وجود

... loading ...

وجود

معاوضے پر استعفیٰ

جمعه 16 جنوری 2026 معاوضے پر استعفیٰ

جہان دیگر
۔۔۔۔۔۔
زریں اختر
کولاژ
۔۔۔۔۔

”اعزازی” رکنیت بجائے خود اعزاز کا درجہ رکھتی ہے، شخصیات سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھالیں ، یہ شخصیات بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے خیال سے بلا معاوضہ یہ درخواست قبول کرتی ہیںاوراصولوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلوں کے اختیار پر ہی راضی ہوتی ہیںاگر یہ بھی نہ ہوتو پھر تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ ان شخصیات کے کردار ی اوصاف کا یہ عملی اعتراف ہوتا ہے ۔ ابن الوقتوں کی سوچ سے یہ عمل اتنا پرے ہے کہ ان کے لیے یقین کرنا بھی دشوار ہوتاہے کہ کوئی کیوں بغیرمعاوضے کے کام کرے گا اس کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور وابستہ ہوگا ، حالاں کہ ہمارے سامنے ایدھی ،روتھ فائو کی مثالیں بھی ہیں اور مختلف سرکاری اداروں بلکہ سیاسی اداروں سے منسلک شخصیات کی بھی جنہوں نے اپنی زندگی کے لیے بنائے گئے اصولوں کی پاس داری ہر پیش کش سے بڑھ کر کی۔حالیہ مثال اسلام آباد عدالت ِعالیہ کے سابق منصف شوکت صدیقی کی جنہوں نے قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی)کی ذمہ داری کی پیش کش کو دو مرتبہ رد کیا پھر ایک مسابقت (چیلنج) سمجھ کر قبول کیالیکن جب پتا چلا کہ یہ بطور معاوضہ دی گئی ہے تو اسی لمحے استعفیٰ دے دیا۔ اس اکثریتی موقع پرستوں کے معاشرے میں ابھی ایسے سرپھرے موجود ہیں، جن کی زبان میں انہیں ”پگلا” کہتے ہیں۔
کے پی کے کے گورنر اور پریس کانفرنس؟
اداروں میں مراتب کانظام (ہائرارکی) ہوتی ہے ،اس کے اپنے اصولی اور اخلاقی جواز ہیں اور پامالی کی یقینا جواب دہی بنتی ہے۔ جہاں اور جب بھی اصولوں کاٹکرائو عملی صورت ِ حال سے ہوگا وہاں انارکی ( لفظ انارکی یہاں نظری معنوں میں نہیں بلکہ ان منفی معنوں میں استعمال کیاگیا ہے جو مروج ہوگیا)پھیلے گی ۔اصول یہ کہ ریاست کا صدر اور گورنر کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ یا رکن نہیں رہے گا اور اگر ہوگا تو اس سے استعفیٰ دے گا، اس کی سیاسی سرگرمیاں بھی نہیں ہوں گی لیکن خیبر پختون خواہ کے گورنر فیصل کریم کنڈی پریس کانفرنس کرتے ہیں ،اتنی سمجھ تو کرکٹ کے شائقین بھی رکھتے ہیں کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی ٹیسٹ میچ نہیں کھیل پاتے ، یہ سیاست سے وابستہ افراد کو سیاسی چسکا کیسے چھوٹے گا؟ باز پرس کرنی ہی ہے تو گورنر صاحب وزیر اعلیٰ کو بلاکر پوچھیں کہ ضلع شمالی وزیرستان کی بچی میں پولیو کا کیس سامنے آیا ہے ، ہم آپ کی نیت پر شک کے دائرے سے خود کو باہر رکھیں گے اگر اس کے نتائج عوام کے حق میں آتے ہیں تو اور ہمیں کیا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اگر اس کی مذمت فرمائیں کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں گرتے پڑتے چلیں یا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر سنگ سنگ؛ کم از کم ہمارے بچے بچیاں تو ایسے نہ چلیں ، ایسے واقعات کو سیاسی طور پر کیش کرلیں ،متاثرین کی عملی (زبانی کلامی نہیں ) داد رسی کریں ، ہم اسے سراہیں گے ،ہاں جہاں مذہبی جذبات کو کیش کرنے کی کوشش کی وہاں ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مدد راستے میں ہے ،ٹرمپ
اس دعویٰ پر ہمیں وہ بحری بیڑا یاد آگیا جو کبھی نہیں پہنچا۔ میاں بیوی کا اختلاف ہوتو بیرونی مداخلت سے لے کر ملکوں میں لے گئی بیرونی امداد تک ، یہ مشیران بہی خواہ بھی ہوسکتے ہیں اور نہیں بھی لیکن نوبت یہاں تک پہنچنا ہی خطرے کی گھنٹی ہے ۔یہاں مجھے ڈاکٹر جاوید احمد غامدی کی ایک گفتگو یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے ”خارجی” اصطلاح کی وضاحت فرمائی تھی ۔ جس نتیجے پر میں پہنچی ہوں؛ مختلف افرد یا گروہوں کے مختلف ردّ ِ عمل ہوتے ہیں، ایک فرد یا ہم خیال افراد یا گروہ جب یہ دیکھتاہے کہ وہ اکثریت یا مقتدرہ سے متفق نہیں تو وہ الگ ہوجاتے ہیںاور جوابی سرگرمیوں کو بھی اپنا شعار نہیں بناتے ،ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو متوازی اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے ، لیکن ان دونوں گروہوں سے بڑھ کر ایک گروہ وہ وجود میں آتا ہے جو اپنی سرگرمیوں کے ساتھ خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں جت جاتا ہے اور پھر ان میں سے کچھ وہ پیدا ہوتے ہیں جو مخالفت میں مسلح ہو کر میدا ن میں اتر آتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جس کو بھی زمین اوراپنی اور دوسروں کی جان پیاری ہے اور وہ مقتدرہ کے خلاف مسلح کارروائیوں کی حمایت کرے گا اس کا انجام بھیانک ہوگا۔ ہمارے سامنے مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے سورمائوں کی مثالیں بھی ہیں اور سیاسی جدوجہد کو مشعل راہ بنانے والوں کی بھی ۔ٹرمپ کے مخاطبین ایران حکومت مخالفین ہیں اور اگرایرانی حکومت مخالف تحریک کے رہنمائوں کو یہ منظورر ہے تو ان کی خدمت عالیہ میں ان ہی کی زبان کا یہ مقولہ عرض ہے کہ ”بریں عقل و دانش بباید گریست ( ایسی عقل و دانش پر تو رونا چاہیے)۔
جن پہ تکیہ تھا
ایک طرف ٹرمپ ایران حکومت مخالفین کی مدد کا عندیہ دے رہے ہیں تو دوسری طرف وہی امریکہ جو ہمیشہ اپنے شہریوں کا غرور رہا ،جس سے ہم مرعوب رہے ،امریکی شہریت کے چاہے دوسرے درجے کے شہری سہی لیکن خواہش مند اور کچھ ذاتی مشاہدے کہ امریکی شہری پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں رہنے والا بھی صحت سے وابستہ مراعات حاصل کرتا ہے لیکن یہ کیا کہ امریکہ نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت بھی کردی اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسے انتظامات کریں جن سے امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ ہو ، یہ ترجیہات کی کیسی الٹ ہے ،یہ امریکی شہری کیا ریمنڈ ڈیوس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ اس تمام صورت حال میں امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کی قیادت میں ان کے سینئر معاونین کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ پرزور دیا گیا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے ۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس مشورے پر عمل نہیں کریں گے تو دنیا کو طاقت کی ضرب الامثال یاد دلائیں گے ،مائیٹ از رائیٹ ، یہ اپنی زبان میں ہمارے حکمران بھی جانتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
ٹیرف جنگ
امریکہ کے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ٢٥ فی صد ٹیرف کا فوری نفاذ سے تو نہیں لگتا کہ وہ نائب صدر کے مشورے پر ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں گے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان کاٹیرف کے اندھا دھند نفاذ کے خلاف بیان ہے کہ ٹیرف و تجارتی جنگیں کسی کے مفاد میں نہیںاور اس سلسلے میں چین کا موقف واضح اور مستقل ہے۔
ولی بابر قتل کیس کے ٢٥ سال
جرائم کی شرح کے مقابلے میں عدالتیں چھوٹی پڑ گئی ہیں ۔ مقدمے اتنے کھنچتے ہیں کہ مجرم قدرتی یا غیر قدرتی انجام کو پہنچ جاتے ہیں ، یا کوئی انصاف کی تاخیر سے مایوس ہوکر پہنچا دیتا ہے یا پیسہ کھلا کے قانونی طریقے سے پہنچوا دیتا ہے،اس مقدمے کے بھی چھے گواہان سمیت نو افراد قتل ہوگئے۔ عدالت میں مقدمہ چلتا رہے لواحقین کی کسی حد تک داد رسی ہوجاتی ہے ۔ ماورائے عدالت قتل بھی تومتوازی ماورائے عدالت انصاف بھی ، لیکن یہ سب کتنا ہیبت ناک ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر