وجود

... loading ...

وجود

اے اہلِ ایتھنز !!

جمعه 16 جنوری 2026 اے اہلِ ایتھنز !!

بے لگام / ستار چوہدری
سوال نہ کریں ۔۔۔!!

میں تمہاری زبان اورانداز سے واقف نہیں، میں صرف سچ بولنا جانتا ہوں، اگر میری باتیں تمہیں عجیب لگیں تو اس کی وجہ یہ ہے ، کہ میں بناوٹ کے بجائے حقیقت بولتا ہوں۔ تم مجھ پرالزام لگاتے ہو کہ میں نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہوں، اور نئے دیوتا گھڑتا ہوں۔۔۔؟ میں پوچھتا ہوں، اگرمیں واقعی نوجوانوں کو خراب کرتا ہوں۔۔۔؟ تو کیا میں یہ جان بوجھ کر کرتا ہوں۔۔۔؟ اور اگر جان بوجھ کر کرتا ہوں تو۔۔۔ میں خود بھی انہی کے درمیان رہتا ہوں، کیا کوئی انسان خود کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔۔۔؟ میں نے کسی کو بگاڑنے کا نہیں، بلکہ ہرایک کو سوچنے پرمجبور کرنے کا کام کیا ہے ۔ تم مجھے اس لیے ناپسند کرتے ہو، کہ میں تم سے سوال پوچھتا ہوں۔۔۔ میں تم سے پوچھتا ہوں، نیکی کیا ہے ۔۔۔؟ انصاف کیا ہے ۔۔۔؟ علم کیا ہے ۔۔۔؟ تم سمجھتے ہو کہ تم جانتے ہو۔۔۔؟ لیکن جب میں سوال کرتا ہوں، تو تمہیں پتہ چلتا ہے کہ تم نہیں جانتے ۔ خدا نے مجھے یہ کام دیا ہے ، کہ میں لوگوں کو ان کی جہالت کا احساس دلاؤں۔ میں دولت کے پیچھے نہیں بھاگتا، میں روح کی بہتری چاہتا ہوں۔ اگر تم مجھے چھوڑ دو، تو تمہیں شاید سکون ملے ، لیکن تم سچ سے دور ہو جاؤ گے۔ اور اگر تم مجھے قتل بھی کر دو، تو بھی سچ کو قتل نہیں کر سکتے ۔ ایک نیک انسان کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، نہ زندگی میں، نہ موت کے بعد ۔۔۔ میں موت سے نہیں ڈرتا، کیونکہ ڈرنا اس بات کا دعویٰ کرنا ہے ، کہ ہم جانتے ہیں، جبکہ ہم نہیں جانتے ۔ میں یہی چاہتا ہوں، یا تو میں کسی اور دنیا میں داناؤں سے گفتگو کروں یا پھر ایک گہری نیند میں چلا جاؤں، دونوں میں کوئی برائی نہیں۔اس کے بعد۔۔۔۔
اب تم نے مجھے مجرم قرار دے دیا ہے ،تم پوچھتے ہو کہ میں اپنی سزا خود تجویز کروں۔ میں سوچتا ہوں، میں نے زندگی بھر شہرکو سچ کا آئینہ دکھایا، تو کیا اس کا بدلہ قید ہونا چاہیے ۔۔۔؟ اگر میں سچ کہوں، تو مجھے انعام ملنا چاہیے ، کیونکہ میں نے تمہیں سستی نیند سے جگایا۔ میں نے تمہیں دولت نہیں، روح کی دولت دی ۔ میں نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ طاقتور کیسے بنا جائے ، بلکہ یہ سکھایا کہ اچھا انسان کیسے بنا جائے ۔ تم کہتے ہو میں سزا مانگوں، تو میں کہتا ہوں، میری اصل سزا یہ ہے ، کہ میں خاموش ہو جاؤں، اور خاموشی انسان کی روح کی موت ہے ۔ میں جلاوطنی قبول نہیں کروں گا، کیونکہ جہاں بھی جاؤں، وہاں بھی میں سوال پوچھوں گا۔ اور لوگ وہاں بھی مجھ سے نفرت کریں گے ۔ میں جرمانہ بھی نہیں مانگتا، کیونکہ سچ خرید کر نہیں بولا جاتا، آخرکار تم مجھے موت دو گے ، لیکن سن لو، تم ایک شخص کو مارو گے ، سچ کو نہیں۔ تم سمجھتے ہو، تم نے مسئلہ حل کر لیا، مگر تم نے صرف اپنی ضمیر کی آواز بند کی ہے ۔ میرے بعد، تم پر زیادہ سوال اٹھیں گے ، کیونکہ نوجوان وہی کریں گے ، جو میں کرتا تھا۔ تم نے مجھ سے نہیں، اپنے ہی سچ سے نجات پائی ہے ۔ میں جا رہا ہوں، تم زندگی کی طرف، اور میں موت کی طرف، مگر کون بہتر جگہ جا رہا ہے ، یہ صرف خدا جانتا ہے ۔۔۔سیکنڈ لاسٹ سین۔۔۔۔
تم میرے جسم کے مرنے پر رو رہے ہو، لیکن میں تو آزاد ہو رہا ہوں۔ موت روح کا دشمن نہیں، قید سے رہائی ہے ۔ سچا فلسفی، ہمیشہ مرنے کی مشق کرتا ہے ، کیونکہ وہ جسم کی خواہشوں سے ، اپنی روح کو الگ کرنا سیکھتا ہے ۔ جسم ہمیں دھوکہ دیتا ہے ، آنکھیں، کان، ہمیں سچ نہیں بلکہ سایے دکھاتے ہیں، سچ روح دیکھتی ہے ۔ علم تب آتا ہے ، جب ہم جسم سے اوپر اٹھتے ہیں۔ کیا تم نے غور کیا، کہ ہم خوبصورتی کو پہچانتے ہیں، حالانکہ ہم نے ، کامل خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی۔۔۔؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روح نے کسی اور دنیا میں سچ کو دیکھا تھا، روح جسم سے پہلے تھی، اور جسم کے بعد بھی رہے گی۔ موت سے ڈرنا، ایسا ہے جیسے کوئی قیدی جیل کے دروازے سے ڈر جائے ۔ میں جا رہا ہوں، ان لوگوں کے پاس جو سچ سے محبت کرتے تھے ، جنہوں نے حق کے لیے زہر پیا۔ تم یہاں رہو گے اور تمہارا امتحان ابھی باقی ہے ۔ میری فکر نہ کرو، اپنی روح کی فکر کرو۔آخری سین ۔۔۔
پھر جیل کا محافظ آتا ہے ،
شوکران کا پیالہ دیتا ہے ۔
سقراط مسکرا کر کہتا ہے
کیا اسے دیوتاؤں کو
چڑھا بھی سکتا ہوں۔۔۔؟
اور پی لیتا ہے ۔
اس کے پاؤں سرد ہونے لگتے ہیں،
سانس آہستہ ہوتی جاتی ہے ۔
اس کا آخری جملہ تھا۔۔۔
زندگی ایک بیماری تھی، موت شفا ہے ۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ سقراط خاموش ہو گیا۔
انسان مرجاتے ہیں،کردارزندہ رہتے ہیں،ہردورکا سقراط ہوتا ہے ، اورہرسقراط کے ساتھ بادشوں کا ایک جیسا سلوک ہوتا ہے ۔۔۔۔ ہزاروں سال قبل اور آج بھی ” بادشاہوں ” کی ” سقراطوں ” سے ایک ہی بات پر جنگ ہے ” سوال نہ کریں ”۔۔۔۔تاریخ ہمیشہ سچ بولتی ہے ، سقراط مرکر بھی زندہ رہے ، حکمران زندہ رہ کر بھی مُردے رہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر