... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
سوال نہ کریں ۔۔۔!!
میں تمہاری زبان اورانداز سے واقف نہیں، میں صرف سچ بولنا جانتا ہوں، اگر میری باتیں تمہیں عجیب لگیں تو اس کی وجہ یہ ہے ، کہ میں بناوٹ کے بجائے حقیقت بولتا ہوں۔ تم مجھ پرالزام لگاتے ہو کہ میں نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہوں، اور نئے دیوتا گھڑتا ہوں۔۔۔؟ میں پوچھتا ہوں، اگرمیں واقعی نوجوانوں کو خراب کرتا ہوں۔۔۔؟ تو کیا میں یہ جان بوجھ کر کرتا ہوں۔۔۔؟ اور اگر جان بوجھ کر کرتا ہوں تو۔۔۔ میں خود بھی انہی کے درمیان رہتا ہوں، کیا کوئی انسان خود کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔۔۔؟ میں نے کسی کو بگاڑنے کا نہیں، بلکہ ہرایک کو سوچنے پرمجبور کرنے کا کام کیا ہے ۔ تم مجھے اس لیے ناپسند کرتے ہو، کہ میں تم سے سوال پوچھتا ہوں۔۔۔ میں تم سے پوچھتا ہوں، نیکی کیا ہے ۔۔۔؟ انصاف کیا ہے ۔۔۔؟ علم کیا ہے ۔۔۔؟ تم سمجھتے ہو کہ تم جانتے ہو۔۔۔؟ لیکن جب میں سوال کرتا ہوں، تو تمہیں پتہ چلتا ہے کہ تم نہیں جانتے ۔ خدا نے مجھے یہ کام دیا ہے ، کہ میں لوگوں کو ان کی جہالت کا احساس دلاؤں۔ میں دولت کے پیچھے نہیں بھاگتا، میں روح کی بہتری چاہتا ہوں۔ اگر تم مجھے چھوڑ دو، تو تمہیں شاید سکون ملے ، لیکن تم سچ سے دور ہو جاؤ گے۔ اور اگر تم مجھے قتل بھی کر دو، تو بھی سچ کو قتل نہیں کر سکتے ۔ ایک نیک انسان کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، نہ زندگی میں، نہ موت کے بعد ۔۔۔ میں موت سے نہیں ڈرتا، کیونکہ ڈرنا اس بات کا دعویٰ کرنا ہے ، کہ ہم جانتے ہیں، جبکہ ہم نہیں جانتے ۔ میں یہی چاہتا ہوں، یا تو میں کسی اور دنیا میں داناؤں سے گفتگو کروں یا پھر ایک گہری نیند میں چلا جاؤں، دونوں میں کوئی برائی نہیں۔اس کے بعد۔۔۔۔
اب تم نے مجھے مجرم قرار دے دیا ہے ،تم پوچھتے ہو کہ میں اپنی سزا خود تجویز کروں۔ میں سوچتا ہوں، میں نے زندگی بھر شہرکو سچ کا آئینہ دکھایا، تو کیا اس کا بدلہ قید ہونا چاہیے ۔۔۔؟ اگر میں سچ کہوں، تو مجھے انعام ملنا چاہیے ، کیونکہ میں نے تمہیں سستی نیند سے جگایا۔ میں نے تمہیں دولت نہیں، روح کی دولت دی ۔ میں نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ طاقتور کیسے بنا جائے ، بلکہ یہ سکھایا کہ اچھا انسان کیسے بنا جائے ۔ تم کہتے ہو میں سزا مانگوں، تو میں کہتا ہوں، میری اصل سزا یہ ہے ، کہ میں خاموش ہو جاؤں، اور خاموشی انسان کی روح کی موت ہے ۔ میں جلاوطنی قبول نہیں کروں گا، کیونکہ جہاں بھی جاؤں، وہاں بھی میں سوال پوچھوں گا۔ اور لوگ وہاں بھی مجھ سے نفرت کریں گے ۔ میں جرمانہ بھی نہیں مانگتا، کیونکہ سچ خرید کر نہیں بولا جاتا، آخرکار تم مجھے موت دو گے ، لیکن سن لو، تم ایک شخص کو مارو گے ، سچ کو نہیں۔ تم سمجھتے ہو، تم نے مسئلہ حل کر لیا، مگر تم نے صرف اپنی ضمیر کی آواز بند کی ہے ۔ میرے بعد، تم پر زیادہ سوال اٹھیں گے ، کیونکہ نوجوان وہی کریں گے ، جو میں کرتا تھا۔ تم نے مجھ سے نہیں، اپنے ہی سچ سے نجات پائی ہے ۔ میں جا رہا ہوں، تم زندگی کی طرف، اور میں موت کی طرف، مگر کون بہتر جگہ جا رہا ہے ، یہ صرف خدا جانتا ہے ۔۔۔سیکنڈ لاسٹ سین۔۔۔۔
تم میرے جسم کے مرنے پر رو رہے ہو، لیکن میں تو آزاد ہو رہا ہوں۔ موت روح کا دشمن نہیں، قید سے رہائی ہے ۔ سچا فلسفی، ہمیشہ مرنے کی مشق کرتا ہے ، کیونکہ وہ جسم کی خواہشوں سے ، اپنی روح کو الگ کرنا سیکھتا ہے ۔ جسم ہمیں دھوکہ دیتا ہے ، آنکھیں، کان، ہمیں سچ نہیں بلکہ سایے دکھاتے ہیں، سچ روح دیکھتی ہے ۔ علم تب آتا ہے ، جب ہم جسم سے اوپر اٹھتے ہیں۔ کیا تم نے غور کیا، کہ ہم خوبصورتی کو پہچانتے ہیں، حالانکہ ہم نے ، کامل خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی۔۔۔؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روح نے کسی اور دنیا میں سچ کو دیکھا تھا، روح جسم سے پہلے تھی، اور جسم کے بعد بھی رہے گی۔ موت سے ڈرنا، ایسا ہے جیسے کوئی قیدی جیل کے دروازے سے ڈر جائے ۔ میں جا رہا ہوں، ان لوگوں کے پاس جو سچ سے محبت کرتے تھے ، جنہوں نے حق کے لیے زہر پیا۔ تم یہاں رہو گے اور تمہارا امتحان ابھی باقی ہے ۔ میری فکر نہ کرو، اپنی روح کی فکر کرو۔آخری سین ۔۔۔
پھر جیل کا محافظ آتا ہے ،
شوکران کا پیالہ دیتا ہے ۔
سقراط مسکرا کر کہتا ہے
کیا اسے دیوتاؤں کو
چڑھا بھی سکتا ہوں۔۔۔؟
اور پی لیتا ہے ۔
اس کے پاؤں سرد ہونے لگتے ہیں،
سانس آہستہ ہوتی جاتی ہے ۔
اس کا آخری جملہ تھا۔۔۔
زندگی ایک بیماری تھی، موت شفا ہے ۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ سقراط خاموش ہو گیا۔
انسان مرجاتے ہیں،کردارزندہ رہتے ہیں،ہردورکا سقراط ہوتا ہے ، اورہرسقراط کے ساتھ بادشوں کا ایک جیسا سلوک ہوتا ہے ۔۔۔۔ ہزاروں سال قبل اور آج بھی ” بادشاہوں ” کی ” سقراطوں ” سے ایک ہی بات پر جنگ ہے ” سوال نہ کریں ”۔۔۔۔تاریخ ہمیشہ سچ بولتی ہے ، سقراط مرکر بھی زندہ رہے ، حکمران زندہ رہ کر بھی مُردے رہے ۔
٭٭٭