نے مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کے اس فیصلے سے بھارت میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں، ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کا بھی بھارت میں سرمایہ کاری سے انکار مودی حکومت کی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی سہولیات پر عدم اعتماد ہے۔
مودی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارت شدید مالی بحران میں مبتلا ہو چکا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اربوں بھارتی شہریوں کے پاس روزمرہ اخراجات کے لیے پیسے نہیں ہیں جبکہ امیر طبقہ مزید خوشحال ہو رہا ہے۔بین الاقوامی وینچر کیپیٹل فرم ”بلوم وینچرز” کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی معیشت مکمل طور پر عدم توازن کا شکار ہوچکی ہے۔ غربت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ایک ارب سے زائد بھارتی شہری مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مہنگی مصنوعات، لگژری گھروں اور اسمارٹ فونز کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیر طبقہ مزید دولت مند ہو رہا ہے جبکہ غریب عوام بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارتی معیشت میں پیدا ہونے والا یہ خلا مسلسل بڑھ رہا ہے۔”مارسیلوس انویسٹمنٹ مینیجرز” کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی مڈل کلاس شدید مالی دباؤ میں ہے اور 50 فیصد بھارتی متوسط طبقے کی آمدنی جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ بھارتی مرکزی بینک کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گھریلو بچتیں 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ شہریوں کے لیے پیشہ ورانہ ملازمتوں کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے بھارت کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ مودی سرکار کو دہشت گردی کے بیانیے کے بجائے ملک کی معیشت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
٭٭٭