... loading ...
جہان دیگر
۔۔۔۔۔۔
زریں اختر
کولاژ
۔۔۔۔۔
”اعزازی” رکنیت بجائے خود اعزاز کا درجہ رکھتی ہے، شخصیات سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھالیں ، یہ شخصیات بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے خیال سے بلا معاوضہ یہ درخواست قبول کرتی ہیںاوراصولوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلوں کے اختیار پر ہی راضی ہوتی ہیںاگر یہ بھی نہ ہوتو پھر تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ ان شخصیات کے کردار ی اوصاف کا یہ عملی اعتراف ہوتا ہے ۔ ابن الوقتوں کی سوچ سے یہ عمل اتنا پرے ہے کہ ان کے لیے یقین کرنا بھی دشوار ہوتاہے کہ کوئی کیوں بغیرمعاوضے کے کام کرے گا اس کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور وابستہ ہوگا ، حالاں کہ ہمارے سامنے ایدھی ،روتھ فائو کی مثالیں بھی ہیں اور مختلف سرکاری اداروں بلکہ سیاسی اداروں سے منسلک شخصیات کی بھی جنہوں نے اپنی زندگی کے لیے بنائے گئے اصولوں کی پاس داری ہر پیش کش سے بڑھ کر کی۔حالیہ مثال اسلام آباد عدالت ِعالیہ کے سابق منصف شوکت صدیقی کی جنہوں نے قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی)کی ذمہ داری کی پیش کش کو دو مرتبہ رد کیا پھر ایک مسابقت (چیلنج) سمجھ کر قبول کیالیکن جب پتا چلا کہ یہ بطور معاوضہ دی گئی ہے تو اسی لمحے استعفیٰ دے دیا۔ اس اکثریتی موقع پرستوں کے معاشرے میں ابھی ایسے سرپھرے موجود ہیں، جن کی زبان میں انہیں ”پگلا” کہتے ہیں۔
کے پی کے کے گورنر اور پریس کانفرنس؟
اداروں میں مراتب کانظام (ہائرارکی) ہوتی ہے ،اس کے اپنے اصولی اور اخلاقی جواز ہیں اور پامالی کی یقینا جواب دہی بنتی ہے۔ جہاں اور جب بھی اصولوں کاٹکرائو عملی صورت ِ حال سے ہوگا وہاں انارکی ( لفظ انارکی یہاں نظری معنوں میں نہیں بلکہ ان منفی معنوں میں استعمال کیاگیا ہے جو مروج ہوگیا)پھیلے گی ۔اصول یہ کہ ریاست کا صدر اور گورنر کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ یا رکن نہیں رہے گا اور اگر ہوگا تو اس سے استعفیٰ دے گا، اس کی سیاسی سرگرمیاں بھی نہیں ہوں گی لیکن خیبر پختون خواہ کے گورنر فیصل کریم کنڈی پریس کانفرنس کرتے ہیں ،اتنی سمجھ تو کرکٹ کے شائقین بھی رکھتے ہیں کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی ٹیسٹ میچ نہیں کھیل پاتے ، یہ سیاست سے وابستہ افراد کو سیاسی چسکا کیسے چھوٹے گا؟ باز پرس کرنی ہی ہے تو گورنر صاحب وزیر اعلیٰ کو بلاکر پوچھیں کہ ضلع شمالی وزیرستان کی بچی میں پولیو کا کیس سامنے آیا ہے ، ہم آپ کی نیت پر شک کے دائرے سے خود کو باہر رکھیں گے اگر اس کے نتائج عوام کے حق میں آتے ہیں تو اور ہمیں کیا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اگر اس کی مذمت فرمائیں کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں گرتے پڑتے چلیں یا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر سنگ سنگ؛ کم از کم ہمارے بچے بچیاں تو ایسے نہ چلیں ، ایسے واقعات کو سیاسی طور پر کیش کرلیں ،متاثرین کی عملی (زبانی کلامی نہیں ) داد رسی کریں ، ہم اسے سراہیں گے ،ہاں جہاں مذہبی جذبات کو کیش کرنے کی کوشش کی وہاں ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مدد راستے میں ہے ،ٹرمپ
اس دعویٰ پر ہمیں وہ بحری بیڑا یاد آگیا جو کبھی نہیں پہنچا۔ میاں بیوی کا اختلاف ہوتو بیرونی مداخلت سے لے کر ملکوں میں لے گئی بیرونی امداد تک ، یہ مشیران بہی خواہ بھی ہوسکتے ہیں اور نہیں بھی لیکن نوبت یہاں تک پہنچنا ہی خطرے کی گھنٹی ہے ۔یہاں مجھے ڈاکٹر جاوید احمد غامدی کی ایک گفتگو یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے ”خارجی” اصطلاح کی وضاحت فرمائی تھی ۔ جس نتیجے پر میں پہنچی ہوں؛ مختلف افرد یا گروہوں کے مختلف ردّ ِ عمل ہوتے ہیں، ایک فرد یا ہم خیال افراد یا گروہ جب یہ دیکھتاہے کہ وہ اکثریت یا مقتدرہ سے متفق نہیں تو وہ الگ ہوجاتے ہیںاور جوابی سرگرمیوں کو بھی اپنا شعار نہیں بناتے ،ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو متوازی اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے ، لیکن ان دونوں گروہوں سے بڑھ کر ایک گروہ وہ وجود میں آتا ہے جو اپنی سرگرمیوں کے ساتھ خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں جت جاتا ہے اور پھر ان میں سے کچھ وہ پیدا ہوتے ہیں جو مخالفت میں مسلح ہو کر میدا ن میں اتر آتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جس کو بھی زمین اوراپنی اور دوسروں کی جان پیاری ہے اور وہ مقتدرہ کے خلاف مسلح کارروائیوں کی حمایت کرے گا اس کا انجام بھیانک ہوگا۔ ہمارے سامنے مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے سورمائوں کی مثالیں بھی ہیں اور سیاسی جدوجہد کو مشعل راہ بنانے والوں کی بھی ۔ٹرمپ کے مخاطبین ایران حکومت مخالفین ہیں اور اگرایرانی حکومت مخالف تحریک کے رہنمائوں کو یہ منظورر ہے تو ان کی خدمت عالیہ میں ان ہی کی زبان کا یہ مقولہ عرض ہے کہ ”بریں عقل و دانش بباید گریست ( ایسی عقل و دانش پر تو رونا چاہیے)۔
جن پہ تکیہ تھا
ایک طرف ٹرمپ ایران حکومت مخالفین کی مدد کا عندیہ دے رہے ہیں تو دوسری طرف وہی امریکہ جو ہمیشہ اپنے شہریوں کا غرور رہا ،جس سے ہم مرعوب رہے ،امریکی شہریت کے چاہے دوسرے درجے کے شہری سہی لیکن خواہش مند اور کچھ ذاتی مشاہدے کہ امریکی شہری پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں رہنے والا بھی صحت سے وابستہ مراعات حاصل کرتا ہے لیکن یہ کیا کہ امریکہ نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت بھی کردی اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسے انتظامات کریں جن سے امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ ہو ، یہ ترجیہات کی کیسی الٹ ہے ،یہ امریکی شہری کیا ریمنڈ ڈیوس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ اس تمام صورت حال میں امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کی قیادت میں ان کے سینئر معاونین کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ پرزور دیا گیا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے ۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس مشورے پر عمل نہیں کریں گے تو دنیا کو طاقت کی ضرب الامثال یاد دلائیں گے ،مائیٹ از رائیٹ ، یہ اپنی زبان میں ہمارے حکمران بھی جانتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
ٹیرف جنگ
امریکہ کے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ٢٥ فی صد ٹیرف کا فوری نفاذ سے تو نہیں لگتا کہ وہ نائب صدر کے مشورے پر ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں گے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان کاٹیرف کے اندھا دھند نفاذ کے خلاف بیان ہے کہ ٹیرف و تجارتی جنگیں کسی کے مفاد میں نہیںاور اس سلسلے میں چین کا موقف واضح اور مستقل ہے۔
ولی بابر قتل کیس کے ٢٥ سال
جرائم کی شرح کے مقابلے میں عدالتیں چھوٹی پڑ گئی ہیں ۔ مقدمے اتنے کھنچتے ہیں کہ مجرم قدرتی یا غیر قدرتی انجام کو پہنچ جاتے ہیں ، یا کوئی انصاف کی تاخیر سے مایوس ہوکر پہنچا دیتا ہے یا پیسہ کھلا کے قانونی طریقے سے پہنچوا دیتا ہے،اس مقدمے کے بھی چھے گواہان سمیت نو افراد قتل ہوگئے۔ عدالت میں مقدمہ چلتا رہے لواحقین کی کسی حد تک داد رسی ہوجاتی ہے ۔ ماورائے عدالت قتل بھی تومتوازی ماورائے عدالت انصاف بھی ، لیکن یہ سب کتنا ہیبت ناک ہے ۔
٭٭٭